قرآن کی روشنی میں نئی نسل کا سفر،ایک قابلِ فخر لمحہ
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی بابرکت سرزمین ہمیشہ سے علم، دین اور خدمتِ انسانیت کے چراغ روشن کرنے والوں کی پہچان رہی ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے نواحی چک نمبر 397 ج ب کے معروف سیاسی و سماجی زمیندار، میاں آصف محبوب کے صاحبزادے محمد عمر محبوب نے جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مکمل حفظِ قرآنِ مجید کی سعادت حاصل کی، تو گویا اس علاقے کی فضاوں میں ایمان کی خوشبو بکھر گئی۔ یہ لمحہ نہ صرف میاں آصف محبوب اور ان کے خاندان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ پورے علاقے کے لیے روحانی مسرت کا پیغام بن گیا۔قرآنِ مجید کا حافظ بننا محض ایک تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ایک عظیم سعادت، ایک نعمت اور ایک ذمہ داری ہے۔ حافظِ قرآن وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہیں ربِ کریم اپنی خاص رحمتوں کے سایے میں جگہ دیتا ہے۔ ان کے والدین کے سروں پر قیامت کے دن نور کے تاج رکھے جائیں گے — اور یہی وہ مقام ہے جس کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔محمد عمر محبوب کی کامیابی دراصل اُن کے والدین کی نیک تربیت، مسلسل محنت اور خلوصِ دل کا ثمر ہے۔ والدین نے نہ صرف دینی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا بلکہ اپنے بیٹے کے اندر قرآن سے محبت پیدا کی۔ اس محبت نے اُنہیں اُس عظیم سفر پر گامزن کیا جو دلوں کو منور کرتا ہے، کردار کو سنوارتا ہے اور روح کو سکون بخشتا ہے۔علاقے کی مذہبی، سماجی اور عوامی شخصیات نے میاں آصف محبوب اور ان کے اہلِ خانہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید کا حافظ بننا کسی خاندان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ عوامی حلقوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ محمد عمر محبوب کو قرآنِ پاک پر عمل کرنے، اسے دوسروں تک پہنچانے اور دینِ اسلام کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر علاقے میں خوشی اور ایمان افروز مسرت کی فضا قائم رہی۔ اہلِ علاقہ کی جانب سے حافظِ قرآن کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں علمائے کرام، معتبر شخصیات اور عام شہریوں نے شرکت کی۔یہ لمحہ ہم سب کے لیے یاددہانی ہے کہ قرآن ہی وہ سرچشمہ ہے جو انسان کو روشنی، سکون اور نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ہماری نئی نسل اس مقدس کتاب سے جڑ جائے تو معاشرہ خود بخود علم، امن اور کردار کی بلندیوں کو چھو لے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کا مرکز بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*










