ٹریفک قوانین کی پامالی، حادثات اور پولیس کا کردار اصلاح احوال وقت کی ضرورت

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گردونواح کی شاہراہیں آج ایک سنگین مسئلے کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے اور نگرانی کے موثر نظام کے فقدان نے حادثات کی شرح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ ہر ماہ متعدد قیمتی جانیں سڑکوں پر ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد شدید زخمی ہو کر عمر بھر کی معذوری جیسی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان المناک حادثات نے شہریوں میں خوف، غصے اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔شہریوں کے مطابق حادثات کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک پولیس کی مبینہ کرپشن ہے، جس نے پورے ٹریفک سسٹم کو اس کے اصل مقصد—عوام کی حفاظت اور نظم و ضبط—سے دور کر دیا ہے۔ آئے روز مختلف شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کے ناکے دیکھنے میں آتے ہیں، جہاں چالان کی آڑ میں بسوں، ٹرکوں، رکشاؤں اور موٹر سائیکل سواروں سے مبینہ طور پر ناجائز رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ اس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے عوام کا اعتماد سخت مجروح کیا ہے۔ٹریفک قوانین کے نفاذ کے بجائے مالی مفاد کو ترجیح دینے کا یہ رجحان نہ صرف ٹریفک سسٹم کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی بڑا سبب بن رہا ہے۔ جہاں ٹریفک پولیس کو قوانین کی سختی سے پیروی کرانا چاہیے، وہاں بدقسمتی سے یہ معاملات پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ہم روزانہ سڑکوں پر بکھری لاپرواہی اور بدانتظامی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ تیز رفتاری، کم عمر ڈرائیونگ، اوور لوڈنگ اور ون ویلنگ جیسے جرائم کے خلاف عملی اقدامات کم اور وصولیاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں شہریوں کا یہ سوال بجا ہے کہ اگر ٹریفک پولیس ہی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتے گی تو پھر سسٹم کو کون بحال کرے گا؟عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، بالخصوص ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اعلیٰ صوبائی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت نگرانی، مؤثر چیک اینڈ بیلنس اور شفاف احتسابی عمل وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کے نفاذ، سڑکوں کی صورتحال کی بہتری، اور ڈرائیوروں کی ٹریننگ جیسے بنیادی اقدامات بھی ناگزیر ہو چکے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک پولیس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے قوانین کے نفاذ اور عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔ اگر بدعنوانی پر قابو پا لیا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تو حادثات کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے اور شہری سڑکوں پر خود کو محفوظ محسوس کر سکتے ہیں۔آخر میں، یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں موجود ہے: کیا ہماری سڑکیں کبھی محفوظ ہو پائیں گی؟ اس کا جواب تبھی ممکن ہے جب ٹریفک نظام کو سیاسی نہیں، انتظامی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جائے، اور ٹریفک پولیس کو جواب دہ بنایا جائے۔*