پنجاب کا نیا بلدیاتی قانون عوامی اختیار کا خاتمہ یا اصلاحات؟

تحریر: سلمان احمد قریشی

جمہوری معاشروں میں مقامی حکومتوں کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ گلی محلوں کی صفائی سے لے کر پانی، نکاسِ آب، مقامی ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی سہولیات، صحت کے انتظام اور بجلی کے نظام تک عام شہری کی روزمرہ زندگی کا ہر پہلو مقامی حکومتوں کی کارکردگی کے تابع ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط بلدیاتی نظام ہی جمہوری عمل کو مستحکم اور شفاف بناتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان، بالخصوص پنجاب میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لوکل گورنمنٹ سسٹم بار بار بدلا گیا۔کبھی معطل ہوا، کبھی تحلیل کیا گیا اور کبھی سیاسی ضرورتوں کے تحت دوبارہ ترتیب دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کا بلدیاتی نظام آج تک مستقل استحکام حاصل نہیں کر سکا۔
اسی تناظر میں پنجاب حکومت نے نیا بلدیاتی قانون منظور کیا جسے جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مختلف شہریوں میں جماعت اسلامی نے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کیا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا۔اوکاڑہ میں احتجاج میں مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ شامل ہوئے، فیصل آباد میں صوبائی امیر سنٹرل پنجاب جاوید قصوری اور گوجرانوالا میں صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بابر رشید نے شرکت کی۔اوکاڑہ میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام گول چوک میں ہونے والا حالیہ احتجاج اس قانون کے خلاف بھرپور عوامی ردِعمل کی علامت بن کر سامنے آیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے مظاہرے میں شرکت کی اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس قانون کو عوامی اختیار کے خلاف سازش قرار دیا۔
قارئین کرام! پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ وہ قانونی فریم ورک ہے جس کے تحت صوبے میں مقامی حکومتوں کی ساخت اور اختیارات کا تعین ہوتا ہے۔ کونسلز کی تشکیل، میئر، چیئرمین یا نیبرہُڈ/ویلیج کونسل کا انتخاب، وارڈز اور حلقہ بندیوں کا نظام، مالیاتی اختیارات، انتظامی اختیارات، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور مقامی اداروں کی صوبائی حکومت کے ساتھ وابستگی سب اسی قانون کا حصہ ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں پنجاب میں 2013، 2019، 2021 اور اب نئی ترامیم کے تحت لوکل گورنمنٹ ایکٹ متعدد بار تبدیل کیا گیا۔ اس مسلسل تبدیلی نے نظام کو غیر مستحکم بنایا اور عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے بنیادی اعتراضات کیا ہیں۔
جماعت اسلامی کے مطابق میئر اور چیئرمین کے براہِ راست انتخاب کے خاتمے سے مقامی قیادت صوبائی حکومت کے زیرِ اثر آ جاتی ہے۔ براہِ راست انتخاب کی مخالفت اس لیے بھی کی جا رہی ہے کہ بالواسطہ انتخاب کی صورت میں سیاسی اثر رسوخ، دولت اور طاقت فیصلہ سازی پر غالب آ جاتے ہیں اور عوام کا حقیقی اختیار کمزور پڑ جاتا ہے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق براہِ راست انتخابات ہی مقامی نمائندوں کو مضبوط اور جوابدہ بناتے ہیں، جبکہ بالواسطہ انتخاب نمائندوں کو عوام کے بجائے سیاسی سرپرستوں کا محتاج بنا دیتا ہے۔
جماعت اسلامی کا اہم اعتراض یہ ہے کہ نیا ایکٹ بلدیاتی اداروں کو مالیاتی اعتبار سے صوبائی حکومت کا پابند بنا دیتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز، اسکیمیں اور ضلع کی بجٹ ترجیحات صوبائی محکموں کے کنٹرول میں رہیں گی۔ اس کے نتیجے میں یونین کونسل اور میئر کا کردار محض نمائشی ہو کر رہ جاتا ہے۔ مالیاتی خودمختاری کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی اوکاڑہ چوہدری رضوان احمد کا کہنا ہے کہ جب تک فنڈز مقامی نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں ہوں گے، مقامی مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔
اسی طرح آرٹیکل 140-A کے مطابق مقامی حکومتوں کو انتظامی اختیارات دینا ضروری ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پولیس، تعلیم، صحت، سینیٹیشن، واٹر مینجمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول جیسے محکمے بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہونے چاہئیں، لیکن نیا ایکٹ ان محکموں کو دوبارہ صوبائی کنٹرول میں لے آتا ہے۔
جماعت اسلامی نے انتخابی حلقہ بندیوں، وارڈ ڈھانچے اور مخصوص نشستوں کو سیاسی انجینئرنگ بھی قرار دیا ہے جس کے ذریعے بڑے سیاسی دھڑے اور صوبائی حکومت اپنی من پسند طاقت کا توازن قائم رکھ سکتی ہے۔
اوکاڑہ گول چوک میں ہونے والا احتجاج ایک بڑے عوامی اجتماع میں تبدیل ہوا۔ شہر بھر سے کارکنان، تاجر تنظیمیں، سماجی ورکرز اور شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا: اختیار دو… عوام کو بااختیار بناؤ… نظام بدل دو۔اس کامیاب مظاہرے کا کریڈیٹ چوہدری رضوان احمد امیر ضلع اوکاڑہ، شیخ سلمان اظہر امیر اوکاڑہ سٹی، جنید قریشی سمیت مقامی ذمہ داران کو جاتا ہے۔ جہنوں نے بھرپور محنت کی۔
لیاقت بلوچ نے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے نام پر ایک ڈرامہ رچا رہی ہے اور منصوبہ یہ ہے کہ یونین کونسل کی سطح تک من پسند افراد کو نوازا جائے۔ ان کے مطابق اختیارات واپس بیوروکریسی کو دے کر مقامی نمائندوں کو بے اختیار کر دیا گیا ہےجو عوامی خدمت نہیں بلکہ سیاسی کنٹرول کا قانون ہے۔
اگر بلدیاتی اداروں کو مضبوط نہ کیا گیا تو نقصان صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ عوام کا ہو گا۔ سڑکیں ٹوٹتی رہیں گی، سیوریج کے مسائل برقرار رہیں گے، چھوٹے شہر اور دیہات ترقی سے محروم رہیں گے۔ اختیارات اور فنڈز کا غلط استعمال بڑھے گا اور شہری دیہی فرق مزید گہرا ہو جائے گا۔ جمہوریت کی مضبوطی مقامی سطح سے ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی سمیت کئی جماعتیں ایک مؤثر، بااختیار اور براہِ راست منتخب بلدیاتی نظام کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی نے اس ایکٹ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت کو پسپائی پر مجبور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام اس لولا لنگڑا نظام کو قبول نہیں کریں گے۔ جماعت اسلامی میدانِ عمل میں آ چکی ہے اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
جماعت اسلامی کو یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ عوامی ایشوز پر سیاست کرتی ہے۔پنجاب بھر میں ایک ہی روز ہونے والا احتجاج پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، مگر شرکاء کا عزم واضح تھا کہ تحریک اب محض ایک جلسے تک محدود نہیں رہے گی۔
پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون پر بحث محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور عوامی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات نہ دیے جائیں تو صوبائی اور وفاقی سطح کا کوئی بھی نظام عوام کی مشکلات کا ازالہ نہیں کر سکتا۔
لہٰذا ضروری ہے کہ براہِ راست انتخاب بحال کیا جائے، مالیاتی خودمختاری یقینی بنائی جائے، مقامی اداروں کو انتظامی ذمہ داریاں دی جائیں، سیاسی انجینئرنگ کا راستہ روکا جائےاور سب سے بڑھ کر آرٹیکل 140-A کی حقیقی روح کو نافذ کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پنجاب کو مضبوط، متوازن اور مؤثر بلدیاتی ڈھانچہ دے سکتا ہےاور یہی وہ مطالبہ ہے جس کے لیے جماعت اسلامی سڑکوں پر ہے اور عوام میں شعور بیدار کر رہی ہے۔