صحافیوں کے خلاف جرائم سے استثنیٰ کا خاتمہ ایک ادھورا وعدہ
تحریر . محمد زاہد مجید انور
*آج دنیا بھر میں “صحافیوں کے خلاف جرائم سے استثنیٰ کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یاد دہانی نہیں، بلکہ ان بے شمار قربانیوں کی علامت ہے جو صحافیوں نے سچ کے لیے دی ہیں۔ امن ہو یا جنگ، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا اقتدار کے ایوانوں میں چھپے حقائق کو بے نقاب کرنا ہو، ہر حال میں سچ عوام تک پہنچانا ایک صحافی کا مشن ہوتا ہے ایک ایسا مشن جس کی قیمت اکثر جان سے چکانی پڑتی ہے۔دنیا بھر میں ہر سال درجنوں صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ کوئی جنگی میدان میں نشانہ بنتا ہے، کوئی سیاسی طاقتوں کے عتاب کا شکار، تو کوئی مافیاز اور کرپشن کے نیٹ ورک کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ مگر سب کا جرم ایک ہی ہوتا ہےحق گوئی پاکستان میں صحافت کی تاریخ جرات، قربانی اور استقامت سے بھری ہوئی ہے، لیکن افسوس کہ یہ ملک آج بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، گزشتہ 15 سالوں میں صحافیوں کے قتل کے 96 فیصد واقعات میں ملوث ملزمان کو کوئی سزا نہیں ملی۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں، بلکہ انصاف کے نظام پر ایک تلخ سوالیہ نشان ہیں۔اگرچہ صحافیوں کے تحفظ کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے، مگر افسوس کہ اس پر مؤثر عمل درآمد تاحال خواب ہی ہے۔ جب تک قانون کاغذوں سے نکل کر عدالتوں اور اداروں تک نہیں پہنچتا، تب تک صحافی غیر محفوظ ہی رہیں گے۔پاکستانی صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ مگر آج وہی آوازیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ دھمکیاں، جھوٹے مقدمات، حملے، اور سماجی کردار کشی — یہ سب ایسے ہتھیار ہیں جن سے آزادی صحافت کو محدود کیا جا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض بیانات یا اعلانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے۔صحافیوں کے خلاف جرائم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کیا جائے۔اور سب سے بڑھ کر، آزادی اظہار کو آئین کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قلم اور کیمرہ محض اوزار نہیں بلکہ قوم کی آنکھیں ہیں۔ اگر یہ آنکھیں اندھی کر دی جائیں تو معاشرہ سچ سے محروم ہو جاتا ہے۔آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم اُن تمام صحافیوں کو سلام پیش کریں گے جنہوں نے اپنی جانیں دے کر سچ کی شمع روشن رکھی، اور اُن کے لیے انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک آواز بلند کرتے رہیں گے*








