دیہی طلبہ کے لیے سفری سہولت ایک ناگزیر ضرورت

تحریر محمد زاہد مجید انور

*تعلیم ہر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی کا راز تعلیم اور اس کے لیے فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کے کئی دیہی علاقے آج بھی ایسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جو تعلیم کے تسلسل اور معیار کی ضمانت ہوتی ہیں۔ انہی سہولتوں میں سے ایک ہے محفوظ اور باعزت سفری سہولت، جو خصوصاً طالبات کے لیے ازحد ضروری ہے۔حلقہ چٹیانہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ) کے عوام نے حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بس سروس اسکیم کے تحت ایک بس صبح کے وقت 410 ج ب ریلوے پھاٹک سے روانہ ہو کر 409 ج ب، 314 گ ب، 315 گ ب، 306 گ ب، 405 ج ب، 303 گ ب، 302 گ ب، 301 گ ب، 299 گ ب سے گزرتی ہوئی زرعی یونیورسٹی کیمپس / دفتر لوکل گورنمنٹ، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ٹوبہ ٹیک سنگھ تک پہنچے، اور چھٹی کے وقت واپسی پر انہی اسٹاپس پر طلبہ و طالبات کو اتارا جائے۔یہ مطالبہ کسی ذاتی مفاد یا سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ہزاروں دیہی طلبہ و طالبات کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ چٹیانہ اور اس سے ملحقہ دیہات کے اکثر طلبہ روزانہ کئی کلومیٹر سفر کر کے شہر پہنچتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی کمی، مہنگے کرایے اور غیر محفوظ سفری ذرائع نے والدین کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ خصوصاً طالبات کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ ہے۔ والدین کو ہر روز اپنی بیٹیوں کی آمدورفت کی فکر لاحق رہتی ہے، اور بعض اوقات یہی وجہ بن جاتی ہے کہ بچیاں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں۔عوامی نمائندے اور سماجی شخصیات — چوہدری محمد زبیر لیڈر صدر عوامی ورکرز پارٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ، چوہدری راشد فاروق نمبر دار، چوہدری محمد سعید نمبر دار، چوہدری غلام عباس نمبر دار، رانا ظہور چیئرمین یونین کونسل، میاں محمد مسلم چیئرمین 303 گ ب، چوہدری محمد افضل چیئرمین 301 گ ب، میاں آصف بولا 301 گ ب اور میاں ارشد جمیل سابق چیئرمین یونین کونسل — سب نے مل کر وزیراعلیٰ پنجاب سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس علاقے کے لیے بھی بس سروس فراہم کی جائے تاکہ بچوں کو محفوظ، آرام دہ اور سستی سفری سہولت میسر ہو۔یہ مطالبہ دراصل تعلیم کے فروغ اور دیہی ترقی کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ اگر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق اس اسکیم کو چٹیانہ جیسے تعلیمی لحاظ سے فعال مگر سہولیات سے محروم علاقوں تک بڑھایا جائے تو اس کے نہ صرف سماجی بلکہ معاشی اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔ تعلیم یافتہ نوجوان ہی آنے والے کل کے بہتر پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، اور یہ بنیاد اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب ان کے راستے کی مشکلات ختم کی جائیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب اس عوامی مطالبے پر فوری توجہ دے اور چٹیانہ کے دیہی علاقوں میں وزیراعلیٰ بس سروس اسکیم کا دائرہ کار بڑھائے۔ کیونکہ تعلیم تک آسان رسائی صرف سہولت نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی ضمانت ہے۔“تعلیم کا سفر تبھی کامیاب ہوتا ہے جب منزل تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو۔”*