قومی سلامتی اور بدلتا علاقائی منظرنامہ
تحریر: سلمان احمد قریشی
جنوبی ایشیا کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اس خطے میں امن ہمیشہ طاقت کے توازن، نظریاتی تصادم اور سیاسی انتہاپسندی کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج ہمارے مشرقی ہمسائے بھارت کی جانب سے درپیش رہا ہے۔ ایسا ملک جو سات دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہ کرسکا۔ برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد سے نئی دہلی کا ریاستی بیانیہ ایک ایسے جارحانہ نظریے کے زیرِ اثر رہا ہے جس کا محور اکھنڈ بھارت اور وشو گرو بننے کا خواب ہے۔
بھارتی سوچ اور انتہا پسندی کا پھیلاؤ پاکستان کے لیے ہی نہیں بھارتی عوام کے لیے بھی خطرناک ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت کے اندر انتہا پسند ہندوتوا ذہنیت نے ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بدقسمتی سے آج بھارت کی قیادت نریندر مودی جیسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو RSS کی تربیت یافتہ سوچ کا پرچارک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1965 کی جنگ ہو یا مئی 2025 کی مختصر جنگ میں عسکری و اخلاقی شکست کے باوجود بھارتی قیادت نے اپنے رویوں میں کبھی تبدیلی نہیں آنے دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بھارتی ریاست نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم میں اضافہ کیا۔ کشمیر میں ظلم کی نئی تاریخ رقم کی اور خطے کے امن کو دانستہ کمزور کرنے کی پالیسی اپنائی۔
پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، سفارتی محاذ پر بدنامی کی کوششیں اور پاکستان مخالف نیٹ ورک کی سرپرستی یہ سب بھارتی پالیسی کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے افغانستان میں بروئے کار لائے جانے والے پراکسیز کی تاریخ بھی نئی نہیں۔ مختلف ادوار میں افغانستان کو پاکستان کے خلاف محاذ کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد عالمی ادارے بھی پیش کرتے رہے ہیں۔
افغانستان کا نیا منظرنامہ اور پاکستان کے تحفظات سے دوست ممالک آگاہ ہیں۔امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں نئی حکومت کے قیام نے پورے خطے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور ذمہ دار افغانستان کی حمایت کی لیکن بدقسمتی سے کابل کی قیادت نے پاکستان کی جائز سکیورٹی تشویشات کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔
پاکستان بارہا واضح کرچکا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دہشت گردی کے متعدد واقعات اور سرحد پار کارروائیوں سے پاکستان کے اندر اس خدشے کو تقویت ملی کہ دشمن قوتیں افغانستان کے غیر منظم ڈھانچے سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
یہ حقیقت وزیراعظم شہباز شریف نے سنیئر صحافی سلمان غنی سے اپنی حالیہ ملاقات میں واضح کی کہ ”ہماری سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ہمارا یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔یہ مؤقف نہ صرف قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے بلکہ عالمی قوانین اور دو طرفہ سرحدی معاہدوں کے عین مطابق بھی ہے۔
پاکستان کی سیاسی قیادت آج ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں داخلی اتحاد کے بغیر خطے کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا مقابلہ ممکن نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ قومی معاملات، این ایف سی، بلدیاتی نظام، آبادی اور تعلیم جیسے بڑے فیصلے اتحاد اور اتفاق رائے سے کیے جائیں گے۔
یہ وہ درس ہے جو ہماری سیاسی تاریخ بار بار دیتی رہی ہے کہ بات چیت ہی بہترین راستہ ہے۔ جو سیاست مکالمے سے انکار کرے وہ خود کو تنہائی میں دھکیل دیتی ہے، اور یہی حقیقت وزیرِاعظم نے بھی بیان کی ڈائیلاگ ہی بہترین حل ہے جو اس پر یقین نہیں رکھتا وہ خود کٹ جاتا ہے۔
پاکستان کی عسکری اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جو بے مثال قربانیاں دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ جس ملک نے ہزاروں شہداء دیے ہوں، جس نے کئی بار دہشت گردی کی بدترین لہروں کا مقابلہ کیا ہو، اسے دنیا مزید آزمائشوں میں ڈالنے کا کوئی حق نہیں رکھتی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بجا طور پر کہا کہ ہمیں اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں۔یہ نہ صرف ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے بلکہ مستقبل کی قومی حکمت عملی کا بنیادی ستون بھی ہے۔
قارئین! سنیئر صحافی سلمان غنی حکومت اور عوام کے درمیان فکری پل کی حثیت رکھتے ہیں۔ہمیں بھی ان سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے اس طرح ملکی معاملات سے آگاہی ملتی رہتی ہے۔پاکستان کے نامور صحافی و تجزیہ نگار سلمان غنی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف ریاستی پالیسیوں کی گہرائی تک رسائی رکھتے ہیں بلکہ عوام اور طاقت کے ایوانوں کے درمیان ایک فکری پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ عام شہری سے لے کر وزیراعظم تک ان کی گفتگو میں وہ سنجیدگی اور معاملہ فہمی جھلکتی ہے جو ایک محبِ وطن صحافی کا خاصہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی حالیہ ملاقات میں جو نکات سامنے آئے اور ہم تک پہنچے وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی سمت دونوں کا آئینہ ہیں۔ سلمان غنی کی وساطت سے عوام کو حکومتی پالیسیوں کا اصل تناظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو بلاشبہ قومی سطح پر ایک مثبت پیش رفت ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی آج جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے وہ کسی ایک محاذ پر نہیں بلکہ بیک وقت عالمی سفارت کاری، علاقائی سیاست اور داخلی امن و اتحاد سے جڑی ہیں۔ بھارت کی جارحانہ سوچ، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات اور ملکی سیاسی تقسیم یہ سب ہمارے سامنے موجود ہیں۔
لیکن مثبت بات یہ ہے کہ قومی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام ایک صفحے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ شہباز شریف کا یہ اعلان ہمارے عزم کی گواہی ہے کہ انشاء اللہ ہم پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرکے دم لیں گے۔یہ عزم وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان کا مستقبل مزید محفوظ، مزید مستحکم اور مزید روشن بن سکتا ہے۔










