ایک روشن دل انسان کی یاد میں ایک باوقار زندگی کا روشن چراغ
تحریر محمد زاہد مجید انور
*زندگی کی تیز رفتاری میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی خاموش خدمت، اعلیٰ اخلاق اور بے لوث کردار سے معاشرے میں ایک انمٹ نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کے بچھڑ جانے سے نہ صرف خاندان، بلکہ پورا علاقہ ایک عظیم انسان سے محروم ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں ایسی ہی ایک باوقار، بردبار اور باکردار شخصیت، رانا محمد انور خاں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مرحوم، ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم کا تعلق ایک معزز، بااثر اور خدمتِ خلق میں ہمیشہ آگے رہنے والے خاندان سے تھا۔ وہ رانا محمد امجد رانا (صدر پریس کلب کمالیہ) کے بہنوئی اور رانا محمد منور خاں (سابق آڈٹ آفیسر گلگت بلتستان) کے بڑے بھائی تھے۔ اسی طرح وہ رانا محمد فرحت خاں (پروجیکٹ ڈائریکٹر نیوم سٹی، سعودی عرب) اور رانا محمد فرخ خاں (جی ایم کمال انڈسٹریز فیصل آباد) کے والد محترم تھے۔ قانونی حلقوں میں ان کی پہچان اس نسبت سے بھی تھی کہ وہ ممبر پنجاب بار کونسل گوجرانوالہ رانا سربلند خاں ایڈووکیٹ کے سسر تھے۔مرحوم کے خاندان میں علمی، صنعتی اور قانونی شعبوں سے وابستہ نمایاں نام موجود ہیں، جن میں رانا محمد اعجاز خاں، رانا محمد گلزار خاں ایڈووکیٹ (چیئرمین وکلا تنظیم ضربِ کلیم)، چیف ایگزیکٹو رانا کار پوائنٹ محمد انتظار خاں بھی شامل ہیں۔گزشتہ دنوں ان کی وفات کی خبر پورے علاقے کے لیے رنج و الم کا باعث بنی۔ نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے بوئیکی (نواحی حافظ آباد) میں ادا کی گئی جس میں نہ صرف سپریم کورٹ کے معزز ججز نے شرکت کی بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نامور شخصیات، وکلا برادری، صحافی، سماجی رہنما اور اہلِ علاقہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ اجتماع خود اس بات کا ثبوت تھا کہ مرحوم نے کس قدر محبتیں بٹوری تھیں اور ان کی شخصیت کتنی محترم سمجھی جاتی تھی۔وہ ایک نہایت شریف النفس، وضع دار، ہمدرد، سادہ مزاج اور عبادت گزار انسان تھے۔ ان کا دل اللہ کے ذکر سے ہمیشہ منور رہتا تھا۔ وہ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے، خاموشی سے مدد کے دروازے کھولتے اور عزت و احترام سے پیش آنا ان کی طبیعت کا حصہ تھا۔ ایسے لوگ اصل میں معاشرے کی وہ روشن قندیلیں ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے دوسروں کو رہنمائی اور آسرا فراہم کرتے ہیں۔مرحوم کی وفات پر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی معروف ادبی و صحافتی شخصیت، ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں کے ضلعی صدر اور کالم نگار محمد زاہد مجید انور نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات اور حسنِ اخلاق کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم سادگی، شفقت اور انسان دوستی کی جیتی جاگتی مثال تھے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر پر نور کی بارش فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ایسی شخصیات دنیا سے رخصت تو ہوجاتی ہیں مگر ان کے اخلاق، کردار اور نیکی کے نقوش ہمیشہ یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔*













