مدارس اور ریاست ایک تہذیبی اور تزویراتی ہم آہنگی,

تحریر۔۔محمد معاویہ اعظم سابقہ رکن پنجاب اسمبلی

برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ مدارس وہ ادارے ہیں جنہوں نے علمی روایت کو زندہ رکھا، تہذیبی ورثے کی حفاظت کی، ملکی و ملی شعور کی آبیاری کی اور ہر دور کے فکری انتشار میں امت کو رخِ صواب دکھایا۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھی یہی مدارس تھے جنہوں نے فکری بیداری پیدا کی، اور بعد کے دور میں ایسے اَدوار آئے جب قومی استحکام کے لیے سب سے توانا کردار بھی انہی دینی مراکز نے ادا کیا۔ ان کی قربانیوں کی فہرست طویل ہے۔ کہیں علما نے اپنے خون سے مساجد و مدارس کا دفاع کیا، کہیں نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت ادا کی، اور کہیں سماج کے کمزور طبقات کا سہارا بنے۔ اسی تاریخی پس منظر میں آج کے حالات کو دیکھیں تو حالیہ قومی علماء و مشائخ کانفرنس ایک اہم موڑ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کانفرنس میں چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ عاصم منیر نے دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ اور جامعۃ الرشید جیسے بڑے علمی مراکز کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا جو ایک وسیع تر فکری تبدیلی کی علامت ہے۔ قومی سلامتی اب صرف عسکری صلاحیت تک محدود نہیں رہی۔ نظریاتی یکجہتی، اخلاقی تربیت اور سماجی ہم آہنگی بھی اسی کا حصہ ہیں، اور ان تمام عناصر میں علما کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ ان کی علمی رہنمائی معاشرے کے اجتماعی شعور کو وہ سمت دیتی ہے جس سے قومیں فکری طور پر مضبوط ہوتی ہیں۔ اس پیشرفت کا ایک دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ برسوں کے فاصلے، غلط فہمیاں اور بیانیوں کی کشمکش کے بعد ریاست اور مذہبی قیادت کے درمیان اعتماد کی ایک نئی فضا قائم ہو رہی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو مقابل سمجھنے کے بجائے اب شراکت اور ذمہ داری کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر مستقبل کی طرف نگاہ ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی مضبوطی کا انحصار انہی دونوں قوتوں کے متوازن تعلق پر ہوگا۔ ریاستی اداروں کا نظم و ضبط اور مدارس کی تہذیبی و اخلاقی قوت مل کر ایسا فکری ماڈل تشکیل دے سکتی ہے جو قوم کو انتشار سے نکال کر اعتماد، استحکام اور نظریاتی وضاحت کی راہ پر آگے بڑھائے ۔مدارس کی تاریخی خدمات اور موجودہ اعتراف مل کر یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا مستقبل اسی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے، جہاں ریاستی طاقت اور دینی اداروں کی اخلاقی قوت ایک دوسرے کو مضبوط کرتی چلیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ملک کو فکری بصیرت، اجتماعی یکجہتی اور پائیدار امن سے نوازے، اور مدارس و ریاست دونوں کو قوم کی صحیح رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔