بلدیاتی الیکشن عوامی ضرورت یا سیاسی حکمتِ عملی؟

تحریر: سلمان احمدقریشی

پاکستان کی سیاست میں بلدیاتی ادارے ہمیشہ سے ایک متنازع مگر ناگزیر موضوع رہے ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے حالیہ دور لاہور کے دوران سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں اور بالخصوص پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر زور دینامحض ایک رسمی سیاسی بیان نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری سیاسی حکمتِ عملی اور ایک واضح پیغام کارفرما ہے۔ سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے ذریعے واقعی عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہے یا اس کا اصل ہدف پنجاب کی سیاست میں اپنے لیے دوبارہ جگہ بنانا ہے؟
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی حمایت کے فیصلے کے وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا جن میں بلدیاتی انتخابات کا بروقت انعقاد بھی شامل تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بلدیاتی نظام نہ صرف غیر فعال رہا بلکہ عملاً ختم ہو کر رہ گیا۔ اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے متعدد بار اپنے تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کسی نہ کسی صورت بلدیاتی ادارے فعال ہیں جبکہ پنجاب جو آبادی اور سیاسی اثر کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے بلدیاتی نمائندگی سے محروم ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف جمہوری اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری سمجھا جاتا ہے، جہاں سے مقامی قیادت جنم لیتی ہے اور عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل ممکن ہوتا ہے۔ گلی، محلہ، یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے مسائل وہی لوگ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو اسی ماحول میں رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے روٹی، کپڑا اور مکان جیسے نعرے کے ذریعے نچلے طبقات کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی آئی ہے، اس لیے بلدیاتی اداروں کی بحالی اس کے نظریاتی بیانیے سے مطابقت رکھتی ہے۔
تاہم پنجاب کی سیاست کا زمینی حقائق پر مبنی تجزیہ کیا جائے تو تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آتا ہے۔ پیپلز پارٹی گزشتہ دو دہائیوں سے پنجاب میں مسلسل سیاسی زوال کا شکار رہی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی نمائندگی محدود ہو چکی ہے اور پارٹی کا ووٹ بینک خاصا سکڑ گیا ہے۔ ایسے میں بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی کے لیے ایک سنہری موقع بن سکتے ہیں، جہاں کم وسائل، کم شہرت اور محدود تنظیمی طاقت کے باوجود مقامی سطح پر جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ یونین کونسل، ٹاؤن اور ضلع کی سطح پر منتخب ہونے والے نمائندے مستقبل میں پارٹی کے لیے مضبوط سیاسی ڈھانچہ فراہم کر سکتے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جو پنجاب کی حکمران جماعت اور بالخصوص اراکینِ اسمبلی کو بے چین کرتا ہے۔ بلدیاتی ادارے فعال ہوں تو مقامی قیادت ابھرتی ہے جو ایم پی ایز اور ایم این ایز کے لیے سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔ ترقیاتی فنڈز، سفارشات اور عوامی رابطے کا وہ اختیار جو اراکینِ اسمبلی کے ہاتھ میں ہوتا ہے، بلدیاتی نمائندوں کے آنے سے تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی ترجیحات میں بلدیاتی ادارے نمایاں نظر نہیں آتے اور مختلف قانونی و انتظامی جواز کے تحت انتخابات کو مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔
اس تناظر میں جماعتِ اسلامی پنجاب کا مؤقف بھی قابلِ توجہ ہے، جس نے پنجاب کے موجودہ بلدیاتی ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ جماعتِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ موجودہ قانون بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات دینے کے بجائے محض نمائشی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی مسئلہ محض پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا باہمی اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر جمہوری بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی واقعی عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے یا محض سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟ حقیقت شاید ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے۔ سیاست میں خالص نیت کا تصور کم ہی ملتا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلدیاتی الیکشن کے ذریعے پنجاب میں اپنی تنظیم نو کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک فطری سیاسی عمل ہے۔ تاہم اگر اس عمل کے نتیجے میں عوام کو ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر فورم ملتا ہے تو اسے محض منفی سیاسی چال قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی نے پنجاب میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ بیوروکریسی پر انحصار، منتخب نمائندگی کے فقدان اور مقامی سطح پر احتساب نہ ہونے کے باعث مسائل جوں کے توں ہیں۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کا بلدیاتی الیکشن پر زور دینا کم از کم اس بحث کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے جو جمہوریت کی روح سے جڑی ہے۔
آخرکار فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر بلدیاتی انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی واقعی نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے متحرک نظر آئی تو یہ اس کے سیاسی احیا کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اور اگر یہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تک محدود رہا تو عوام جلد اس فرق کو پہچان لیں گے۔ مگر ایک بات طے ہے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت ادھوری ہے اور اس ادھورے پن کا خمیازہ سب سے زیادہ عام شہری کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔