یہ ملک سفاری پارک ہے
یہاں انسانوں کو پروٹوکول
میں گھمایا جاتا ہے

تحریر ! سید شاکر علی شاہ

سمجھ اے انسان خود کو پہچان لے کس چیز پر اکڑتا ہے دھن دولت نہ زمین جائیداد نہ روح تیری نہ جسم تیرا ، تیرے پاس ہے کیا صرف ایک اللہ کہ رحم و کرم پر چلتی سانس ؟
تمہارے پاس اگر کچھ ہے تو وہ صرف تمہاری سوچ اور اس کے مطابق کیا ہوا عمل اسی سے تو انسان بھی ہے اور حیوان بھی ہے
انسان اور حیوان میں فرق کیا ہے
انسان وہ ہے جو اپنے جیسے انسانوں سے پیار کرے حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والا ہو دوسروں کا درد محسوس کرنا جانتا ہو عاجزی کا پرچار کرنے والا ہو ،
یہ ساری خصوصیات اج کل غیر مسلم ممالک میں بے پناہ پائی جاتی ہیں مسلمان ممالک نے اس سے کافی دوری اختیار کر لی ہے کہنے اور لکھنے میں تو پاکستان میں بھی 25 کروڑ انسان ہیں لیکن عملی طور پر اپ کو صرف حکمران ہی انسان نظر ائیں گے
اپ نے دیکھا ہوگا سفاری پارک کے کھلے جانوروں میں انسانوں کو پروٹوکول کے ساتھ محفوظ طریقے سے گھمایا جاتا ہے ایسے ہی حکمرانوں نے جہاں جانا ہوتا ہے وہاں کا بہترین صاف ستھرا ماحول عارضی طور پر پھول اور پودے اور اپ سے بچاؤ کے لیے پروٹوکول سکیورٹی گارڈ وغیرہ کے ساتھ لایا جاتا ہے پھر اپ کے پھیلائے ہوئے جراثیم کی وجہ سے اگر حکمران انسان بیمار ہو جائیں تو پھر ان کو انسانوں والے ہاسپٹل انگلینڈ امریکہ جانا پڑتا ہے
اپ یقین مانیں ان انسانوں کے گھروں میں ہر چیز باہر سے ائی ہے ان کا کھانا پینا میڈیسن کپڑے جوتے اپ حیوانوں جیسے نہیں ہیں
لیکن پروٹوکول والے اے انسانو یاد کرو اپ کے اباؤ اجداد اج کہاں ہیں ڈھونڈو ان کی انا اکڑ کہاں ہے طاقتور فرعون کہاں ہے
ایک دن ائے گا جس وجود کو سجانے کے لیے لاکھوں کروڑوں لگا کر طاقت اور غرور کے ساتھ پاؤں میں لاکھوں کی جوتی پہنتے ہیں وہ جوتی جس کی حیثیت یہ ہے کسی کو مارو تو ذلت کسی کو دکھاؤ تو گالی اپ کے جسم کے سب سے نچلے درجے پر رہتی ہے اکڑنے والے انسان اپنی حیثیت دیکھ سب سے نیچے والے درجے کی جوتی کے نیچے والی خاک میں تجھے خاک ہونا ہے