نیا باب یا عارضی عنوان؟

تحریر: سلمان احمد قریشی

پاکستان کی سیاست ہمیشہ تغیر و تبدل کی نگری رہی ہے۔ یہاں جماعتیں بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں۔ نئی سیاسی کہانیاں ہر چند سال بعد نئے کرداروں کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ کبھی فوجی ادوار میں اقتدار کے منصوبے کے تحت، کبھی عوامی بیداری کے نام پر اور کبھی اصلاحِ نظام کے نعرے کے ساتھاایسا ہوتارہا۔ آج ایک مرتبہ پھر سیاسی فضا میں نئے ناموں اور نئی جماعتوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پرویز خٹک کی ”خیبر عوامی پارٹی” ہو یا مصطفیٰ نواز کھوکھر اور شاہد خاقان عباسی کا ”غیر جماعتی سیاسی ماڈل”، سابق گورنر عشرت العباد کی واپسی ہو یا گلوکار جواد احمد کی ”برابری پارٹی”، سب کسی نہ کسی عنوان کے تحت ایک ”نئے باب” کا دعویٰ کر رہے ہیں۔اور اب اسی منظرنامے میں ایک غیر روایتی نام اقرار الحسن اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ اقرار الحسن جنہیں عوام نے بطور صحافی، اینکر اور سماجی کارکن کے طور پر جانا، جنہوں نے ٹی وی اسکرین پر کرپشن، ناانصافی، اور معاشرتی تلخیوں کو بے نقاب کیا۔ مگر اب وہ کیمرے کے پیچھے سے نکل کر عوامی میدان میں آنے کی بات کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا یہ واقعی ایک نیا سیاسی باب ہے یا صرف ایک عارضی عنوان جو جلد کسی اور نام سے بدل دیا جائے گا۔۔؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ”نئی جماعت“ کا تصور نیا نہیں۔ 1990ء کے عشرے میں تحریکِ انصاف کی آمد نے بھی ابتدا میں ”عوامی نعرہ“ کے ساتھ خود کو ایک متبادل قوت کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرز پر حالیہ برسوں میں کئی شخصیات نے روایتی سیاست سے بیزار ہو کر اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پرویز خٹک، جو کبھی عمران خان کے قریبی ساتھی اور خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ رہے، آج اپنی ”خیبر عوامی پارٹی“ کے ذریعے صوبائی سیاست میں ایک نیا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک وفاقی جماعتوں نے صوبوں کے حقوق کو ہمیشہ پسِ پشت ڈالا، لہٰذا ان کی سیاست علاقائی شناخت پر مرکوز ہے۔اسی طرح مصطفیٰ نواز کھوکھرپی پی پی اور شاہد خاقان عباسی جو مسلم لیگ (ن) سے فکری اختلافات کے باعث علیحدہ ہوئے اب ایک ”غیر جماعتی سیاسی ماڈل“ متعارف کروانے کے خواہاں رہے۔ ایسا پلیٹ فارم جو سیاست کو طبقاتی و خاندانی اجارہ داریوں سے آزاد کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی کو پارٹی ٹکٹس اور سرمایہ دارانہ تسلط سے بچانا ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ادھر سابق گورنر سندھ عشرت العباد، جو عرصے تک ایم کیو ایم کا معتدل چہرہ سمجھے جاتے تھے، دبئی میں طویل خاموشی کے بعد دوبارہ منظر عام پر آئے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت بنانے کی بات کر تے رہے جو کراچی کی سیاست کو ”تشدد سے پاک اور انتظامی اصلاحات پر مبنی” بنائے۔گلوکار جواد احمد کی ”برابری پارٹی پاکستان“ بھی ایک منفرد تجربہ ہے، جو طبقاتی ناہمواریوں کے خلاف عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم زمینی سیاست میں اسے اب تک خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔
ان تمام مثالوں کے درمیان اگر اقرار الحسن کو دیکھا جائے تو ان کی حیثیت ”نظری سیاستدان” کی نہیں بلکہ ”سماجی اثر رکھنے والے عوامی چہرے” کی ہے۔ وہ میڈیا کے ذریعے عوام سے براہِ راست جڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور شاید سب سے بڑا امتحان بھی ہو۔اقرار الحسن کی شخصیت میں دو جہتیں نمایاں ہیں ان کا صحافتی و سماجی کردار، جس میں وہ کمزور طبقات کے مسائل اجاگر کرتے ہیں، سرکاری اداروں کی کوتاہیوں کو منظرِ عام پر لاتے ہیں اور ”سرعام“ جیسے پروگرام کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرتے ہیں۔ دوسری جہت ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی گفتگو ہے، جو اب میڈیا کی حدود سے نکل کر عملی سیاست کے اشارے دے رہی ہے۔
حال ہی میں ان کی سرگرمیاں، عوامی رابطے اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ وہ ”سیاست میں قدم رکھنے” کے فیصلے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ ایک ایسی جماعت کے خدوخال پر کام کر رہے ہیں جو عام شہری کو براہ راست فیصلہ سازی میں شریک کرے یعنی ”عام آدمی“ کی نمائندہ قوت بن سکے۔اقرار نے واضح کیا ہے کہ وہ ذاتی عہدہ نہیں چاہیں گے بلکہ ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیں جو عام آدمی، نوجوان، پیشہ ور افراد اور تعلیم یافتہ حلقے سیاست کی جانب لائے۔ اقرار الحسن کا کہنا ”ہمیں ایک ایسی جماعت چاہیے جس میں عام نوجوان پارٹی چیئرمین بن سکتا ہے، وزیراعظم بن سکتا ہے، خاندانی سیاست کی بجائے اداروں کی سیاست ہو“یہ بیان پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتوں کے پس منظر کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے، جہاں خاندانوں، شخصیات اور سیاسی وراثت کا عمل غالب رہا ہے۔یہ جذباتی اعلان پاکستانی سیاست کے موجودہ ماڈل کے خلاف ایک چیلنج کی طرح ہے، جہاں سابقہ تجربات نے اکثر یہی دکھایا ہے کہ شخصیات اور ان کے گرد سیاسی مشینری بن جاتی ہے نہ کہ ادارے بنتے۔اگرچہ اقرار الحسن کا اعلان نیا آئیڈیا ہے مگر اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے متعدد اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں۔پاکستان کی سیاست میں دو یا تین مرکزی جہتیں غالب ہیں خاندان، علاقائیت، اور شخصیت پرستی۔ اقرار نے یہ ماڈل چیلنج کیا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ان سیاسی طاقتوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا جن کے پاس روایتی بنیادیں، وسائل اور نیٹ ورک موجود ہیں۔مزید یہ کہ ایک نیا پلیٹ فارم جسے“عام آدمی”کا نمائندہ بننا ہے، اسے وسائل، میڈیا کور، انتخابی بنیاد اور عوامی رابطہ کار بنانے کی فوری ضرورت ہے۔اگر اقرار کا اعلان ”تحریک“ سے آگے بڑھے اور پارٹی بن جائے، تو اسے اندرونی جمہوریت، شفاف انتخابی عمل، مالی شفافیت، اور رہنماؤں کی تبدیلی کے میکانزم بتانے ہوں گے۔ ورنہ یہ وعدہ صرف بیان تک محدود رہ جائے گا۔تاہم یہ راہ آسان نہیں۔
پاکستانی سیاست میں میڈیا شخصیات کا سیاست میں آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر سوال یہ ہے کہ عوام ان چہروں کو سیاستدان کے طور پر قبول کرتے ہیں یا محض مبصر کے طور پردیکھتے ہیں۔۔؟موجودہ سیاسی منظر میں عوام کی مایوسی، ادارہ جاتی بے اعتمادی، اور مہنگائی کی چکی نے ایسے خلا کو جنم دیا ہے جسے کوئی ”نئی آواز” پُر کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان کی تحریکِ انصاف، جس نے کبھی تبدیلی کا خواب دکھایا، خود اب سیاسی بحران کا شکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی پرانی سیاست عوام کو متبادل دینے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں اقرار الحسن جیسے ”عوامی چہروں ” کے لیے جگہ ضرور موجود ہے لیکن اس جگہ کو پائیدار بنانا اصل امتحان ہے۔ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ میڈیا کی مقبولیت کو سیاسی اعتماد میں کیسے بدلتے ہیں؟ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ محض شہرت سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ سیاست نظریاتی وابستگی، تنظیمی ڈھانچے، اور عوامی تائید کی مسلسل محنت سے پروان چڑھتی ہے۔سوال اب یہی ہے کہ کیا اقرار الحسن واقعی ایک نیا سیاسی باب رقم کر پائیں گے یا یہ بھی چند مہینوں کی سرگرمی کے بعد کسی اور خبر میں تبدیل ہو جائے گا۔۔؟ ان کی نیت، صلاحیت اور عوامی تائید تینوں عوامل ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
تاہم ایک بات طے ہے پاکستان کی سیاست اس وقت ایک خلائی مرحلے (political vacuum) سے گزر رہی ہے، جہاں عوام نئی قیادت کے منتظر ہیں۔ اگر اقرار الحسن واقعی اس خلاء کو پر کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہوگی بلکہ پاکستانی سیاست کے لیے بھی ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ان کی سیاست بھی وہی پرانے نعروں، جلسوں اور وعدوں میں الجھ گئی تو یہ تجربہ بھی تاریخ کی فائلوں میں ایک ”عارضی عنوان“ بن کر رہ جائے گا۔اقرار الحسن کی تحریک کی کامیابی تین بنیادی راستوں پر منحصر ہو سکتی ہے اگر تحریک منظم انداز سے بڑھتی ہے۔یعنی ضلعی صدور، نوجوان کارکنان اور مقامی رابطے بنائے جاتے ہیں تو یہ قومی سطح پر“تیسری قوت”بن سکتی ہے۔ پاکستان کے معاشرتی و سیاسی ماحول میں جہاں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، ایک نوجوان مرکزیت والی جماعت کو قدر مل سکتی ہے۔مزید یہ کہ اگر یہ پارٹی تعلیم یافتہ حلقوں، میڈیا، سول سوسائٹی سے جڑ جائے، تو وہ“عوام کا نمائندہ”بننے کی دعوے کو عملی بنائے گی۔تحریک کو ضروری ہے کہ وہ ایسا منشور تیار کرے جس میں روزمرہ مسائل روزگار، تعلیم، صحت، شفاف حکومت کے حل پیش کیے جائیں۔ صرف“نئے افراد”کا نعرہ کافی نہیں، بلکہ حل کا منصوبہ بھی درکار ہے۔ اس کے ساتھ، علاقائی مساوات، معاشی ترقی اور احتساب جیسے موضوعات پر واضح موقف اپنانا ہوگا۔
اگر تحریک ذاتی تشہیر تک محدود رہ جائے یا جمہوری عمل کی بجائے شخصی قیادت کا ماڈل اختیار کرے، تو یہ وہی روایتی جماعت کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے وہ فرار چاہتی تھی۔پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کی اس مہم کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ پلیٹ فارم صرف قیامِ جماعت تک محدود نہ رہے بلکہ عوامی مسائل کا ٹھوس حل پیش کرے، اپنے اندر شفافیت اور مسابقتی عمل کو مضبوط بنائے اور نوجوانوں کو مرکزی مقام دے۔اگر ایسا ہوا، تو“اقرار الحسن تحریک”پاکستان میں ایک نمایاں نیا باب ثابت ہوگی نہیں تو یہ ایک عارضی عنوان کے طور پر تاریخ میں رقم رہ جائے گی۔