بار کی سیاست اور پیشہ ورانہ وقار کا بحران

تحریر ایڈوکیٹ مجیب الرحمن

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات نے وکلاء برادری کے اندر جاری ایک سنجیدہ بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک انتخابی دن کا نہیں، بلکہ اس سمت کا ہے جس طرف ہماری بار سیاست بڑھ رہی ہے۔ جو منظر سامنے آیا، وہ اطمینان بخش نہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بار کی سیاست بتدریج پیشہ ورانہ حدود سے نکل کر قومی سیاسی فضا کے زیر اثر آتی دکھائی دیتی ہے۔ وکلاء کے گروپس اب اکثر اپنے نام یا کارکردگی سے زیادہ سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی کھلی یا غیر اعلانیہ سرپرستی بھی ایک حقیقت بن چکی ہے۔ دوسری جانب انتخابی امیدواروں کی یہ کوشش نمایاں رہتی ہے کہ انہیں کسی جماعت کی تائید حاصل ہو، تاکہ ان کا ووٹ بینک مضبوط ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ اگر شناخت کا محور بار کے اندرونی معاملات کے بجائے بیرونی سیاسی کیمپ بن جائیں تو ادارہ جاتی خودمختاری کیسے برقرار رہے گی؟
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بار کونسل سمیت تمام صوبائی اور ضلعی بارز اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کریں۔ رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جائے۔ کیا بار ایسوسی ایشنز پیشہ ورانہ فورمز رہیں گی یا رفتہ رفتہ سیاسی وابستگیوں کا عکس بنتی جائیں گی؟
سیاسی حمایت کے سہارے انتخاب جیت لینا وقتی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ وکالت کی بنیاد آزادی، غیر جانبداری اور دلیل پر ہے۔ جب کوئی وکیل کھلے طور پر کسی سیاسی کیمپ سے وابستہ نظر آئے تو عدالت میں اس کی غیر جانبداری کا تاثر متاثر ہوتا ہے۔ عوامی اعتماد پیشے کی اصل طاقت ہے، اور یہ اعتماد توازن سے قائم رہتا ہے۔
موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گروہ بندی اور سیاسی نعروں نے بار کے اندر اتحاد کو کمزور کیا ہے۔ انتخابات پیشہ ورانہ اہلیت کے بجائے سیاسی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس فضا میں نوجوان وکلاء کے لیے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ماحول محدود ہو جاتا ہے، جبکہ سینئرز کی روایتی عزت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یوں بار ایک علمی اور قانونی مرکز کے بجائے سیاسی مقابلہ گاہ کا تاثر دینے لگتی ہے۔
ہمیں یہ سوال سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا عدالتوں میں آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے بار کے اندر سیاسی صف بندی قابل قبول ہو سکتی ہے؟ یہ تضاد زیادہ عرصہ نہیں چلتا۔ اس کا اثر براہ راست پیشے کی ساکھ پر پڑتا ہے۔
آنے والی نسلیں آج کے رویوں کو دیکھ رہی ہیں۔ اگر بار کو سیاسی تجربہ گاہ بننے دیا گیا تو کل وکالت کو خدمت عامہ کے بجائے طاقت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جائے گا۔ اس صورت میں شکایت کی گنجائش کم رہ جائے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ضابطہ اخلاق کو مؤثر بنایا جائے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے نام، نشان اور کھلی تائید کے استعمال پر واضح حدود مقرر کی جائیں۔ امیدوار اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی، منشور اور صلاحیت کی بنیاد پر سامنے آئیں۔ بار کا پلیٹ فارم بطور ادارہ غیر جانبدار رہے۔
یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ ہر وکیل بطور شہری اپنی سیاسی رائے رکھتا ہے۔ تاہم بار ایسوسی ایشن ایک ادارہ ہے، اور ادارے کی غیر جانبداری کو فرد کی ذاتی وابستگی سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ فرق ختم ہو گیا تو بار کی اجتماعی حیثیت متاثر ہوگی۔
حالیہ واقعات محض افسوس کا تقاضا نہیں کرتے، بلکہ سنجیدہ جائزے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے کہ بار کو علم، وقار اور پیشہ ورانہ آزادی کی علامت بنایا جائے یا سیاسی اثر و رسوخ کے دائرے میں محدود کر دیا جائے۔
اگر ہم نے بروقت توازن قائم نہ کیا تو بار کی آواز کمزور ہوگی، اور اس کے ساتھ وکلاء کا مؤقف بھی۔ اب انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یا ہم ادارہ جاتی وقار کو ترجیح دیں، یا تقسیم اور کمزوری کے تسلسل کو قبول کر لیں۔
✍️: ایڈوکیٹ مجیب الرحمن