عوام کو ریلیف حقیقت یا وقتی آسرا؟
تحریر وترتیب: محمد زاہد مجید انور
*وزیراعظم پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی منظوری نے عوام کے چہروں پر عارضی مسکراہٹ ضرور بکھیر دی ہے۔ طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آئے روز بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے یہ کمی کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 66 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل میں ایک روپے 39 پیسے کی کمی کے بعد نئی قیمت 275 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے کی کمی کے بعد نئی قیمت 181 روپے 71 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 2 روپے 74 پیسے کم ہو کر 162 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ بظاہر یہ فیصلے عوام کو ریلیف دینے کے جذبے سے کیے گئے ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس کمی کے اثرات واقعی عام آدمی تک پہنچ پائیں گے یا نہیں؟پاکستان میں ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک نہیں پہنچ پاتا۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے، اشیائے خوردونوش، اور روزمرہ کی دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں کمی شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری جانب جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو مہنگائی کی لہر لمحوں میں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی دوہرا معیار عام شہری کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔وزیراعظم کا یہ قدم یقینی طور پر مثبت سمت میں پیش رفت ہے، مگر ضروری ہے کہ اس ریلیف کو زمینی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر، اشیائے خوردونوش اور صنعتوں میں اس کمی کا فائدہ منتقل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ کمی صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے گی۔حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہوگا جب حکومت صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عوام کے روزمرہ اخراجات میں آسانی پیدا کرے۔ قیمتوں میں یہ کمی اگرچہ وقتی آسودگی فراہم کرے گی، مگر دیرپا خوشحالی کے لیے معاشی استحکام، روزگار کے مواقع، اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اعتدال ناگزیر ہے۔فی الحال عوام دعاگو ہیں کہ یہ کمی وقتی دکھاوا نہ ہو بلکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کے طوفان کے سامنے ایک مضبوط دیوار ثابت ہو۔*










