احرام کی حالت میں شہادت پانے والے اعجاز الحق اور ان کی اہلیہ کی یاد میں قرآن خوانی بروز پیر 29 جون ان شاء اللہ جامع مسجد ذکریہ، نیو گارڈن ٹاؤن، بھلیر (اسٹیڈیم کے ساتھ) منعقد ہوگی۔شہدائے حرمین کی زندگی ایمان، اخلاص اور اللہ کی رضا کے سفر کی روشن مثال ہے

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے ایسی موت عطا فرماتا ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں عزت و سعادت کا باعث بن جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ جیسی مقدس سرزمین پر، احرام کی حالت میں، اللہ کے مہمان بن کر دنیا سے رخصت ہونا یقیناً ایک عظیم سعادت اور قابلِ رشک مقام ہے۔ ایسے ہی خوش نصیب میاں بیوی اعجاز الحق اور ان کی اہلیہ تھے، جنہوں نے حال ہی میں مکہ مکرمہ میں ایک المناک حادثے کے دوران احرام کی مقدس حالت میں جامِ شہادت نوش کیا اور اپنے پیچھے غمزدہ خاندان، دوست احباب اور بے شمار دعائیں چھوڑ گئے۔اعجاز الحق شہید، چوہدری محمد صدیق مرحوم کے صاحبزادے، حافظ اکرام اختر مرحوم، احسان الحق برکی مرحوم اور انعام الحق کے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ ایک بااخلاق، ملنسار، دیانت دار اور مذہبی رجحان رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی محبت، اخلاص، خدمت اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کی عمدہ مثال تھی۔ ان کی اہلیہ بھی نہایت نیک سیرت، باپردہ اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ دونوں کی ایک ساتھ اس مقدس حالت میں وفات نے ہر دل کو رنجیدہ کر دیا۔مرحوم اعجاز الحق شہید کا تعلق ایک معزز اور باوقار خاندان سے تھا۔ وہ افتخار احمد (افتخار بک ڈپو والے)، اقبال جاوید (سکاٹ لینڈ)، ریاض الحق مرحوم، فیاض احمد (فیضی اقبال بک ڈپو والے)، شالیمار شاپنگ سینٹر کے محمد یونس، محمد نقیب مرحوم، محمد نعیم مرحوم، محمد ناہید، محمد وسیم (یوکے) اور محمد ندیم کے تایا زاد بھائی تھے۔ ان کی وفات کی خبر نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے میں انتہائی افسوس اور غم کا باعث بنی۔مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے بروز پیر 29 جون جامع مسجد ذکریہ، نیو گارڈن ٹاؤن، بھلیر (اسٹیڈیم کے ساتھ) قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ قرآن خوانی کا آغاز صبح 8:00 بجے ہوگا جبکہ 8:30 بجے اجتماعی دعا کروائی جائے گی۔ اس موقع پر مرحومین کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔اہلِ خانہ نے تمام عزیز و اقارب، دوست احباب، اہلِ علاقہ اور دینی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روحانی اجتماع میں شرکت فرما کر مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کریں اور قرآن خوانی میں شامل ہو کر ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنیں۔ ایسے اجتماعات نہ صرف مرحومین کے لیے باعثِ رحمت ہوتے ہیں بلکہ زندہ لوگوں کو بھی آخرت کی تیاری، صبر، اخوت اور دینی وابستگی کا احساس دلاتے ہیں۔اعجاز الحق اور ان کی اہلیہ کی رحلت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی جبکہ آخرت دائمی ہے۔ اصل کامیابی مال و دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ ایمان، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے، اور حرمِ مکی میں احرام کی حالت میں وفات یقیناً اسی خصوصی رحمت کی ایک صورت ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اعجاز الحق شہید اور ان کی اہلیہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنا دے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام نیکیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام لواحقین کو صبرِ جمیل، استقامت اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔*