غزہ میں سخت سردی کی وجہ سےمشکلات میں اضافہ

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

غزہ میں سخت سردی کی وجہ سےمشکلات میں اضافہ

غزہ اس وقت شدید بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے غزہ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔اسپتال،رہائشی عمارتیں اور کھیت تک تباہ ہو چکےہیں۔جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے باوجود بھی جنگ بندی نہیں ہو رہی کیونکہ جنگ کرنے والے طاقتور ہیں۔اسرائیل کے پاس جدید اسلحہ بھی موجود ہے اور امریکہ کی مدد بھی مسلسل مل رہی ہے۔اس وقت غزہ ایسی بستی میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں انسانیت سسک سسک کر مر رہی ہے۔فلسطینیوں کو ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بمباری نے رہائشی عمارتیں بھی تباہ کر دی ہیں،اسی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔بے گھر افراد معمولی سے ٹینٹوں میں رہائش پذیر ہیں۔ان مشکلات میں موسمی صورتحال مزید اضافہ کر رہی ہے۔شدید طوفانی بارشوں اور سخت سردی نے فلسطینیوں کی اذیت میں شدید ترین اضافہ کر دیا ہے۔بارشوں کا پانی ٹینٹوں کے اندر داخل ہو جاتا ہے،جس کی وجہ سے بستر تک بھیگ جاتےہیں۔شدید سردی نوزائیدہ بچوں،ضعیف افراد اور بیماروں کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔خوراک کی بھی شدید کمی ہے،جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی صحت بگڑ گئی ہے۔بہت سے شیر خوار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ سردی کا وہ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز غزہ میں سردی سے ایک اورشیر خوار بچے کی موت واقع ہو گئی۔سردی سے بچانے کے لیے ممکنہ انتظامات نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں۔ویسے بھی خیموں کی کمی ہے،اس لیے بعض خاندان معمولی کپڑے سے بنےہوئے ٹینٹوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔معمولی کپڑوں سے بنے ہوئے ٹینٹ سخت سردی یا بارشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے،اس لیے ان کے اندر رہائش پذیر افراد بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع العودہ اسپتال کےنوزائیدہ وارڈ کی حالت بہت ہی تشویش ناک ہے۔ادویات بھی کم ہیں اورطبی آلات کی بھی کمی ہے نیز بجلی کی بھی بار بار بندش ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت کو درست حالت پر رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ماؤں کی خراب صحت کی وجہ سے قبل از وقت بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے زیادہ سردی سے متاثر ہوتے ہیں،لیکن اسپتالوں میں وہ سہولیات میسر نہیں ہوتیں جن کی ان نوزائیدگان کو ضرورت ہوتی ہے۔
غزہ کی نازک صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر انسانی امداد پہنچائی جاتی،لیکن ان تک امداد پہنچ نہیں رہی کیونکہ اسرائیل نے راستے بند کر دیے ہیں۔کتنی افسوسناک صورتحال ہے کہ انسان سسک سسک کر مر رہے ہیں،لیکن ان تک امداد بھی نہیں پہنچ رہی۔اسلامی دنیا کی بے حسی بھی بہت ہی افسوسناک ہے۔مسلم ریاستیں فوری طور پر ان تک امداد پہنچائیں۔ان حالات میں کچھ اچھے ممالک اور اچھی این جی اوز یا تنظیمیں غزہ کے مظلوموں تک خوراک اور دیگر ضروریات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔وہ قابل احترام ہیں،جو ان تک امداد پہنچا رہے ہیں،حالانکہ نہ تو ان کا کوئی خونی رشتہ ہے اور نہ قومی لیکن انسانیت کی بنیاد پر فلسطینیوں تک انسانی مداد پہنچائی جا رہی ہے۔اسلامی ریاستیں خوف کا شکار ہو چکی ہیں،اس لیے فلسطینیوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔فوری طور پر فلسطینیوں تک خوراک، ادویات،گرم کپڑے اور دیگر ضروریات پہنچائی جائیں تاکہ جتنے افراد بچ سکیں،ان کو بچایا جائے۔خیموں کی بھی ضرورت ہے نیز وہاں رہنے والے بچوں کی تعلیمی ضروریات کا بھی بندوبست کیا جائے۔سب سے زیادہ ضرورت شیرخوار بچوں کو بچانے کی ہے،ان کے لیے دودھ اور ادویات کا بندوبست کیا جائے۔
کتنی افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک جگہ پر انسان موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف عیاشیوں میں سرمایہ لٹایا جا رہا ہے۔فلسطینیوں کا قصور یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ان کی اپنی زمین ان پر تنگ کر دی گئی ہے۔ایک ایسی قوم کو ان پر مسلط کر دیا گیا ہے جو ان کو اپنی زمین سے بے دخل کر رہی ہے اور ان کو زندگی سے بھی محروم کر رہی ہے۔اگر وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنا چاہیں تو ان کو کافی عرصہ درکار ہوگا۔رہنے کے لیے عمارتیں تعمیر کرنا ہو گی جن پر کافی سرمایہ خرچ ہوگا۔جنگ زدہ فلسطینیوں کے پاس سرمایہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ہو سکتا ہے بین الاقوامی برادری ان کو سرمایہ دے بھی دے تو پھر بھی کافی وقت ان کوبحال ہونے میں لگے گا۔جنگ زدہ فلسطینی نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہو چکے ہوں گے،کیونکہ جنگ نے ان کی ذہنی حالت کو متاثر کر دیا ہوگا،ان کو نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ادویات کی بھی ضرورت ہوگی۔بہت سے افراد معذور ہو چکے ہیں وہ بھی تکلیف دہ حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،ان کی دیکھ بھال پر بھی کافی سرمایہ خرچ ہوگا۔بین الاقوامی برادری سمیت اسلامی ممالک فوری طور پر بے بس فلسطینیوں کی مدد کریں،تاکہ وہ بھی زندگی کی دھارے میں شامل ہو سکیں۔