شورکوٹ روڈ کی تباہ حال سڑک… کب ہوگا عوام کا مسئلہ حل؟

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شورکوٹ روڈ، جو کبھی ضلع کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی تھی، آج ایک افسوسناک صورتحال کی آئینہ دار بن چکی ہے۔ مدرسہ المراد جماعت الحدیث کے قریب مرکزی شاہراہ کی حالت زار دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اس سڑک کو برسوں سے کسی نے چھوا ہی نہ ہو۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے، ٹوٹی ہوئی تعمیر، اور گندا پانی اس قدر جمع ہے کہ روڈ ایک نالی کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹریفک میں خلل کا سبب بن رہی ہے بلکہ شہریوں کے لیے روز مرہ سفر کو ایک امتحان بنا چکی ہے۔سیوریج سسٹم کی ناکامی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ سڑک پر ٹھہرا ہوا گندا پانی گرمیوں میں تعفن پھیلاتا ہے اور سردیوں میں کیچڑ کی شکل اختیار کرکے پھسلن کا باعث بنتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار روزانہ حادثوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ گاڑی مالکان اپنی گاڑیوں کے سسپنشن اور انجن کو پہنچنے والے نقصان سے پریشان ہیں، جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے اس روڈ سے گزرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔علاقہ مکینوں کی بے بسی واضح ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو کئی مرتبہ تحریری و زبانی شکایات پہنچائیں، مگر تاحال صورتحال جوں کی توں ہے۔ ان کی آواز سننے والا شاید کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج عام شہری خود کو نظر انداز شدہ محسوس کر رہے ہیں۔ گھنٹوں کی مزید تاخیر کے بغیر مسئلے کا حل ضروری ہے، مگر افسوس… زمینی حقائق حکومتی غفلت کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شورکوٹ روڈ نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بین الاضلاعی سفر کرنے والوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ سکول جانے والے بچے، دفاتر جانے والے ملازمین، مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسزسب ہی اس بدحالی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ آخر کب تک عوام ٹوٹی سڑکوں اور گندے پانی کے درمیان راستہ تلاش کرتے رہیں گے؟ کب تک شہری اپنی جانوں اور گاڑیوں کو خطرے میں ڈال کر اسی راستے سے گزرتے رہیں گے؟عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شورکوٹ روڈ کے اس اہم حصے کی فوری تعمیر و مرمت اور سیوریج نظام کی بحالی کے احکامات جاری کیے جائیں۔ ایک فلاحی حکومت کا بنیادی فرض یہی ہوتا ہے کہ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرے، نہ کہ انہیں بنیادی حقوق کے لیے بار بار دہائی دینا پڑے۔وقت آ گیا ہے کہ اس سڑک کی مرمت کو ترجیحی بنیادوں پر لیا جائے۔ یہ صرف پتھروں، اینٹوں اور تارکول کا مسئلہ نہیں یہ انسانوں کے روز مرہ مسائل، ان کی سلامتی اور ان کے وقت کا مسئلہ ہے۔ شورکوٹ روڈ کی بحالی شہریوں کے اعتماد بحال کرنے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا۔ لیکن اگر سنجیدگی سے توجہ دی گئی تو یہ عوامی تکلیف کا سبب بننے والی سڑک دوبارہ سے اپنی اہمیت اور افادیت کے ساتھ بحال ہو سکتی ہے۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے—کیا وہ عوام کی آواز سنتی ہے یا یہ مسئلہ بھی فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا؟*