کیا صرف الیکشن کا انعقاد ہی جمہوریت ہے۔۔؟
تحریر: سلمان احمد قریشی
پاکستان میں جمہوریت کو عموماً ایک محدود اور سطحی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔ عوام کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ ووٹ ڈال دینا ہی جمہوری فریضے کی تکمیل ہے اور الیکشن کا انعقاد ہی جمہوریت کی معراج ہے۔حالانکہ تاریخ، آئین اور عالمی جمہوری اصول اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف بیلٹ بکس رکھ دینے سے کوئی نظام جمہوری ہو جاتا ہے۔۔؟
اگر ایسا ہوتا تو جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کو بھی جمہوریت کے سنہری دور ماننا پڑتا، کیونکہ دونوں نے انتخابات کروائے اور عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان ادوار میں سیاسی آزادی، مساوی نمائندگی اور عوامی بالادستی ناپید رہی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن جمہوریت نہیں، بلکہ جمہوریت کے عمل کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔
جمہوریت کی اصل روح نمائندگی میں مضمر ہے۔ ایسی نمائندگی جو سماج کے ہر طبقے کی حقیقی آواز ہو نہ کہ چند مخصوص طبقات کی اجارہ داری قائم رہے۔ نمائندہ وہ ہونا چاہیے جو اسی طبقے سے تعلق رکھتا ہو جس کی وہ نمائندگی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اگر غریب کا نمائندہ امیر ہو، کسان کا نمائندہ صنعت کار ہو، اور مزدور کا ترجمان جاگیردار ہو تو یہ نمائندگی نہیں بلکہ تضاد ہے۔
معروف دانشور حسن نثار کا یہ جملہ ہمارے سیاسی کلچر کا نچوڑ بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ ووٹ لے کر نہیں، ووٹ چھین کر آتے ہیں۔یہ محض ایک طنزیہ جملہ نہیں بلکہ ہمارے انتخابی نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ یہاں سیاست عوامی خدمت نہیں رہی بلکہ سرمایہ کاری بن چکی ہے، جہاں کامیابی کا انحصار عوامی مقبولیت سے زیادہ دولت، اثر و رسوخ، برادری، طاقت اور خاندانی پس منظر پر ہوتا ہے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے اور اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 25 قانون کی نظر میں برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر عملی طور پر سیاست عام شہری کے لیے نہ تو قابلِ رسائی ہے اور نہ ہی مساوی ہے۔انتخابی اخراجات، سیاسی وابستگیاں اور طاقتور حلقوں کی پشت پناہی کے بغیر الیکشن لڑنا ایک عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست میں آبائی نشست، خاندانی حلقہ، سیاسی وراثت جیسے تصورات عام ہو چکے ہیں۔ سیاست ایک موروثی پیشہ بن چکی ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ جمہوریت میں جہاں نظریہ، کردار اور عوامی خدمت معیار ہونے چاہئیں، وہاں ہمارے ہاں خاندانی نام ہی سب سے بڑی اہلیت سمجھا جاتا ہے۔
عام آدمی ووٹ تو ڈال سکتا ہے مگر انتخابی عمل میں عملاً شریک نہیں ہو سکتا۔ یہ محرومی صرف ریاستی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سماجی دباؤ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم کی کمی اور روزی روٹی کی فکر نے عوام کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ سوال کرنے، احتجاج کرنے یا سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے کی سکت ہی کھو بیٹھے ہیں۔
یوں نمائندگی کے نام پر اطاعت قبول کروائی جاتی ہے۔ عوام کو شریکِ اقتدار بنانے کے بجائے محض عددی قوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نوے فیصد آبادی کی نمائندگی صرف دس فیصد مراعات یافتہ طبقہ کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف قومی اسمبلی یا سینیٹ تک محدود نہیں۔ ٹریڈ یونینز ہوں، سرکاری کمیٹیاں ہوں، بلدیاتی ادارے ہوں یا دیگر عوامی فورمز ہر جگہ اصل نمائندوں کی جگہ ایسے چہرے نظر آتے ہیں جو عوام کے نہیں بلکہ طاقتور مفادات کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ نتیجتاً فیصلہ سازی عوامی مفاد کے بجائے اشرافیہ کے گرد گھومتی رہتی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، مگر شفافیت صرف پولنگ ڈے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اصل سوال امیدوار بننے کے مساوی مواقع، انتخابی اخراجات کی حد اور سیاسی اجارہ داری کے خاتمے کا ہے جن پر سنجیدہ بحث سے گریز کیا جاتا ہے۔
حقیقی جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پانچ سال بعد عوام سے ایک پرچی ڈلوالی جائے بلکہ یہ ہے کہ اقتدار کے دروازے عام شہری کے لیے کھلے ہوں۔ جمہوریت وہاں جنم لیتی ہے جہاں ووٹر صرف ووٹ ڈالنے والا نہیں بلکہ ممکنہ امیدوار اور فیصلہ ساز بھی ہو۔
جب تک سیاست مہنگی، موروثی اور طاقتور طبقے کی جاگیر رہے گی اس وقت تک الیکشن ایک رسمی مشق اور جمہوریت ایک فریب ہی رہے گی۔ پاکستان کو اگر حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھنا ہے تو نمائندگی کے تصور کو طبقاتی قید سے آزاد کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر ہم جمہوریت کا نام لیتے رہیں گے، اور اقتدار ہمیشہ چند ہاتھوں میں ہی رہے گا۔









