فیز ٹو کیا ہے
تحریر ! سید شاکر علی شاہ
فیز ٹو ایک ایسے شخص کی امنگوں کا ترجمان ہے خوابوں کی تعبیر ہے جو پڑھ لکھ کر روزی روٹی کے ساتھ قوم اور ملک کی خدمت کا جذبہ لے کر ایک صحافی کے کردار کو اپناتا ہے اس منصب کے لیے سچ کے ساتھ کھڑے ہو کر بہت سے صحافی جان تو گنوا بیٹھے لیکن سچ کا سودا نہیں کیا
بڑی مفلسی کی زندگی گزارنے کے باوجود اپنے ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے دن رات محنت کرتا رہا زلزلہ یا طوفان ہو برستی گولیوں والی جنگ ہو ہر مقام پر پہنچ کر اپنی قوم اور دنیا کو معلومات فراہم کرنے والا صحافی کئی دہائیوں سے مالی مشکلات کا شکار ہے بہت سے ہنر مند اور قابل صحافی میڈیا اداروں کی نا انصافیوں کا شکار رہے مالی مشکلات ہونے کی وجہ سے بچوں کے مستقبل پر اثر بھی پڑا اور بچے ایک چھوٹے سے اشیانے سے بھی محروم رہے
دوسری جانب اپ کسی بھی سرکاری ادارے میں پرائمری پاس چپڑاسی کو ہی دیکھ لیں اس کی تنخواہ اور مراعات صحافیوں سے قدر بہتر اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا عمل جو پورے خاندان تک ٹرانسفر(transfer) ہوتا ہے
لیکن پھر ایک شخص صحافیوں کے لیے مسیحہ بن کر سامنے ایا لاہور پریس کلب کا الیکشن جیتا اور صحافیوں کے مستقبل کی خواہشات کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے جذبے کے ساتھ صحافیوں کو ان کے حقوق دلوانے میں کامیاب ہوا اور فیز ون ارشد انصاری کی جدوجہد کا ثمربنا جس کے بنتے ہی صحافیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی یہ ایک صحافیوں کے لیے سرکاری اداروں سے ملنے والی پنشن سے کم نہ تھا ہزاروں صحافیوں کے بچوں کا مستقبل روشن ہوا
لیکن بہت افسوس ہوا جب باقی صحافیوں کے لیے ارشد انصاری فیز ٹو کی جدوجہد کے لیے نکلے تو وہ لوگ وہ چہرے جو اپنے بچوں کا مستقبل بنا بیٹھے ہیں دوسرے ممبران کے بچوں کا مستقبل کیوں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں کیوں فیز ون اپنا فیس چھپا رہے ہیں سامنے ا کر ارشد انصاری کا شکریہ ادا کرنے کا ظرف نہیں ہے تو نیکی سمجھ کر ان صحافیوں پر رحم کریں جن کے سر پر چھت نہیں ہے فیز ٹو کو مکمل ہونے تک اپنا منہ بند رکھیں ارشد انصاری کو یہ نیک عمل مکمل کرنے دیں ممبران کو یقین ہے بہت جلد ان کے سر پہ چھت ہو گی اپنا گھر ہوگا کیونکہ اس بات کا بھی زندہ ثبوت فیز ون کے فیس ہیں آپ لوگ ہیں









