پنجاب میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت: سہولت یا خطرہ؟
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*پنجاب میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے ایک اہم اور چونکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026ء منظور کر لیا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ جہاں بعض حلقوں میں سہولت اور عملی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں اس پر سنجیدہ سوالات اور تحفظات بھی جنم لے رہے ہیں۔پاکستان خصوصاً پنجاب میں موٹرسائیکل متوسط طبقے کی سب سے عام سواری ہے۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں کم عمر لڑکے برسوں سے موٹرسائیکل چلاتے نظر آتے ہیں، حالانکہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسکول جانا ہو، گھر کے کام ہوں یا والدین کے ساتھ روزمرہ ذمہ داریاں، کم عمر بچے پہلے ہی عملی طور پر سڑکوں پر موجود ہیں ایسے میں حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ایک موجودہ حقیقت کو قانونی دائرے میں لا کر بہتر کنٹرول اور نظم و ضبط قائم کیا جا سکتا ہے۔تاہم اس فیصلے کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تشویشناک ہے ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ کم عمر اور ناتجربہ کار ڈرائیورز ہیں۔ 16 سال سے کم عمر بچوں میں نہ تو ٹریفک قوانین کی مکمل سمجھ ہوتی ہے اور نہ ہی ذہنی پختگی کہ وہ ہنگامی حالات میں درست فیصلے کر سکیں۔ موٹرسائیکل جیسے غیر محفوظ ذریعے پر کم عمر بچوں کو اجازت دینا حادثات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس اجازت کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو بھی لازمی بنایا جائے گا؟ اگر حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد چاہتی ہے تو محض اجازت کافی نہیں۔ کم عمر موٹرسائیکل سواروں کے لیے خصوصی لائسنس، لازمی ٹریننگ، ہیلمٹ اور رفتار کی حد جیسے سخت اصول نافذ کرنا ناگزیر ہوگا۔ بصورت دیگر یہ قانون سہولت سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے مزید برآں، والدین کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں انتہائی اہم ہے۔ اکثر والدین کم عمری میں بچوں کو موٹرسائیکل تھما دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ اس کے نتائج پر غور کریں۔ اگر قانون میں نرمی کی جا رہی ہے تو والدین کے لیے بھی ذمہ داریوں کا تعین ضروری ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں لاپرواہی کا سدباب ہو سکے۔پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے منظور کیا جانے والا موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026ء بلاشبہ ایک بڑا قانونی قدم ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈرائیونگ کی اجازت عمر کے ساتھ ساتھ سخت تربیتی مراحل سے مشروط ہوتی ہے۔ ہمیں بھی صرف سہولت کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دینا ہوگی۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دینا ایک حساس فیصلہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ سخت قوانین، مؤثر نگرانی اور عملی تربیت کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ فیصلہ ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے بجائے مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس قانون کو محض کاغذی اجازت تک محدود رکھتی ہے یا عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی کے ساتھ نافذ کرتی ہے۔*









