کینیڈا اور چین کےدرمیان بڑھتےتعلقات

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے اور یہ دورہ ایک نئے مستقبل کی نشاندہی کر رہا ہے۔کافی عرصے سے چین اورکینیڈا کے درمیان کشیدگی پھیلی ہوئی تھی۔تقریبا 2017 سے چین کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات ناخوشگوار ہو گئے تھے۔سابقہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈ نے بھی 2024 میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کر دیا تھا۔کئی برسوں کے بعد کینیڈا کے کسی بھی رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے اور یہ دورہ عالمی طور پر بھی خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے۔کینیڈاکےوزیراعظم مارک کارنی نے نئے عالمی نظام(New world order) کا حوالہ دیا۔کارنی نے کہا کہ چین اور کینیڈا کے درمیان ابھرتی ہوئی اسٹریٹیجک شراکت داری دونوں ممالک کے بدلتے عالمی منظرنامے میں ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔مارک کارنی نے چینی صدر سے ملاقات میں کہا کہ دنیا بہت بدل چکی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیشرفت، نئے عالمی نظام کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا اسٹریٹیجک اشتراک استحکام،سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دے گا اور دونوں ممالک کو زراعت،غذائی پیداوار،توانائی،فنانس اور ایگری فوڈ انڈسٹری جیسے شعبوں میں تاریخی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔کینیڈا کےوزیراعظم نے کہا کہ چین اب کینیڈین کینولا پر ٹیرف کم کر کے 15 فیصد تک کر دے گا،جس کے بدلے میں کینیڈا 49 ہزار چینی الیکٹرک گاڑیوں کو اپنی مارکیٹ میں جگہ دے گا۔
کینیڈا اور چین کے درمیان بڑھتے تعلقات امریکہ کے لیے کافی ناخوشگوار ثابت ہو سکتے ہیں۔چین کا اثرورسوخ امریکہ کے لیےنا قابل برداشت ہوگا۔جوابی طورپر ٹرمپ نے کینیڈا پر بھاری ٹیرف عائدکر دیا ہے۔امریکی صدر بارہا کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے کا متنازعہ بیان بھی دے چکے ہیں۔ٹرمپ کا بیان کینیڈا کے لیے ایک سرخ نشان ہے۔کینیڈا اپنے تحفظ کے لیے چین کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔کینیڈا کی سلامتی اب بھی خطرے میں ہے،اگر امریکہ نے کینیڈا پر حملہ کر دیا۔دونوں ممالک اگر مستقبل میں ایک دوسرے کے بہترین اتحادی ثابت ہوتے ہیں تو اسی طرح کے تعلقات دوسرے ممالک بھی چین کے ساتھ بڑھا سکتے ہیں۔چین کی برتری امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہوگی،کیوں کہ چینی برتری کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ بہت ہی کمزور پوزیشن پر چلاجائے۔امریکہ کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ چین کو مضبوط بننے سے روکا جائے۔دوسرے ممالک پر بھی امریکی دباؤ بڑھنا شروع ہو جائے گا کہ وہ چین کے اتحادی نہ بن جائیں۔کینیڈا کے علاوہ ڈنمارک یاکوئی دوسرا ملک روس یا چین کے ساتھ اتحاد کر سکتا ہے۔وہ اتحاد اگر مضبوط ثابت ہو گیا تو ڈالر کی برتری بھی کم ہو سکتی ہے اور امریکی اجارہ داری بھی ختم ہو جائے گی۔جس طرح مارک کارنی نے نئے عالمی نظام کا نام لیا ہے،اس سے علم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک بہت آگے بڑھنے کی سوچ رہے ہیں۔دونوں ممالک اگر متحد ہو جائیں تو نیٹو طرز کا ایک دوسرا اتحاد بھی قائم ہو سکتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ برکس کو مزید طاقتور بنا لیا جائے اور برکس کے نام پر نئی کرنسی بھی لانچ کی جا سکتی ہے۔ڈالر کئی کرنسیوں سے کم ویلیو رکھتا ہے،مگر عالمی طور پر اس کی اجارہ داری مضبوط ہے۔اب اگر برکس یا کوئی اور کرنسی عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بناتی ہے تو ڈالر اپنی ویلیو کھو دے گا۔
سوال اٹھتا ہے کہ اگر کینیڈا یا کوئی اور ملک چین یا کسی دوسرے ملک سے اپنے اتحاد کو مضبوط کرتا ہے تو امریکہ کا کیا رد عمل ہوگا؟ممکنہ جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ٹیرف میں اضافہ کر دیا جائے۔دوسرا یہ بھی جواب ہو سکتا ہے کہ اس ملک کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جائے جو چین کے ساتھ اتحاد میں دلچسپی رکھتا ہے۔امریکی صدر کی خطرناک پالیسیاں امریکہ کو کمزور بھی کر رہی ہیں۔ہو سکتا ہے امریکہ جنگ نہ کرے اور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مخالف بلاک میں جانے والے ممالک کو پریشرائز کرے۔یورپی یونین کے ممالک بھی امریکی اثرورسوخ سے نکل سکتے ہیں نیز عرب ممالک یا دیگر ممالک بھی امریکی مخالف بلاک میں شامل ہوسکتے ہیں۔کینیڈا کے وزیراعظم کا نئے ورلڈ آرڈر کے بارے میں گفتگو کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف ہو چکے ہیں۔سٹریٹیجک تعلقات امریکہ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔امریکہ ہر ممکنہ حربہ استعمال کرے گا تاکہ حالات پر کنٹرول کیا جا سکے،لیکن شواہد بتا رہے ہیں کہ شاید امریکہ اب اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔بہرحال کچھ عرصے کے بعد بہت کچھ واضح ہو جائے گا کہ امریکہ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہے یا نہیں؟فی الحال چینی صدر اور کینیڈاکے وزیراعظم کی ملاقات ایک نئے اتحاد کی نشاندہی کر رہی ہے۔