ایران پر جنگ کی منڈلاتے خطرات اور مذاکرات
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
ایران پر جنگ کے منڈلاتے خطرات اور مذاکرات
ایران پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔امریکہ اپنا طاقتور بحری بیڑا بھیج چکا ہے۔یہ جنگ صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے میں ایک بڑی جنگ بھڑک سکتی ہے۔تہران نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا زبردست جواب دیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق ایران کے پاس دو ہزار بیلسٹک میزائل موجود ہیں،جن میں مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے وہ میزائل بھی شامل ہیں جو خطے میں اہداف کا نشانہ آسانی سے بنا سکتے ہیں۔یہ اہداف امریکہ کے مشرق وسطی میں موجود اڈے ہیں اور ان اہداف میں اسرائیل بھی شامل ہے۔جنگ کے امکانات کے باوجود مذاکرات کابھی اعلان کیا جا رہا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بیان دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ریڈ لائنز کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ایران اور امریکہ کے درمیان ماضی میں کئی بار ایٹمی مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے،کیونکہ امریکی مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنی ایٹمی صلاحیت کو ختم کر دے۔جبکہ ایران اپنے اس موقف پرڈٹا ہوا ہے کہ اس کی ایٹمی صلاحیت مثبت مقاصد کےلیےہے۔اب عمان ایٹمی مذاکرات میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کاکردار ادا کر رہا ہے۔ہو سکتا ہے جس وقت یہ الفاظ پڑھے جا رہےہو، اس وقت ایٹمی مذاکرات شروع ہو چکے ہوں۔یہ امکان کم ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں کیونکہ ایران اگر اپنی ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہو جائے تو وہ اپنی سلامتی کو انتہائی کمزور کر دے گا۔ایٹمی صلاحیت سے محروم ایران مخالفین کا آسانی سے نشانہ بن سکتا ہے،لیکن بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران معاشی اور دفاعی لحاظ سے بہت ہی کمزور ہو گیا ہے۔ایران کو صرف امریکہ سے خطرہ نہیں بلکہ اسرائیل سے بھی سخت خطرہ ہے۔ایران کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دشمنوں میں گھر چکا ہے۔امریکہ کے اڈے مختلف ممالک میں موجود ہیں اور ان اڈوں کے ذریعے ایران پر آسانی سے حملہ کیا جا سکتا ہےنیزاسرائیل بھی ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ایران کے لیے ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ایران مختلف ممالک میں موجودامریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا،اس طرح امریکہ مختلف علاقوں میں موجود اڈوں کا دفاع آسانی سے نہیں کر سکے گا۔جن ممالک میں امریکی اڈے موجود ہیں وہ بھی نشانہ بنیں گے، اس لیے ان ممالک کا دباؤ بھی امریکہ کو مجبور کرے گا کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ کوئی مثبت حل نکالا جائے۔ایران ان ممالک کو بھی واضح وارننگ دے چکا ہے کہ حملہ کرنے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔اگر اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ ممالک بھی نشانہ بنیں گے جہاں اڈے موجود ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں،کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہرحال ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا کہ اگر تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو ایران اپنے انتہائی زیادہ افزودہ یورنیم کو کم افزودگی پر لانے میں رضامند ہو سکتا ہے۔یہ ایک واضح اشارہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران بہت کچھ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ایران اندرونی طور پر بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے اور بیرونی دباؤ کابھی سخت مقابلہ کر رہا ہے۔کچھ عرصہ پہلے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔احتجاجی مظاہروں نےبھی حکومت کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا تھا۔اب مظاہروں پر تو قابو پا لیا گیا ہے لیکن بیرونی دباؤ برقرار ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہو جائیں۔مظاہرے شروع کروانے میں بیرونی قوتیں بھی ملوث ہو جائیں گی،وہ اس لیے کہ ایران کوکمزورکیاجاسکے۔مذاکرات میں کامیابی اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ اگر ایران اپنی ایٹمی صلاحیت سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔واشنگٹن کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران اپنے یورنیم کے ذخائر سے دستبردار ہو،جن کا اندازہ اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی نے گزشتہ سال 440 کلوگرام سے زائد لگایا تھا،جو 60 فیصد تک افزودہ ہیں اور یہ جوہری ہتھیاروں کے معیار کی 90 فی صدسے کچھ کم ہیں۔یہ بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ ایران ایٹمی صلاحیت مکمل طور پر حاصل کر چکا ہے۔ممکن ہے کہ یہ اندازے درست نہ ہوں کہ ایران اس قابل ہو گیا ہے کہ ایٹمی صلاحیت فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔بہرحال یہ خوف موجود ہے کہ ایران ایٹمی قوت استعمال کر سکتا ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ ایران پر مکمل طور پر حملہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعودپزشکیان نے کہاہےکہ مذاکرات کا نیا دور اس معاملہ کے منصفانہ اور متوازن حل کا ایک مناسب موقع ہوگا۔مزید کہا کہ مطلوبہ نتیجہ اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ اگر امریکہ سخت گیر موقف سے گریز کرے اور اپنے وعدوں کا احترام کرے۔ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران پابندیاں اٹھانے کے مطالبے پر قائم رہے گا اور افزودگی سمیت اپنے جوہری حقوق پر اصرار کرے گا۔ایران ایٹمی صلاحیت کا مثبت مقاصد کے لیے استعمال اپنا حق سمجھتا ہے،یہ درست بھی ہے کہ ہر ملک ایٹمی صلاحیت کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے۔بجلی،ادویات اور دیگر مقاصد کے لیے ایٹمی صلاحیت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایرانی صدر کایہ بیان وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے کہ تہران اپنے موقف پر قائم رہے گا۔امریکہ ایٹمی ایران نہیں چاہتا،اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوں گے۔
اسرائیل کی طرف سے بھی مذاکرات پر نیتن یاہو کے چھ اہم مطالبات بھی سامنے آگئے ہیں اور یہ چھ نکات امریکی فریق کو پہنچا دیے گئے ہیں۔وہ یہ مطالبات ہیں۔ایرانی جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ،یورنیم افزودگی کی صلاحیت صفر کی جائے،ایران کے اندر موجود تمام افزودہ یورنیم کو تباہ کر دیا جائے،بیلسٹک میزائلوں کی حدود 300 کلومیٹر تک محدود کر دی جائے،خطے میں تہران کے تمام اتحادیوں اور پراکسی نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جائے،کسی بھی آئندہ معاہدے پر مکمل اور طویل المدتی نگرانی۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے ان مطالبات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کے نام نہاد بالادستی کی پالیسی کی مذمت کی۔جس کے تحت اسرائیل اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کرتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک پر اسلحہ کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔یہ تو واضح ہے کہ امریکہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک اسرائیل مطمئن نہ ہو جائے اور اسرائیل اس وقت مطمئن نہ ہوگا جب تک ایران جیسے خطرے کو ختم نہ کر دے یا اس حد تک کمزور نہ کر دے کہ اسرائیل کوآسانی سے نشانہ نہ بنا سکے۔اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ کا امکان بہت بڑھ جائے گا۔ایران بھی آسانی سے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہےاور ایسا گزشتہ سال جنگ کے دوران کیا بھی جا چکا ہے۔ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے جدید نظام کو بھی چکمہ دے دیا تھا۔اب تہران کی طرف سے اعلان بھی کر دیا گیا ہے کہ اب ایرانی میزائلوں کی کارکردگی میں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔مذاکرات کی کامیابی کا امکان اس لیے بھی نہیں ہے کہ ایران اپنی ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہونے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا۔بہرحال کچھ بھی ہو سکتا ہے،ہو سکتا ہے ایران دستبردار ہو جائے۔ایرانی حکومت اچھی طرح سمجھتی ہے کہ معاف ان کو پھر بھی نہیں کیا جائے گا اس لیے مقابلہ کیا جائے،کم سے کم دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور جیتنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔جنگ نہ ہونا بہتر ہے کیونکہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو پورا خطہ اس جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔اس لیے مشرق وسطی کےتمام ممالک جنگ کو روکنے کی کوشش کریں،اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو ایران کا ساتھ دیا جائے ورنہ وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔









