صاحبزادہ مبشر علی صدیقی
حجامہ
( Cupping Theropy- کپنگ تھراپی )
حجامہ طب یونانی کا ایک طریقہ علاج اور سنت نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے نبی کریم نے خود کئ مرتبہ ظاہری زندگی میں حجامہ کروایا اور اس کے کروانے کی ترغیب بھی دی –
حجامہ کا معنی
حجامہ کا لغوی معنی ( حقیقی معنی ) پکڑنا ہے یعنی اضافی غیر ضروری فاسد غیر طبعی گندے خون کو حجامہ کے ذریعے پکڑ کر جسم سے نکال دیا جاتا ہے – حجامہ کو پچھنے لگانا یا سنگی کھچوانا بھی کہا جاتا ہے- قدیم دور میں چونکہ جانور کے سینگ لگا کر حجامہ کیا جاتا تھا اس لیے اسے سنگی لگانا کہتے ہیں – جسے حجامہ باالقرن بھی کہا جاتا ہے –
*حجامہ کیوں کیا جاتا ہے ؟*
ہم جو خوراک کھاتے ہیں اس کا کار آمد حصہ جزو بدن بن کر بقیہ حصہ فضلات کی صورت میں خارج ہو جاتا ہے جس کے لئے جسم کا نظام اخراج فضلات کام کرتا ہے یہ فضلات بول و براز پسینہ اور ناک کے فضلات کی صورت میں خارج ہوتے رہتے ہیں – پھر کچھ فاضل اور ردی مادے خون میں یا بدن میں یا زیر جلد جمع ہوتے رہتے ہیں – جو بہت سے امراض کا باعث بن جاتے ہیں – جن کو بدن سے خارج کرنا بہت ضروری ہے – جو کہ معالج کبھی جلاب آور اددویات سے خارج کرتا ہے کبھی فصد ( رگ کو کاٹ کر فاسد خون نکالنا ) کے ذریعے اسی طرح حجامہ جونکیں لگانا اور قے آور طریقے اختیار کرنا بھی اہم معالجہ ہے چنانچہ طبیعت اور اس کے افعال کی پیروی کرنے کی نسبت سے طبیب گویا طبیعت کا خادم ہوتا ہے اور یاد رکھیں بدنی مواد و رطوبات وہ سیال ( Fluid – فلوئڈ مادہ کی مائع حالت جو بہنے کی خصوصیات رکھتی ہو ) اجسام ہیں جو از خود جسم سے اخراج کے لیے آمادہ نہیں ہوتے اور نہ ہی اخراج کی جانب متوجہ ہوتے ہیں بلکہ ان کو طبیعت بدنیہ نکالتی ہے یا طبیعت خلطیہ –
مادہ کے اخراج کی پہلی حرکت کو حرکت قسریہ اور دوسری حرکت کو حرکت طبعیہ کہتے ہیں – جسم میں بے شمار فاسد غیر ضروری اور زہریلے مادے ہوتے ہیں جو بعض عوارضات کا باعث بنتے ہیں جیسے وائرس ( Virus – نقصان دہ جراثیم ) ٹاکسن ( Toxen – جراثیم کا پیدا کردہ زہر ) فیبرن ( Fabren – ایک ناقابل حل پروٹین جو خون جمنے کے عمل کے دوران ریشوں کا جال بنتا ہے ) اور ڈیڈ سیل ( Dead Cell – مردہ خلیات ) وغیرہ حجامہ کے ذریعے جلد سے خارج ہوتے ہیں – جس سے خون کی گردش تیز ہوجاتی ہےاور قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے – کینسر کے اسباب اور مواد میں کمی آتی ہے جراثیم کش اثرات بڑھ جاتے ہیں – نظام اخراج فضلات اندرونی و بیرونی میں بہتری آتی ہے – اسی طرح طبعی طور پر بدن میں خلیات کی توڑ پھوڑ سیل ڈویژن ( Cell Division ) ہوتی رہتی ہے اور بے شمار خلیات ( Cells ) مردہ بھی ہوتے ہیں – اگر جگر گردے اور پھیپھڑے صحیح فعل سر انجام دے رہے ہوں تو قوت دافعہ ( جسم کا بیماریوں سے دفاع کرنے والی طاقت ) ان فاسد ردی مادوں کو کو طبعی طور پر خارج کرتی رہتی ہے تاہم پھر بھی کچھ مردہ خلیات خون میں شامل رہتے ہیں اور خون کے ساتھ گردش کرتے رہتے ہیں اور کبھی مقامی عضو میں عارضی طور پر اور بعد میں مستقل بیماری یا خرابی کا باعث بنتے ہیں اور اعضائے رئیسہ ( دل دماغ جگر ) پر بوجھ کا سبب بنتے ہیں اور جب طبیعت ان مادوں کو کسی سمت دفع کرنا چاہتی ہے یا مادہ خون ان سمتوں میں دفع ہوتا ہے تو ان کے اخراج کے لیے ان کو ہلکا کرنے میں طبیعت کی مدد کرنا ضروری ہے اور یہ مدد فصد ( رگوں کو شگاف دے کر خون ) یا حجامہ کے ذریعے پچھنے لگا کر خون نکالنے کی صورت ہوتی ہے – حجامہ یا سینگی ان کے اخراج میں ایک معاون عمل ہے جب ان ردی فاسد مادوں کو زیر جلد سے حجامہ کے ذریعے نکالا جاتا ہے تو اعضاء رئیسہ سے بوجھ بھی اتر جاتا ہے اور ہارمونز ( Harmons – بغیر نالی والی غدود سے اخراج ہونے والی رطوبات جو خون میں شامل ہو کر دوسری بافتوں ( Tissues – ٹشوز ) میں عاملیت پیدا کرتی ہیں ) کا نظام اور فعل درست ہوجاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے –
*موجودہ دور میں حجامہ*
آج کل شیشہ کے پیالوں اور کپ سے ( Glasses Boul & Glasses – گلاسز بائول اینڈ گلاسز کپس ) پلاسٹک کے کپ ( Plastic Cupps – پلاسٹک کپس سے ویکیوم پمپ Vaccum Pump ) عام ریحی ہوائ پمپ یا پریشر پمپ وغیرہ سے حجامہ کیا جا رہا ہے –
1987 ء سے 1992 ء تک ایک سروے کے مطابق جرمنی کی نصف کے قریب آبادی حجامہ سے مستفید ہو رہی تھی – امریکہ میں روز بروز اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے وہاں اکثر میڈیکل کالجز میں حجامہ بطور انتہائ اہم مضمون پڑھایا جاتا ہے – امریکہ کے % 60 میڈیکل کالجز میں اس کی تعلیم لازمی ہے آسٹریلیا میں بہت ادارے اور بہت سی تنظیمیں حجامہ کا ڈپلومہ دے رہی ہیں اور دن بدن اس کی ڈیمانڈ میں بڑھ رہی ہے – U.K میں اکثر بیشتر شہروں اور ٹائونوں میں حجامہ کے اشتہارات لگتے ہیں اور ویتنام میں حجامہ کو سرکاری سطح پر مقام حاصل ہے –
چند سال پہلے حجامہ اور فصد سے ہی تصور لے کر آکو پنکچر آکو پریشر نے بہت شہرت حاصل کی لیکن اس طریقہ علاج کے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہوئے کیونکہ یہ اصل کی نقل تھی اور اسی طرح چین اصل علاج حجامہ و فصد کی طرف راغب ہوا اور اب حجامہ چین کا قومی طریقہ علاج ہے خلیجی ریاستوں میں عام اور معروف ہوچکا ہے ترکی نے اس نے اس پہ بہت زیادہ محنت کی ہے –
فن لینڈ ( Fin Land ) کی منسٹری آف سوشل افیئرز اینڈ ہیلتھ ( Ministry of Social Affairs and Health ) نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ آنے والے وقت میں آلٹر نیٹو میڈیسن ( Alternative Medicine – متبادل دواء ) حجامہ ہوگی – جبکہ آج یورپ کی یونیورسٹیوں میں آلٹر نیٹو میڈیسن ( Alternative Medicine ) کے طلباء کو باقاعدہ نصاب میں پڑھایا جارہا ہے –
*چند ایسی یونیوسٹیوں کے نام :*
درج کیے جاتے ہیں جن میں حجامہ کی تعلیم دی جا رہی ہے –
1 Gaungzhou University of Chiniese Medicine ( گانگزئو یونیورسٹی آف چائینیز میڈیسن )
2 International Collage of Gaungzhou ( انٹرنیشنل کالج آف گانگزئو )
3 Charite University Berline Germany ( کرائٹ یونیورسٹی برلن جرمنی )
4 Russian University of Medicine ( رشئین یونیورسٹی آف میڈیسن )
5 International Cupping Theropy Certification Program ( انٹرنیشنل کپنگ تھراپی سرٹیفکیٹ پروگرام )
( تین دن سات دن یا 10 دن کا یہ ڈپلومہ پورپ کینیڈا یوکے میں ہوتا ہے جس کی فیس 50000 سے 100000 تک ہے )
*نوٹ*
طوالت سے بچنے کے لیے یہاں صرف پانچ یونیورسٹیز کا حوالہ دیا گیا وگرنہ حجامہ کی تعلیم دینے والی یونیورسٹیوں کی لسٹ کافی طویل ہے –
باد فرنگ سے متاثر بعض لوگ مخصوص عینک کے ساتھ صرف یورپی ماہرین کی رائے کو ہی اہمیت دیتے ہیں لہذا ان کی تسکین طبع کے لیے دو حوالے درج کئے جاتے ہیں :
ہربلسٹ ڈاکٹر مائیکل میکس ( Harbelist Dr.MecelMex ) کہتے ہیں میں نے امریکن ادارے T.C.M میں 10 سال سروس کی مجھے حیرت ہوئ تھی کہ وہاں حجامہ ایک مرکزی مضمون تھا –
2 بروس بینٹلے ( Bruce Bentley ) انٹرنیشنل حجامہ اسپیشلسٹ نے دنیا کے مختلف ممالک میں حجامہ پہ ریسرچ کی اور مختلف ممالک اور اقوام متحدہ کی حجامہ تکنیک ملاحظہ کی جنوبی افریقہ میں تین ماہ گزارے – 1996 میں لیٹروب یونیورسٹی ( Latrobe University ) میں ہیلتھ سٹڈی میں ماسٹرز کی ڈگری ( Master Digree in Helth Study ) لی اور ایک مقالہ کپنگ ایز تھراپیوٹک ٹیکنالوجی ( Cupping As Therapeutic Technology ) لکھا جس میں مغربی طریقہ علاج حجامہ کا مشاہدہ بمقابلہ مصری و یونانی طریقہ علاج حجامہ سے کیا اور یورپی ممالک کے کئ لوگوں کا انٹرویو کیا جو پروفیشنلی حجامہ کر رہے تھے اور نتیجہ یہ دیا کہ بہت ساری بیماریوں کا علاج صرف حجامہ میں موجود ہے اور بروس بینٹلے نے خود بھی تیس سال حجامہ کی پریکٹس کی
( www.healingcupping.com/review.htm )
*حجامہ کے زوال کے اسباب :*
یہ طریقہ علاج ایک صدی پہلے تک پہلے تک عام اور مروجہ تھا اور انیسویں صدی میں آہستہ آہستہ معدوم ہوتا چلا گیا – در اصل طب یونانی جب زوال پزیر ہوئ تو حجامہ بھی زوال پزیر ہوگیا کیونکہ اکثر یونانی اطباء راجوں مہاراجوں نوابزادوں اور رئیسوں کے حرم آباد رکھنے تک محدود ہوگے چنانچہ جنسی علاج معالجے تک موقوف ہو کر تشریح و تحقیق طب کے دروازے بند کر بیٹھے سرکاری و درباری اور شاہی طبیب کے اعزازات اور معاشی خوشحالی نے انہیں اس قدر مدہوش کر دیا کہ طبی ترقی و ترویج مفقود ہوگئ – اس کے باوجود ان کی بعض طبی خدمات قابل قدر ہیں
ایک دوسرا سبسب فرنگی طب ( Alopathy -ایلوپیتھی ) اور فرنگی نظام کی سازشی کاروائیاں اور منصوبہ بندیاں بھی فن طب کی تباہی اور زوال کا باعث بنیں اب دنیا فرنگی طب کے مضر اثرات سے شدید نقصان اٹھانے کے بعد الحمد للہ دوبارہ طب یونانی ( طب اسلامی ) کی طرف حجامہ کی طرف لوٹ رہی ہے –
*حجامہ کے نتائج اور اعتراف حقیقت*
کچھ سال پہلے حجامہ کو سمجھنے کیلئے اہل شوق و جستجو نے اس پر تحقیقی محنت کی اور اپنے اپنے علم ذہنی سطح انداز تحقیق اور حاصل شدہ نتائج کی روشنی میں مثبت یا منفی اظہار رائے کیا – کسی نے جادوئ طریقہ علاج کہا تو کسی نے اعصاب فقرات ( Spinal Cord ) کو سن کرتا یا بے حس کرتا قرار دیا کسی نے کہا معمولی نتائج ہیں کسی نے کہا کچھ بھی نہیں – البتہ میں یہاں عرض کرنا چاہوں گا بہت سی حالتوں میں حجامہ کے نتائج اور ان کی وجوہ معلوم ہے لیکن مجھے اعتراف حقیقت اور اظہار حق کرتے ہوئے ذرا بھی عار نہیں ہے کہ بعض حالتوں میں حجامہ کے کامیاب نتائج کے اسباب نا معلوم ہیں اور تاحال ایک معمہ ہیں – فی زمانہ اطباء کا کسی مرض کا علاج نہ جانتے ہوئے لا علمی کا اظہار کرنا بھی غنیمت ہے اور یہ خاصہ صرف ہمارے طب یونانی کے نامور اطباء کا ہی ہے کہ وہ کسی مرض کا علاج نہ جاننے کی صورت میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی بجائے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرلیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے اکثر ایلوپیتھک ڈاکٹرز حضرات کسی مرض کے علاج کا علم نہ ہونے کے باوجود کم علمی کا اعتراف کرنا باعث شرم سمجھتے ہیں اور اٹکل پچو سے غیر علمی تجربات شروع کر دیتے ہیں اس کے نتیجہ میں چاہے کسی کی موت ہی کیوں نہ واقع ہو جائے –
حجامہ طب یونانی کا ایک طریقہ علاج اور سنت نبوی ﷺ، تحریر صاحبزادہ مبشر علی صدیقی، مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں
1742












