سرد راتیں، بڑھتی نقب زنی شہر کی امن کہانی خطرے میں
تحریر =محمد زاہد مجید انور
*موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ جہاں شہر کی فضا میں خنکی بڑھ رہی ہے، وہیں چوری اور نقب زنی کی وارداتوں نے شہریوں کے دلوں میں ایک نیا خوف پیدا کر دیا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، جو کبھی امن و سکون کی مثال سمجھا جاتا تھا، آج جرائم کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ شہریوں کے چہرے پر پریشانی اور تاجروں کے دلوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔گزشتہ رات شورکوٹ روڈ پر واقع الہلال چوک کے قریب علی موبائل شاپ میں ہونے والی بڑی نقب زنی نے اس خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نامعلوم ملزمان چھت میں نقب لگا کر نہ صرف دوکان میں داخل ہوئے بلکہ لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فونز اور قیمتی اسیسریز بھی ساتھ لے اڑے۔ واردات کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمان نہ صرف ماہر بلکہ پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ مگر شہر کے لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کب تک ایسے گروہ پولیس کی گرفت سے باہر رہیں گے؟ ہر نئی واردات شہریوں کے اعتماد کو ایک نئی ضرب دے رہی ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے شہر اور گردونواح میں چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں۔ اکثر علاقے جہاں کبھی رات گئے تک زندگی رواں دواں رہتی تھی، اب شام ڈھلتے ہی سنسان دکھائی دیتے ہیں۔ تاجر اپنے کاروبار اور شہری اپنے گھروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔اس صورتحال میں ضروری ہے کہ پولیس روایتی گشت بڑھانے کے ساتھ جدید حکمت عملی اپنائے۔ مارکیٹس اور اہم چوکوں میں سیفٹی کیمرے فعال کیے جائیں، پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جائے، اور ایسے واقعات میں ملوث گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں۔امن و امان کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر شہری عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں تو پھر ترقی اور خوشحالی محض خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگوں کی یہی خواہش ہے کہ دوبارہ وہ دن لوٹ آئیں جب شہر کی رونقیں خوف کے بغیر جگمگایا کرتی تھیں۔*










