انسانی حقوق کا عالمی دن اور کشمیر کا مقدمہ

تحریر: سلمان احمد قریشی

دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10 دسمبر کو اس عہد کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے کہ انسانیت کی حرمت، آزادی اور بنیادی حقوق کسی زمین، نسل، مذہب یا قومیت کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ دن ہمیں 1948ء میں منظور ہونے والے بین الاقوامی منشور یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی یاد دلاتا ہے۔جس نے پہلی بار عالمی سطح پر اعلان کیا کہ ہر انسان برابر ہے اور اس کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں۔ لیکن افسوس کہ دنیا کے کئی خطے آج بھی اس بنیادی اصول کی نفی کرتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور افسوسناک مثال مقبوضہ کشمیر ہے۔ جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے نہتے کشمیری اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
اسی پس منظر میں یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب (UCP) کی فیکلٹی آف میڈیا اینڈ ماس کمیونی کیشن میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جو نہ صرف تعلیمی سرگرمی تھی بلکہ ایک فکری و شعوری مکالمہ کا اہتمام بھی تھا۔ یوتھ فورم فار کشمیر اور یوسی میڈیا کلب کے اشتراک سے ہونے والا یہ پروگرام اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ کسی تعلیمی ادارے کی اصل روح صرف تعلیم نہیں بلکہ سماجی شعور اور انسانی اقدار کی ترویج بھی ہے۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی سینئر صحافی و تجزیہ کار، روزنامہ دنیا کے ایگزیکٹو گروپ ایڈیٹر سلمان غنی (ستارہ امتیاز) تھے۔ ان کے ساتھ یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر طارق احسان غوری اور معروف اینکر پرسن اسامہ غازی نے بھی خطاب کیا۔ فیکلٹی آف میڈیا کے ڈین ڈاکٹر فواد بیگ نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جامع روشنی ڈالی۔ ڈیپارٹمنٹ آف فلم اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کے سربراہ اور میڈیا کلب کے پیٹرن ڈاکٹر عاطف اشرف نے افتتاحی خطاب میں انسانی حقوق کے عالمی دن کی اہمیت بیان کی اور طلبا کو اس دن کی تاریخی بنیادوں سے آگاہ کیا۔
10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ نے جب انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا تو دنیا دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے ابھی سنبھل ہی رہی تھی۔ نسل کشی، جبری اغوا، حقوق کی پامالی اور آزادیِ اظہار کی گلی گھونٹنے جیسے جرائم نے انسانیت کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اس پس منظر میں یہ منشور اس عہد کا نام بنا کہ دنیا دوبارہ ظلم کے اندھیروں میں نہ ڈوبے۔ مگر افسوس کہ یہی منشور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے لیے آج تک ایک خواب ہی ہے۔
کشمیر آج انسانی حقوق کی طویل ترین پامالیوں کی داستان ہے۔مقبوضہ کشمیر وہ خطہ ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی حادثاتی واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ 1947 سے اب تک لاکھوں کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں اور خواتین کی بے حرمتی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد یہ صورتحال مزید بگڑ گئی جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو زبردستی تبدیل کر دیا۔
سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے اسامہ غازی نے عالمی برادری کی بے حسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کی نام نہاد جمہوریتیں اقتصادی مفادات کے سامنے کشمیریوں کی قربانیوں کو فراموش کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ، گھر گھر تلاشی، بے گناہ نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں اور pellet gunsکے ذریعے معذوری کا شکار کیے جانے والے ہزاروں کشمیری عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔
سینئر صحافی سلمان غنی نے اپنے خطاب میں بھارتی جبر کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم نے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے کہ آزادی کی تحریکیں ظلم سے دبتی نہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان کشمیری رہنما برہان وانی کا ذکر کیا، جس کی شہادت نے پوری وادی میں تحریکِ آزادی کو نئی روح بخشی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم کی ہر راہ اختیار کی مگر کشمیریوں کے عزم و وفا کو شکست نہ دے سکا۔
طارق احسان غوری نے عالمی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی پاسداری کرے اور بھارت کو کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے پر جوابدہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فلسطین، سوڈان اور روانڈا عالمی اداروں کے ضمیر کو جنجھوڑ سکتے ہیں تو کشمیر کیوں نہیں؟
سیمینار میں طلبا و طالبات نے کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے تقاریر اور نغمے پیش کیے جو اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کشمیر کے مسئلے کو صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی حق کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہی نسل مستقبل کی پالیسی ساز ہے اور اسی شعور کی بنیاد پر ہمیں امید ہے کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں پیش کیا جائے گا۔سمینار میں مہمانانِ گرامی کو سووینیرز پیش کیے گئے، جبکہ یوسی پی ٹی وی کے سربراہ عرفان اسلم سمیت طلبا کو شیلڈز اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔
انسانی حقوق کا عالمی دن نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ہمیں یہ یاد دہانی بھی کرواتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ کشمیر ایک ایسا زخم ہے جو 76 سال سے انسانی ضمیر کو پکار رہا ہے۔ جب تک وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، دنیا کا کوئی عالمی منشور مکمل نہیں کہلا سکتا۔
یوسی پی کا یہ سیمینار اس حقیقت کا مظہر ہے کہ تعلیمی ادارے اگر چاہیں تو معاشرتی شعور کو بیدار کرنے میں ایک بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضمیر کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو سنے اور بھارت کو اس کے جرائم پر جوابدہ بنائے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی محض ایک تحریک نہیں، ایک قوم کا حق ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔