منظور وٹو، سیاست، استقامت اور ایک عہد کی کہانی
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستانی سیاست میں بعض شخصیات محض عہدوں تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ پورے عہد کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کا شمار بھی انہی سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اقتدار، مخالفت، الزام، تنقید اور عوامی سیاست سب کچھ ایک ہی زندگی میں دیکھا۔علالت کے بعد ان کا انتقال محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پنجاب کی سیاسی تاریخ کے ایک باب کا اختتام ہے۔ ان کا انتقال 95 برس کی عمر میں 16 دسمبر 2025, ہوا۔میاں منظور احمد وٹو 14 اگست 1939 کو ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے نواحی گاؤں وساوے والا (حویلی لکھا) میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا دن ہی گویا اس بات کی علامت تھا کہ ان کی زندگی سیاست اور ریاستی امور سے جڑی رہے گی۔میاں منظور احمد خان وٹو نے سیاسی کیرئر کا آغاز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر کیا۔ 1977ء میں ذو الفقار علی بھٹو نے ان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا مگر بعد ازاں یہ ٹکٹ ان سے واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دیدیا گیاجس پر میاں منظور احمد وٹو نے آزاد حیثیت سے یہ الیکشن لڑا اور ہار گئے۔میاں منظور احمد وٹو کے سیاسی کیرئر کا یہ اتفاق بھی ہے کہ انھوں نے 1977ء میں پہلا الیکشن بھی آزاد حیثیت میں لڑا اور ہار گئے جبکہ 2018ء میں بھی آخری الیکشن بھی انھوں نے آزاد لڑا اور شکست کھائی۔
میاں منظور احمدوٹو ائر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال میں شامل ہوئے۔ 1982ء میں ہونیوالے غیر جماعتی انتخابات میں وہ ممبر ضلع کونسل بنے ان دنوں ساہیوال ضلع تھا مگر ان کے ارکان ضلع کونسل بننے کے ایک سال بعد 1983 میں اوکاڑہ کو بھی ضلع کی حیثیت مل گئی اور اس کیساتھ ہی میاں منظور احمد وٹو چیئرمین ضلع کونسل بھی بن گئے یہ وہ دور تھا جب بلدیاتی ادارے حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔اس کے بعد 1985ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کے بعد منظور احمدوٹو ایم پی اے بن گئے یوں اس وقت ان کے پاس ضلع کونسل کی چیئرمینی بھی تھی اور ممبر صوبائی اسمبلی بھی تھے اور یہی نہیں اسی برس میاں منظور احمدوٹو سپییکرصوبائی اسمبلی بھی بن گئے۔ یہ اعزاز ان کے سیاسی قد، انتظامی صلاحیت اور ایوان کے معاملات پر گرفت کا واضح ثبوت تھا۔اس کے بعد 1988ء میں بھی میاں منظور وٹو پر قسمت مہربان ہوئی اور وہ پہلے ایم پی اے بنے اور پھر سپیکر بنجاب اسمبلی بھی بن گئے۔1990ء کے انتخابات میں میاں منظور احمد وٹو ایم این اے بھی بن گئے اور حویلی لکھا سے ایم پی اے بھی بنے۔ تاہم انھوں نے پارٹی کے کہنے پر ایم این اے کی سیٹ چھوڑ دی جس پر راؤ قیصر ایم این اے منتخب ہو گئے اور خود ایم پی اے کی بنا پر تیسری مرتبہ پھر سپیکر پنجاب اسمبلی بن گئے۔ابھی انہی کی حکومت تھی کہ 1993ء میں وزیر اعلیٰٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروا کر میاں منظور احمدوٹو خود وزیر اعلیٰٰ پنجاب بن گئے تو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں اس طرح منظور احمد وٹو کی وزارت اعلیٰ بھی ختم ہو گئی۔ سپریم کورٹ نے اسمبلیاں بحال کر دیں اس طرح میاں منظور احمد وٹو ایک بار پھر وزیر اعلیٰٰ کی مسند پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کے بعد 1993ء کے انتخابات میں میاں منظور احمد وٹو نے تاندلیانوالہ سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی نے یہاں بھی ان کے قدم چومے بعد ازاں ان کی جونیجو لیگ نے پیپلز پارٹی کیساتھ الحاق کر لیا اور پیپلز پارٹی نے ان کو پنجاب کا وزیر اعلیٰٰ بنا دیا۔ اور ڈھائی سال تک اس کے وزیر اعلیٰٰ رہے اس کے بعد مرکز اور صوبے کی لڑائی میں ان کی وزارت اعلیٰ جاتی رہی اور بینظیر بھٹو نے سردار عارف نکئی کو وزیر اعلیٰٰ بنا دیا مگر صرف چھ ماہ بعد ہی فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔میاں منظور احمد وٹو تین مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب رہے۔ پہلی بار 25 اپریل 1993 سے 29 مئی 1993 تک، دوسری بار 20 اکتوبر 1993 سے 12 ستمبر 1995 تک، اور تیسری مرتبہ نومبر 1996 میں مختصر عرصے کے لیے۔ اگرچہ ان کے ادوار کو سیاسی عدم استحکام اور مرکز و صوبے کی کشمکش نے متاثر کیا، تاہم وہ انتظامی معاملات میں ایک مضبوط اور فیصلہ ساز وزیراعلیٰ کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تاہم ان کا یہ دور محض پارلیمانی کارروائی تک محدود نہ رہا بلکہ مذہب اور سیاست کے خطرناک امتزاج کی ایک تلخ مثال بھی بن گیا۔مولانا منظور احمد چنیوٹی کی جانب سے ان پرفتویٰ دراصل پاکستان کی سیاست میں فتووں کے استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے۔ خود میاں منظور وٹو نے اپنی آپ بیتی“جرمِ سیاست”میں اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق محض نسبتی تعلق کو بنیاد بنا کر ان کی حب الوطنی، ایمان اور آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا۔یہ محض ایک شخص پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ اس رویے کی عکاسی کرتا ہے جس میں مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ میاں منظور احمدوٹو لکھتے ہیں کہ وہ اس پراپیگنڈے سے مکمل طور پر ٹوٹ نہیں گئے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ کفر کا فتویٰ فولادی اعصاب رکھنے والے انسان کو بھی اندر سے زخمی کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے سیاست ترک نہیں کی۔ یہی ان کی استقامت اور سیاسی مزاج کا اصل امتحان تھا۔
1995ء میں میاں منظور احمدوٹو نے مسلم لیگ (جناح)کے نام سے اپنی پارٹی بنالی تاہم 1997ء کے الیکشن میں جیت نہ سکے بلکہ اس عرصے میں نیب نے ان کے خلاف شکنجہ کسا اور پانچ سال تک کرپشن الزامات میں جیل میں رہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کے بیٹے میاں معظم وٹو نے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن جیت لیا اور 2001ء کے لوکل باڈی الیکشن میں جب کہ منظور وٹو جیل میں تھے مگر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیر وٹو تحصیل ناظم منتخب ہو گیا۔2002ء میں میاں منظور وٹو جیل سے باہر آگئے اور اس سال ہونیوالے عام انتخابات میں ان کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو ایم این اے منتخب ہو گئیں۔
2008ء کے انتخابات میں میاں منظور احمدخان وٹو دیپالپور اور حویلی لکھا دونوں جگہ سے ایم این اے منتخب ہو گئے جس پر این اے 146دیپالپور کی سیٹ انھوں نے اپنے پاس رکھی جبکہ حویلی کی سیٹ چھوڑ کر اپنے بیٹے خرم جہانگیر کو وہاں سے منتخب کروا دیا۔ اور اسی برس میاں منظور احمد وٹو پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں میاں منظور وٹو کو انڈسٹری کی وزارت دے دی گئی جبکہ ان کے بیٹے میاں خرم جہانگیر وٹو پارلیمانی سیکرٹری بن گئے۔اسی دور میں جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ ختم کی تو نئے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے ان کو کشمیر بلتستان کا وزیر بنا دیا۔2013ء کا سال میاں منظور احمد وٹو کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہوا کیوں کہ اس برس پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ہونے کے باوجود یہ الیکشن میں تمام سیٹیں ہار گئے تاہم الیکشن کے صرف 45دن بعد ہی حویلی میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جیتی ہوئی سیٹ پر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیر وٹو ایم پی اے منتخب ہو گیا۔ اس وقت میاں منظور احمد وٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور میاں خرم جہانگیر وٹو ساہیوال ڈویژن کے صدر تھے۔
انتخابات 2018ء میں جیت کے لیے میاں منظور احمد خان وٹو نے ایک نئی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی اور اپنی بیٹی روبینہ شاہین اور میاں خرم جہانگیر وٹو کو پی پی 184 اور پی پی 186 سے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑادیا جبکہ خود پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں این اے 144 سے آزاد کھڑے ہو گئے۔اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا جبکہ میاں منظور وٹو نہ صرف این اے 143 سے دستبردار ہو گئے بلکہ انھوں نے اس حلقے میں پی ٹی آئی کی حمائت کی۔لیکن ان کی یہ سیاسی حکمت عملی کامیاب نہ رہی اور نہ تو عوام نے انھیں آزاد حیثیت میں کامیابی دلائی اور نہ میڈم روبینہ شاہین اور میاں خرم جہانگیر کو پی ٹی آئی ورکرز نے کھل کر سپورٹ کیا۔ اور ہار ان کا مقدر بنی۔عوام کا کہنا ہے کہ میاں منظور وٹو نے پی ٹی ائی کیساتھ مل کر بڑی سیاسی غلطی کی ہے جس سے نہ صرف کی ساتھ متاثر ہوئی بلکہ پی ٹی آئی کے ووٹر نے بھی ان کو قبول نہیں کیا اس سے بہتر تھا کہ میاں منظور وٹو پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے الیکشن لڑ کر ہار جاتے۔
سیاسی وابستگی کے حوالے سے وہ پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر بھی رہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے ان کی خدمات کو پارٹی قیادت آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جیسا کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے۔ گورنر پنجاب نے نہ صرف ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی بلکہ اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کی۔ ان کے مطابق میاں منظور احمد وٹو ایک منجھے ہوئے سیاستدان تھے اور پیپلز پارٹی کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں وساوے والا حویلی لکھا میں ادا کی گئی، جس میں گورنر پنجاب سمیت سیاستدانوں، صحافیوں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ میاں منظور وٹو محض ایک جماعت کے نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی حلقے کے نمائندہ تھے۔
راقم الحروف کے لیے میاں منظور احمد وٹو محض ایک سیاسی نام نہیں بلکہ ایک ذاتی مشاہدہ بھی ہیں بطور وزیراعلیٰ پنجاب جب وہ اوکاڑہ پریس کلب کی نئی تعمیر شدہ عمارت کے افتتاح کے لیے تشریف لائے تو راقم اس وقت پریس کلب کا رکن تھا۔ وہ لمحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہمیاں منظور وٹو صحافی برادری اور ادارہ جاتی ترقی کو کس قدر اہمیت دیتے تھے۔میاں منظور وٹو کو سیاسی سرگرمیوں کے حوالہ سے بھی بچشم دیکھتے رہے۔ ہمارے مرحوم دوست طلحہ علی لکھوی کے بھائی علی کی شادی پر بھی میاں منظور وٹو سے یادگار ملاقات رہی کیونکہ طلحہ لکھوی نے تعارف ہی کچھ اس انداز سے کروایا تھا۔لکھوی خاندان بھی اگرچہ ملک کا معروف مذہبی و سیاسی خاندان ہے۔ میاں منظور وٹو کے طلحہ علی لکھوی مرحوم کے والد گرامی محمد علی لکھوی سے دیرینہ تعلقات تھے۔ ایسا تعلق جو سیاست سے بالا تر ہو۔ ہم پی پی پی میٹنگز میں بھی میاں منظور وٹو کی سیاست اور فہم و فراست سے متاثر رہے۔ دھیمہ لہجہ، مدلل گفتگو انکی شناخت بنی۔
میاں منظور احمد وٹو کی سیاست میں سب سے نمایاں پہلو شاید یہ تھا کہ وہ الزام، مخالفت اور فتووں کے باوجود سیاسی میدان میں ڈٹے رہے۔ انہوں نے نہ تو خود کو مظلوم بنا کر پیش کیا اور نہ ہی جذباتی نعرہ بازی کو سیاست کا محور بنایا۔ وہ ایک حقیقت پسند سیاستدان تھے۔کبھی اقتدار میں کبھی اقتدار سے باہر مگر ہمیشہ سیاسی عمل کا حصہ رہے۔ان کی وفات کے ساتھ پنجاب کی سیاست کا ایک ایسا باب بند ہوا ہے جس میں سیاست صرف طاقت کا کھیل نہیں بلکہ اعصاب، برداشت اور کردار کا امتحان بھی تھی۔ میاں منظور احمد وٹو اب ہم میں نہیں رہے، مگر ان کی سیاسی جدوجہد، ان پر لگنے والے الزامات اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔








