پنجاب بار کونسل کی جانب سے قومی یونیورسٹی برائے قانون کے قیام کی قرارداد، قانونی تعلیم میں انقلابی پیش رفت
تحریر: محمد زاہد مجید انور

پاکستان میں قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور وکالت کے پیشے کا معیار بلند کرنے کے لیے معیاری قانونی تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ملک میں متعدد جامعات قانون کی تعلیم فراہم کر رہی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس مزید مضبوط ہوا ہے کہ عالمی معیار کی ایک ایسی خصوصی قومی یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے جو صرف قانون، عدالتی نظام، تحقیق، قانون سازی اور جدید قانونی علوم پر توجہ مرکوز کرے۔اسی تناظر میں پنجاب بار کونسل کے رکن، ممتاز قانون دان چوہدری احتشام انور رائے ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے پنجاب بار کونسل کے جنرل ہاؤس کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں “قومی یونیورسٹی برائے قانون (National University of Laws, Pakistan)” کے قیام سے متعلق ایک اہم قرارداد شامل کرنے کے لیے باقاعدہ ریکوزیشن پیش کر دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف وکلاء برادری بلکہ پاکستان کے قانونی نظام کے لیے بھی ایک مثبت اور دور رس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔چوہدری احتشام انور رائے کا مؤقف ہے کہ ملک میں قانونی تعلیم کا معیار یکساں نہیں، جس کی وجہ سے نئے وکلاء کو عملی میدان میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک قومی سطح کی خصوصی یونیورسٹی قائم کی جائے تو وہاں جدید نصاب، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، تجربہ کار اساتذہ، عدالتی تربیت، ڈیجیٹل لاء، آئینی مطالعات، انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، ثالثی اور دیگر جدید قانونی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کی جا سکے گی۔اس مجوزہ یونیورسٹی کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوگا کہ وکلاء، ججز، پراسیکیوٹرز، سرکاری لاء افسران اور قانونی محققین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ عدالتی نظام مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بن سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تحقیقی روابط بھی استوار کیے جا سکیں گے، جس سے پاکستان میں قانونی تحقیق کو نئی جہت ملے گی۔قانونی ماہرین کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی خصوصی جامعات نے عدالتی اصلاحات، قانون سازی اور انصاف کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی ایک قومی یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان وکلاء کو عالمی معیار کی تعلیم اور تحقیق کے مواقع میسر آ سکیں۔چوہدری احتشام انور رائے کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد دراصل مستقبل کے قانونی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اگر پنجاب بار کونسل اس تجویز کی منظوری دیتی ہے اور وفاقی حکومت اس پر عملی اقدامات کرتی ہے تو یہ منصوبہ نہ صرف وکلاء برادری بلکہ پورے ملک کے عدالتی نظام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔آج جب دنیا میں قانون، ٹیکنالوجی اور انصاف کے تقاضے تیزی سے بدل رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کو بھی جدید قانونی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ National University of Laws, Pakistan کا قیام اسی سمت ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر قانونی نظام، باصلاحیت وکلاء اور مضبوط عدالتی اداروں کی بنیاد رکھے گا۔