نیک بچہ اور روشن دل
۔… تحریر اعجاز احمد چشتی
میں ہوں اعجاز فکری، بچو! السلام علیکم
سنو آج کی کہانی…
فکرستان کی دنیا میں ایک خوبصورت بستی تھی، محبت پور۔
یہاں کے لوگ محبت سے رہتے تھے اور بچے ہنستے کھیلتے ہوئے اچھے کام سیکھتے تھے۔
اسی بستی محبت پور میں ایک پیارا سا بچہ رہتا تھا، جس کا نام عبداللہ تھا۔ عبداللہ جانتا تھا کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا، دل کو کالا کر دیتا ہے، اس لیے وہ ہمیشہ برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرتا تھا۔
ایک دن کھیل کے دوران ایک لڑکے نے عبداللہ سے کہا،
“چلو جھوٹ بول دیتے ہیں، کسی کو پتا نہیں چلے گا۔”
عبداللہ نے فوراً انکار کر دیا اور بولا،
“نہیں! جھوٹ گناہ ہے، اور گناہ دل کو میلا کر دیتا ہے۔ میں اپنا دل صاف رکھنا چاہتا ہوں۔”
اتنے میں وہاں چاچا نور آ گئے۔ انہوں نے بچوں کو پیار سے اپنے پاس بٹھایا اور نرمی سے سمجھایا،
“بچو! شیطان ہمیشہ برے کام کی طرف بلاتا ہے، لیکن نیک بچے اس کی بات نہیں مانتے۔ جو بچپن میں گناہ سے بچتا ہے، وہ بڑا ہو کر اچھا اور نیک انسان بنتا ہے۔”
عبداللہ روز نماز پڑھتا تھا، سچ بولتا تھا اور اپنے والدین کی بات مانتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ گناہوں سے بچا رہتا تھا۔ اسے دیکھ کر بستی محبت پور کے دوسرے بچے بھی اچھے کام کرنے لگے۔
چاچا نور نے آخر میں کہا،
“ہمیشہ اچھے کام کرو، اپنے دل کو صاف رکھو اور گناہ سے دور رہو۔ یاد رکھو! نیک بچے ہی روشن کل کا چراغ ہوتے ہیں۔”
آخر میں اعجاز فکری آپ سے کہتا ہے:
“بچو! آؤ تم بھی نیک بننے کا وعدہ کرو۔
اجازت دیں، چلتا ہوں فکرستان کی دنیا میں،
جہاں سے لاؤں گا ایک نئی کہانی۔
اللہ نگہبان، پاکستان زندہ باد! 🇵🇰”








