کراچی وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کو آئندہ 3 دن کیلئے آئسولیشن میں جانے کی اپیل کردی،

عوام آئندہ دنوں کیلئے اپنے گھروں میں آئسولیشن میں رہیں، کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لوگوں کا گھروں میں رہنا سب کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ31 فلائٹس شیڈول تھیں جس سے 3 ہزار710مسافر آئے۔
3 ہزار710 میں سے4 مشتبہ افراد کے سیمپلز لیے گئے۔ نجی اسپتال نے702مشتبہ کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ سکھر میں151 کیسز ہیں،402 سیمپلز کے نتائج آنے ہیں۔ لاڑکانہ کے83 سیمپلز بھی آنا باقی ہیں۔ لوکل کیسز کی تعداد51 ہوگئی ہے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ سندھ بھر کے عوام آج سے خود کو آئسولیشن میں لے جائیں۔
عوام خود کو تین دن تک آئسولیشن میں رکھیں۔
کیونکہ عوام کا تین دن کیلئے گھروں میں رہنا ہی سب کیلئے ضروری ہے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات اور وزیر تعلیم سعید غنی نے کراچی کو لاک ڈاؤن کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر کراچی میں کرفیو کی خبریں غلط ہیں۔ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، عوام سے صرف گھروں پر رہنے کی اپیل ہے۔
اس سے قبل انہوں نے بتایا کہ سندھ کے شہری کرونا وائرس کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، اگر معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا گیا تو لاک ڈاؤن کی طرف جائیں گے جس سے عوام کو زیادہ مسائل پیش آسکتے ہیں۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس کے 238 مریض ہیں، جن میں سکھر کے 151 مریض بھی شامل ہیں۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے 86 مریض کراچی سے، جبکہ ایک حیدر آباد سے رپورٹ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے 2 مریض اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والا ایک مریض صحت یاب ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ورنہ لاک ڈائون کی طرف جائیں گے۔ ہمارے سامنے چین اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں، چین نے وباء آتے ہی شہروں کو لاک ڈاؤن کیا جس کے بعد وائرس پرکنٹرول کیا گیا، اسی طرح اٹلی کی حکومت نے اپنی عوام کو بھی بتایا مگر وہاں کے لوگوں نے معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھا جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی۔
اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو چیزیں ہاتھ سے نکل جائیں گی، ہم نے صوبے کے تعلیمی ادارے بند کیے تو لوگوں نے تفریح مقامات کا رخ کرلیا، میرے بس میں ہو تو شہریوں کوزبردستی گھروں میں بندکردوں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب سے ایک خاتون شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچیں۔ جس کے بعد اس گھر کے 12 افراد وائرس سے متاثر ہوئے، کراچی میں13 مارچ کو پہلا مریض آیا جس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کیا گیا تو شہریوں کو تکلیف ہوگی تاہم اگر یہی فیصلہ دو ماہ بعد کیا گیا تو عوام کو 100 گناہ زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔