ناجائز تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن، عوامی راستوں کی بحالی کی سمت ایک اہم قدم

تحریر محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حالیہ دنوں کے دوران انتظامیہ کی جانب سے ناجائز تجاوزات کے خلاف جس سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ کارروائیاں جاری ہیں، وہ نہ صرف عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے بلکہ حکومتی وژن کی عملی تصویر بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے واضح احکامات اور ڈپٹی کمشنر عمر عباس میلہ کی خصوصی ہدایات کے تحت تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دیہی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر پیرا فورس، میڈم صدف ارشاد کی قیادت میں ٹیمیں گاؤں گاؤں جا رہی ہیں، راستوں کا معائنہ کر رہی ہیں، اور وہاں قائم غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ یہ کریک ڈاؤن صرف چند عمارتوں یا تعمیرات کو ہٹانے تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت سرکاری اراضی کو اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش ہے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ برسوں سے سرکاری راستوں، نالیوں، گلیوں اور چوراہوں پر ناجائز تعمیرات نے نہ صرف عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی تھیں بلکہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی رکاوٹ بن رہے تھے۔ سرکاری زمینوں پر قبضہ، فٹ پاتھوں پر تعمیرات اور راستوں کی تنگی جیسے مسائل عوامی زندگی کو شدید متاثر کر رہے تھے۔ ایسے میں حکومتِ پنجاب کا یہ فیصلہ کہ تمام تجاوزات کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے، ایک قابلِ تعریف اقدام ہے۔انتظامیہ کے مطابق جن مقامات پر خلافِ قانون تعمیرات یا قبضے سامنے آئے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور وارننگ دی گئی ہے کہ سرکاری پالیسی کے تحت اب کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس بار صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔عوامی راستوں کی بحالی کا مطلب صرف تجاوزات ہٹانا ہی نہیں بلکہ شہریوں کے لیے سہولتیں پیدا کرنا ہے۔ جب راستے کھلیں گے، نقل و حرکت آسان ہوگی، ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، اور صفائی و نکاسیٔ آب کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ دیہی علاقوں میں جہاں پہلے ہی سہولیات کم ہوتی ہیں، وہاں ایسے اقدامات عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کی کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کریں، تجاوزات سے گریز کریں اور اپنے اردگرد ایسے غیر قانونی اقدامات کی نشان دہی کریں جو معاشرتی نظم کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔ تجاوزات کے خاتمے سے نہ صرف سرکاری زمین محفوظ ہوتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول بھی تیار ہوتا ہے۔آخر میں، میڈم صدف ارشاد اور ان کی ٹیم کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے کہ وہ نہایت محنت اور جرات کے ساتھ اس مشکل مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ امید ہے کہ یہ آپریشن محض وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو تجاوزات سے پاک، منظم اور خوبصورت بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔اگر اسی جذبے، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ یہ مہم جاری رہی تو یقیناً عوام کا اعتماد بڑھنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کا وقار بھی بلند ہوگا۔*