خدمت، خلوص اور فنی تعلیم کا استعارہ پروفیسر شاہد اقبال
تحریر محمد زاہد مجید انور
*تعلیم انسان کی شخصیت سنوارنے، کردار نکھارنے اور مستقبل روشن کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور جب بات فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی ہو تو اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہنر مندی کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، وہاں ووکیشنل ادارے نوجوان نسل کو خود کفیل اور عملی زندگی کے قابل بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کردار کو نہایت شاندار انداز میں نبھانے والا ایک معتبر نام ہےپروفیسر شاہد اقبال، جو گزشتہ انیس برس سے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔پروفیسر شاہد اقبال کی قیادت میں یہ ادارہ نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور بہترین تدریسی ماحول کے حوالے سے ایک مثال بن چکا ہے۔ کالج کا دورہ کرنے والا ہر شخص اس کے خوشگوار اور منظم ماحول کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ طلباء و طالبات کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور عملی مہارت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ ادارہ ضلع میں فنی تعلیم کے حوالے سے سب سے زیادہ فعال اور نتیجہ خیز اداروں میں شمار ہوتا ہے۔اس وقت انسٹیٹیوٹ میں تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ طلباء و طالبات مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں جن میں کمپیوٹر آپریٹر، کمپیوٹر ہارڈویئر ریپئرنگ، نیٹ ورک پروفیشنل، ریفریجریشن اینڈ ایئر کنڈیشننگ، آٹو مکینک، انڈسٹریل الیکٹریشن، کلینکل اسسٹنٹ، بیوٹیشن، موبائل فون ریپئرنگ، ٹیلرنگ، الیکٹریشن اور سیٹلائٹ وی ٹی آئی ڈسٹرکٹ جیل جیسے اہم کورسز شامل ہیں۔ یہ تمام تربیتی پروگرام اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ طالب علم نہ صرف عملی ہنر سیکھیں بلکہ خود روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔پروفیسر شاہد اقبال کی انتھک محنت، شرافت، اور فنی تعلیم سے محبت نے اس ادارے کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی زیرِ نگرانی نوجوانوں میں کام کرنے کا جذبہ، وقت کی قدر، اور ہنر کے ذریعے خود انحصاری کا شعور بیدار ہوا ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر ہی انسان کو عملی میدان میں کامیاب بناتا ہے۔عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے پروفیسر شاہد اقبال کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ صرف ایک بہترین منتظم بلکہ ایک مخلص رہنما اور حقیقی معلم بھی ہیں۔ ان جیسے قابل، دیانتدار اور فرض شناس پرنسپل ہی کسی ادارے کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔پروفیسر شاہد اقبال کا عزم ہے کہ وہ مستقبل میں بھی نوجوان نسل کو فنی تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان کی محنت، عزم اور خلوص واقعی ایک مشعلِ راہ ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر نیت خالص اور مقصد تعلیم و خدمت ہو تو کامیابی خود بخود قدم چومتی ہے۔*








