مکالمہ، مفاہمت اور وفاق
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان کی سیاست میں مکالمہ ایک نایاب قدر بنتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب سیاسی اختلاف رائے کو محاذ آرائی اور الزام تراشی سے بدل دیا گیا ہو گورنر ہاؤس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سینئر صحافیوں سے ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی میڈیا انگیجمنٹ نہیں تھی بلکہ موجودہ سیاسی، معاشی اور آئینی مباحث پر ایک سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ تھی۔جس میں این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس قومی معاملے پر بھی کھل کر گفتگو ہوئی۔
ملاقات کرنے والوں میں سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی، مجیب الرحمن شامی، حفیظ اللہ نیازی، رئیس انصاری، افتخار احمد اور دیگر شامل تھے۔ یہ صحافی اپنی وسیع تجربہ کاری، گہرے تجزیاتی زاویے اور پیشہ وارانہ اخلاق کی بدولت نشست کو معیاری اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کام محض سوالات اٹھانا نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں رائے دینا اور قومی مسائل پر ذمہ دارانہ مکالمہ قائم رکھنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ان صحافیوں کی موجودگی اور ان کے معروضی اور تحقیقی سوالات نے ملاقات کو ایک تعمیری، بامقصد اور حقیقت پسندانہ مکالمے میں تبدیل کیا، جس سے عوام اور سیاست دونوں کے لیے معلوماتی اور رہنمائی کا موقع پیدا ہوا۔یہ نشست اس بات کی بھی مثال تھی کہ پاکستان میں صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے نہ صرف حقائق کی تلاش کرتے ہیں بلکہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سیاسی مکالمہ تعمیری اور شفاف رہے، نہ کہ محض سیاسی نعرے یا الزامات تک محدود ہو۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب پاکستان معاشی دباؤ، مالیاتی خسارے، مہنگائی اور وفاق و صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اختلافات سے دوچار ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط، جی ایس ٹی میں اضافے کی بحث اور نئے این ایف سی ایوارڈ پر ڈیڈ لاک نے قومی سیاست کو ایک بار پھر پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کا صحافیوں کے سامنے بیٹھ کر ان موضوعات پر گفتگو کرنا ایک سوچے سمجھے سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والی یہ ملاقات نسبتاً غیر رسمی مگر سنجیدہ ماحول میں ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے روایتی سیاسی تقاریر کے بجائے سوال جواب پر مبنی مکالماتی انداز اپنایا۔ سینئر صحافیوں نے ملکی سیاست، جمہوری تسلسل، پارلیمان کے کردار، معاشی بحران، میڈیا کو درپیش مشکلات اور وفاقی نظام کے مستقبل پر کھل کر سوالات کیے، جن کے جواب میں بلاول بھٹو نے تحمل، اعتماد اور سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا۔
ملاقات کا سب سے اہم اور توجہ طلب پہلو نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ پر بلاول بھٹو زرداری کی گفتگو تھی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ این ایف سی ایوارڈ محض وسائل کی تقسیم کا فارمولا نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کا آئینی معاہدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں پر تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور ترقیاتی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے، اس لیے وسائل میں کسی بھی یکطرفہ کٹوتی سے صوبائی نظام متاثر ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی اگر کرنی بھی ہے تو وہ صرف اور صرف باہمی اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور این ایف سی ایوارڈ کو وقتی معاشی دباؤ یا سیاسی ضرورت کے تحت چھیڑنا وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ صوبے اپنی مالی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے، تاہم اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیکس وصولی، مالی نظم و ضبط اور گورننس کے شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق اصل حل وفاق اور صوبوں کے درمیان محاذ آرائی نہیں بلکہ مشترکہ مالیاتی اصلاحات ہیں جن کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا جی ایس ٹی میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بار بار عام آدمی پر ڈالنا ایک آسان مگر غیر منصفانہ راستہ ہے۔ ان کے مطابق اگر زرعی آمدن، رئیل اسٹیٹ اور سروسز سیکٹر کو مؤثر انداز میں ٹیکس دائرے میں لایا جائے تو ریاست کو بار بار عوام پر مہنگائی مسلط کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
جمہوریت اور آئینی بالادستی ملاقات کا ایک اور اہم موضوع تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا کوئی غیر آئینی یا شارٹ کٹ حل موجود نہیں۔ ان کے بقول ماضی کے غیر جمہوری تجربات نے ریاستی اداروں کو کمزور اور عوام کو مایوس کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔
صحافیوں کی جانب سے مہنگائی اور عوامی مشکلات پر سوالات کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھا کہ معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں مگر ان کا بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نظریہ ہمیشہ معاشی انصاف اور سماجی تحفظ پر مبنی رہا ہے۔
ملاقات میں میڈیا کو درپیش دباؤ، سنسرشپ اور صحافیوں کے معاشی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد میڈیا جمہوریت کی روح ہے اور اظہارِ رائے پر قدغنیں دراصل عوام کی آواز دبانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلز پارٹی آزادی صحافت کے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک اس ملاقات نے بلاول بھٹو زرداری کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، مفاہمت اور آئینی توازن پر یقین رکھتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس معاملے پر متوازن مگر واضح مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی مستقبل کی سیاست میں وفاقی ہم آہنگی کو مرکزی حیثیت دینا چاہتی ہے۔
گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والی یہ نشست دراصل ایک پیغام بھی تھی کہ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے تصادم نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمہ، آئینی سوچ اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ این ایف سی ایوارڈ ہو یا معاشی اصلاحات، حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب وفاق اور صوبے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے ریاست کو مضبوط بنانے کا راستہ اختیار کریں۔ یہ ملاقات اس امر کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ پیپلز پارٹی آنے والے دنوں میں وفاق، صوبوں اور اداروں کے درمیان توازن کی سیاست کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
گورنر ہاؤس میں بلاول بھٹو زرداری کی سینئر صحافیوں سے ملاقات محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ موجودہ قومی مباحث میں ایک سنجیدہ اضافہ تھی۔ این ایف سی ایوارڈ پر ان کی گفتگو نے واضح کر دیا کہ پیپلز پارٹی صوبائی خودمختاری اور وفاقی توازن کو اپنی سیاست کا مرکزی ستون سمجھتی ہے۔ اگر پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکلنا ہے تو این ایف سی ایوارڈ جیسے معاملات کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور اتفاقِ رائے سے حل کرنا ہوگا اور شاید یہی پیغام بلاول بھٹو اس ملاقات کے ذریعے دینا چاہتے تھے۔








