پُرتشدد احتجاج،تاریخ، پسِ منظر اور حل
تحریر: سلمان احمد قریشی
ایک دفعہ پھر خبریں آئیں کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے نتیجے میں ایمبولینس کو راستہ نہیں مل سکا، مریض ہسپتال تک نہیں پہنچ سکے، پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی اور عام شہری مشکلات کا شکار ہوئے۔ مقصد کچھ بھی ہوکسی گروپ یا جماعت کی جانب سے سڑکیں بند کرنا اور احتجاج میں تشدد کا عنصر شامل کرنا قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے کہ جب جس کا دل چاہتا ہے اپنے مطالبے کو لے کر سڑکیں بند کر دیتا ہے۔ ایسا کرنے کی اجازت نہ قانون دیتا ہے نہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔یہاں تک کہ مذہبی اجتماعات کے لیے بھی راستہ بند کرنا ثواب نہیں بلکہ اسلامی اصولِ حقوق العباد کی نفی ہے لیکن یہ سلسلہ جاری ہے۔دوسری طرف لا اینڈ آرڈر کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور قانون کا حرکت میں آنا زیادتی نہیں بلکہ عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیے مگر کہیں تشدد یا خون خرابہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس پاکستان میں سیاسی یا مذہبی احتجاج اکثر توڑ پھوڑ، سڑکوں کی بندش اور عوامی تکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ صرف قانون کا نہیں اخلاق اور شعور کا بحران بھی ہے۔
قرآن مجید میں بھی برتاؤِ عوام اور راستے بند کرنے جیسے عمل کی مذمت کے واضح اشارے موجود ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”إِنَّکُمْ تَقْرَبُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِیلَ” (سورہ العَنکبوت، آیت 29) ”بے شک تم لوگوں کے قریب ہوتے ہو اور راستوں کو روکتے ہو اور اپنی مجالس میں ہر ناپاکی کرتے ہو۔” اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے”وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ” (سورہ البقرہ، آیت 11) جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، حالانکہ وہی لوگ فساد کر رہے ہوتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھی راستوں کی حقوق کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ راستوں یا راہوں کو بند کرنا، لوگوں کو تکلیف پہنچانا درست عمل نہیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو لوگ راستوں سے نقصان دور کرتے ہیں اللہ اس کی نیت کو قبول فرماتے ہیں اور اجر دیتے ہیں۔ ان آیات و احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی راستوں کو بند کرنا، ہنگامی خدمات کو متاثر کرنا اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا دینِ اسلام میں قبول نہیں۔
پاکستان میں احتجاج کی سیاست نئی نہیں اس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے بعد کے برسوں میں مزدور تحریکوں اور طلبہ یونینوں تک جاتی ہیں مگر پرتشدد احتجاج کی باقاعدہ روایت ستر کی دہائی میں شدت سے نظر آئی۔ 1977ء کی پی این اے تحریک نے سیاسی کشیدگی کو آئینی بحران میں تبدیل کر دیا جب منتخب حکومت کے خلاف احتجاجات اور تشدد نے بالآخر فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں صحافتی اور طلبہ مظاہرے، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں تاریخ کا دردناک حصہ بنیں۔ 2007ء کی وکلاء تحریک نے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے مثبت مثال قائم کی، تاہم اس کے پس منظر میں سیاسی مفادات اور مختلف مقاصد بھی زیرِ نظر رہے۔2013ء تا 2014ء مذہبی و سیاسی دھرنے جب تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا بعد ازاں تحریکِ انصاف نے 2014ء میں دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا جو 126 دن جاری رہا۔ دارالحکومت کے دل میں یہ دھرنا حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بنا۔ سڑکیں بند، دفاتر مفلوج، اور کاروبار ٹھپ رہے۔ اگرچہ دھرنے کا آغاز پُرامن انداز میں ہوا مگر پولیس سے تصادم اور پارلیمنٹ کے گیٹ توڑنے جیسے مناظر نے اس کے تشدد آمیز پہلو کو اجاگر کیا۔ 2014ء کے مذہبی اور سیاسی دھرنوں نے دارالحکومت کو طویل عرصے تک مفلوج رکھا 2017ء تحریک لبیک کا مشہور زمانہ فیض آباد دھرنا اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ گیا۔ یہ احتجاج ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو مفلوج کر دیا۔ مذہبی نعرے بازی کے ساتھ تشدد، پولیس پر حملے اور عوامی نظام کی تباہی نے پورے ملک کو متاثر کیا۔ سپریم کورٹ نے بعدازاں فیض آباد دھرنا کیس میں واضح کیا کہ ریاست کی کمزوری اور طاقتور گروہوں کی بلیک میلنگ نے خطرناک مثال قائم کر دی۔
تازہ ترین دور میں 2021ء تا 2023ء کے واقعات، بشمول 9 مئی 2023ء، نے یہ سوال پیدا کیا کہ احتجاج اور بغاوت کی حدود کہاں ہیں، اور ریاست اس کا مقابلہ کیسے کرے گی۔حالیہ برسوں میں تحریکِ لبیک، پی ٹی آئی اور مختلف تنظیموں کے احتجاجوں نے ایک نیا رجحان پیدا کیا۔ پرامن احتجاج کی بجائے فورس شو خاص طور پر 9 مئی 2023ء کے واقعات نے ملک کے سیاسی چہرے پر سیاہ داغ چھوڑا۔ سرکاری عمارات اور فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ اس دن کے بعد یہ بحث ناگزیر ہوگئی کہ پاکستان میں احتجاج اور بغاوت کی لکیر کہاں کھینچی جائے۔
اگرپرتشدد احتجاج کے اسباب کا جائزہ لیں تو سیاسی انتقام اور اشتعال انگیزی اسکی بنیاد ہے۔اکثر جماعتیں مخالف حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے عوامی احتجاج کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔پرتشدد احتجاج کے اسباب واضح ہیں، سیاسی انتقام، اشتعال انگیزی اور مقاصد کے حصول کے لیے احتجاج کو ہتھیار بنانا انتظامی کمزوریاں جن میں مظاہروں کی پیشگی منصوبہ بندی، پرمٹ کے نظام کا فقدان اور پولیس کی غیر مناسب حکمتِ عملی شامل ہیں۔ معاشی مایوسی اور سماجی ناانصافی جو عوام کو آواز بلند کرنے پر مجبور کرتی ہے۔سوشل میڈیا کا منفی استعمال جو غلط معلومات پھیلاتا اور اشتعال بھڑکاتا ہے اور بعض اوقات سیاسی قیادت کی طرف سے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے انہیں بھڑکانا۔ ان عوامل کا مجموعہ ہر بار پرامن احتجاج کو ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں بدل دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہسپتال پہنچنے والی ایمبولینسیں روک دی جاتی ہیں، روزگار متاثر ہوتا ہے۔تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ پولیس اور عوام میں دشمنی پیدا ہوتی ہے اور ملک کا بین الاقوامی تشخص متاثر ہوتا ہے اور اندرونی المناک پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ احتجاج کے حق اور قانون کی حکمرانی دونوں کو متوازن انداز میں قائم رکھا جائے۔ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے مگر اس حق کی مشق اس حد تک ہونی چاہیے کہ دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھے اور ساتھ ہی مظاہرین کی بنیادی آزادیوں کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔اس سنگین صورتحال سے بچنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ احتجاج کے لیے واضح شرائط اور شفاف پرمٹ کا نظام ہونا چاہیے تاکہ بڑے مظاہروں کی پیشگی منصوبہ بندی ممکن ہو اور ہنگامی سروسز کے لیے مخصوص روٹس محفوظ رکھے جائیں۔ بڑے شہروں میں مختص احتجاجی مقامات متعین کیے جائیں جہاں پر امن طریقے سے آواز اٹھائی جا سکے اور معمول زندگی متاثر نہ ہو۔ پولیس فورس کو ہجوم کنٹرول کے جدید، غیر مہلک طریقوں کی تربیت دی جائے اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مستقل مکالمہ فورم قائم کیے جائیں تاکہ عوامی شکایات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں اور احتجاج آخری آپشن بنے۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے شہری ذمہ داری، قانون اور حقوق العباد کی تعلیم پر زور دیا جائے تاکہ آئندہ نسلیں پرامن اور مہذب احتجاج کو فروغ دیں۔ میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی پاسداری بھی لازم ہے تاکہ اشتعال انگیز کوریج سے گریز کیا جائے اور ذمہ دار رپورٹنگ کو فروغ ملے۔ فوری اور موثر عدالتی و انتظامی ریلیف میکانزم بھی قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کے حقوق کی بحالی کے لیے آسان راستے میسر ہوں۔
پاکستان میں احتجاج کی روایت جمہوری اقدار کا حصہ ہے مگر جب یہ تشدد، نفرت یا انتشار میں بدل جائے تو وہ حق نہیں بلکہ جرم بن جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی مل کر ایسی سماجی فضا قائم کریں جہاں احتجاج اظہارِ رائے کا مہذب ذریعہ بنے نہ کہ افراتفری اور خوف کی علامت بن جائے۔ اگر ہم نے اپنی آئینی اور دینی تعلیمات کو سچا، منظم اور اخلاقی انداز میں اپنایا تو عوامی راستوں کا احترام بحال ہوگا اور ہنگامی خدمات، خاص طور پر ایمبولینسیں بلا تعطل اپنے فرائض انجام دے سکیں گی۔مقاصد اور
مطالبات بھی جائز،دینی اورقومی خدمات بھی انجام دی جاسکیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










