پرانی یادیں… ایک یادگار لمحہ حاجی عبدالمجید انور اور اہلِ قلم کی خوبصورت محفل
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*وقت کا سفر جاری رہتا ہے، لیکن کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو یادوں کے چراغ بن کر دل و دماغ کو ہمیشہ روشن رکھتے ہیں۔آج انہی سنہری یادوں میں سے ایک لمحہ ذہن کے پردے پر تازہ ہو گیا، جب جناب عامر ذوالفقار خاں جو بعد ازاں آئی جی پولیس اسلام آباد کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوئے اُس وقت ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔یہ اُس زمانے کی بات ہے جب صحافت خلوص، شرافت اور سچائی کا آئینہ تھی۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونے والی ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اہلِ قلم اور پولیس افسران ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع تھے۔یہ محفل دراصل صحافت اور خدمتِ عوام کے اُس رشتے کی تصویر تھی جو اعتماد، احترام اور سچائی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔اس یادگار تقریب میں میرے عظیم والد مرحوم حاجی عبدالمجید انور (نمائندہ روزنامہ جنگ و جیو نیوز) نمایاں حیثیت میں موجود تھے۔ اُن کے ساتھ اس وقت کے ڈسٹرکٹ پریس کلب کے صدر میاں منظور احمد ناز، سینئر صحافی میاں طاہر، میاں احسان الحق برکی مرحوم، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ عابد مرحوم اور سینئر صحافی میاں ضمیر حسین مرحوم بھی موجود تھے۔یہ سب وہ شخصیات تھیں جنہوں نے اپنے قلم، کردار اور خدمت سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی صحافت کو ایک سنجیدہ اور باوقار شناخت دی۔پریس کانفرنس کا وہ منظر آج بھی دل میں تازہ ہے ایک طرف عوامی مسائل پر کھلی گفتگو، دوسری طرف صحافیوں کے جاندار سوالات اور ایس پی عامر ذوالفقار خاں کے مدلل، پروفیشنل جوابات۔یہ وہ وقت تھا جب افسران اور صحافیوں کے تعلقات باہمی احترام، شفافیت اور عوامی مفاد کے محور پر استوار تھے۔میرے والد مرحوم حاجی عبدالمجید انور جیسے بااخلاق اور دیانتدار صحافی کا اندازِ گفتگو ہمیشہ متوازن اور باوقار رہا۔ وہ سخت سوال بھی نرمی سے کرتے تھے، مگر سوال ایسا ہوتا کہ سماج کے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا۔ یہی ان کی صحافت کا خاصہ تھا نرم لہجہ، مگر مضبوط مؤقف۔آج جب ان تمام شخصیات کی یاد آتی ہے تو دل نم ہو جاتا ہے۔میاں احسان الحق برکی مرحوم، میاں ضمیر حسین مرحوم، عابد مرحوم اور میرے والد محترم حاجی عبدالمجید انور یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں عوامی خدمت، سچائی کے فروغ اور صحافتی وقار کے تحفظ کے لیے وقف کر دیں۔ “اللہ تعالیٰ ان سب مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔” اختتامیہ:یہ پرانی تصویر صرف ایک فوٹوگراف نہیں بلکہ ایک دورِ صحافت کی علامت ہے وہ دور جب خبر کے پیچھے نیت خالص اور مقصد عوامی بھلائی ہوتا تھایہ تصویر اہلِ قلم کی یکجہتی، باہمی عزت اور ذمہ داری کے اُس عہد کی یاد دلاتی ہے جسے آج کے دور میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔پرانی یادیں وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتیں…بلکہ وہ ہمارے اندر نئی روشنی، نیا حوصلہ، اور نئی سمت پیدا کرتی ہیں۔*










