ڈگری والے بے روزگار کیوں؟

تحریر۔ عبدالستار

یہ سوال آج کسی ایک گھر کا نہیں، پوری نسل کا ہے۔ آج ہر گلی میں، ہر محلے میں، ہر شہر میں ہزاروں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے پاس ڈگریاں ہیں، سرٹیفیکیٹ ہیں، کورسز ہیں مگر ہاتھ میں روزگار نہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، یہ ایک فکری سانحہ اور اجتماعی ناکامی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان بے روزگار کیوں ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ ڈیگری ہونا روزگار کی ضمانت کیوں نہیں رہا؟
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو مقصد کے بجائے رسم بنا دیا ہے۔ ہم بچوں کو اسکول میں داخل کرتے ہیں، بورڈ کے امتحانات دلواتے ہیں، کالج کی دوڑ میں شامل کرتے ہیں، یونیورسٹی کی فیسیں بھر دیتے ہیں، ڈگری ہاتھ میں پکڑوا دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ فرض پورا ہوگیا۔ جبکہ اصل مسئلے کی شروعات تو یہی سے ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم نے تعلیم کو مارکیٹ، صنعت، ٹیکنالوجی اور سکلز سے کبھی نہیں جوڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان پڑھ بھی لیتا ہے، مگر کماتا نہیں۔
آج ایک عام نوجوان یونیورسٹی سے چار سالہ ڈگری لے کر نکلتا ہے تو اس کے سامنے تین حقیقتیں کھڑی ہوتی ہیں:
پہلی حقیقت:
نوکری کے لئے تجربہ مانگا جاتا ہے، اور سوال یہ ہے کہ جو یونیورسٹی سے نکلا ہے وہ تجربہ کہاں سے لائے؟
دوسری حقیقت:
کمپنی اس کی ڈگری نہیں دیکھتی، اس کی سکل دیکھتی ہے — اور اس کے پاس سکل ہی نہیں ہوتی۔
تیسری حقیقت:
نوکری کی کرسی کم ہے، اور ڈگری والے زیادہ۔ مقابلہ سخت ہے اور مواقع محدود۔
یہ تینوں حقیقتیں نوجوان کو دبا دیتی ہیں، توڑ دیتی ہیں اور بہت سے لوگ مایوسی، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ دباؤ صرف انفرادی نہیں بلکہ معاشرتی دباؤ ہے کیونکہ ایک گھر میں اگر ایک نوجوان بے روزگار ہو تو اس کی تکلیف صرف اس کے دل تک نہیں رہتی، بلکہ پورا گھر برداشت کرتا ہے۔
عجیب تضاد دیکھیں کہ ڈگری والے چائے بھی بناتے نظر آتے ہیں اور پھل بھی فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ ’’لو جی انجینئر جوس پلا رہا ہے‘‘ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس ملک نے اسے پلیٹ فارم کیا دیا؟ موقع کیا دیا؟ سسٹم نے اسے پہچانا کیا؟
دوسری طرف دنیا بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی آگے بڑھ گئی، انڈسٹری آگے بڑھ گئی، کاروبار آن لائن چلے گئے، لیکن ہمارا نصاب وہیں کھڑا ہے جہاں پچاس سال پہلے تھا۔
کتابیں پرانی، سوچ پرانی، نظام پرانا — اور پھر ہم کہتے ہیں نوجوان کامیاب کیوں نہیں؟
ایک اور بڑے سانحے کی طرف آئیے۔
ہمارا تعلیمی نظام ٹیچر اور اسٹوڈنٹ بناتا ہے، کمانے والا اور بنانے والا نہیں بناتا۔
نوجوان کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ایک آئیڈیا کیسے کاروبار بن سکتا ہے؟
اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ فری لانسنگ کیا ہے، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کیا ہے، سٹارٹ اپ کیسے بنتا ہے، سکل کیسے سیکھی جاتی ہے؟
بلکہ اسے کہا جاتا ہے کہ ’’پڑھ لو، نمبر لے آؤ، ڈگری لے لو، باقی اللہ مالک ہے‘‘۔
یہ ہے وہ جملہ جس نے نسل برباد کی۔
پھر ایک فیکٹر سوشل پریشر کا ہے۔
ہمارے گھر والے ڈگری کو عزت سمجھتے ہیں اور ہنر کو کم ظرفی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ: آج کی دنیا میں ہنر کماتا ہے، ڈگری نہیں۔
آپ دنیا کی بڑی کمپنیوں کو دیکھ لیں:
ان کے مالک، ان کے لیڈر اور ان کے سی ای او یا تو ڈگری چھوڑ چکے تھے، یا پھر ڈگری کو اپنا مقصد نہیں بنایا۔
انہوں نے آئیڈیا، سکل، مارکیٹ اور ٹیکنالوجی کو مقصد بنایا۔
ہماری نسل کو اس “نئے سچ” کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ:
مستقبل ڈگری تھیسس سے نہیں، سکل + آئیڈیا + ٹیک سے بنتا ہے۔
ایک تمسخر بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب نوجوان بےروزگار بیٹھا ہوتا ہے تو معاشرہ اسے ’’نالائق‘‘ سمجھتا ہے۔ حالانکہ وہ نالائق نہیں تھا، وہ صرف سسٹم کی خرابی کا شکار تھا۔
کیونکہ ذمہ داری صرف نوجوان کی نہیں — ذمہ داری تعلیم دینے والے کی، نصاب بنانے والے کی، پالیسی تیار کرنے والے کی، اور مارکیٹ کے ساتھ لنک کرنے والے کی ہے۔
پھر ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نوکریاں نہیں بنتیں — عہدے بنتے ہیں۔
یہ عہدے ڈگری والوں کے لئے نہیں، سفارش والوں کے لئے ہوتے ہیں۔
جس کے پاس سفارش نہیں، اس کا حق اس کی فائل کے ساتھ دھول کھاتا رہتا ہے۔
دوسری طرف دنیا میں نوجوانوں کو یونیورسٹی کے دوران ہی کاروبار، انٹرن شپ، فری لانسنگ اور انڈسٹری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
جب وہ پڑھائی ختم کرتے ہیں تو وہ کام کے قابل ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں وہ صرف کاغذ کے قابل ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
✔️ حل یہ نہیں کہ ڈگری چھوڑ دو۔
✔️ حل یہ نہیں کہ پڑھائی بےکار ہے۔
اصل حل یہ ہے کہ:
🎯 ڈگری کے ساتھ سکل ضروری ہے
🎯 علم کے ساتھ عمل ضروری ہے
🎯 تھیوری کے ساتھ پریکٹس ضروری ہے
🎯 سوچ کے ساتھ ہمت ضروری ہے
🎯 کام کے ساتھ ٹیکنالوجی ضروری ہے
اگر نوجوان کے پاس یہ پانچ چیزیں ہوں تو کوئی طاقت اسے ناکام نہیں کر سکتی۔
آج کے نوجوان کو چاہیے کہ:سکل سیکھے.انٹرن شپ کرے.مارکیٹ سمجھے
ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں
آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرے
نیٹ ورک بنائے
چھوٹے کام سے شروع کرے
کیونکہ دنیا اپنے لئے مقام بنانے والوں کو جگہ دیتی ہے، ڈگری دکھانے والوں کو نہیں۔
آخر میں ایک بات سمجھ لیں:
نوجوان بے روزگار نہیں نظام ناکام ہے۔نوجوان بے کار نہیں راستے بند ہیں۔نوجوان نااہل نہیں مواقع ختم ہیں۔اور یہ سب کچھ صرف ایک ڈگری سے نہیں بدلے گا۔
یہ وقت ہے کہ والدین، ادارے، حکومت اور معاشرہ سوچ بدلے کیونکہ تعلیم صرف کاغذ نہیں، زندگی بدلنے کا عمل ہے۔