ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں غیر معیاری ایمبولینس سروسز، عوامی تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت
تحریر محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے گردونواح میں ایمرجنسی طبی سہولیات کی فراہمی ایک اہم عوامی ضرورت ہے، تاہم اس شعبے میں بعض سنگین مسائل عوامی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی ایمبولینس سروس جدید طبی آلات، تربیت یافتہ عملے اور ضروری طبی سہولیات سے آراستہ ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت امداد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے برعکس ضلع بھر میں متعدد سرکاری و نجی اداروں کے زیر استعمال بعض ایمبولینس گاڑیوں میں مطلوبہ طبی سہولیات، حفاظتی معیار اور فٹنس سرٹیفکیٹس کی کمی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایک گاڑی کو ایمبولینس کے طور پر استعمال کرنے کے لیے نہ صرف اس کی تکنیکی فٹنس ضروری ہوتی ہے بلکہ اس میں آکسیجن، ابتدائی طبی امداد کے آلات، اسٹریچر، ایمرجنسی ادویات اور دیگر بنیادی طبی سہولیات کی موجودگی بھی لازمی ہونی چاہیے۔ اسی طرح متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ فٹنس سرٹیفکیٹ اور لائسنس بھی اس بات کی ضمانت ہوتے ہیں کہ مذکورہ گاڑی اور سروس مقررہ طبی و حفاظتی معیارات پر پورا اترتی ہے۔گزشتہ روز نواحی چک نمبر 347 گ ب کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق بعض گاڑیاں جو بنیادی طور پر سکول وین یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، انہیں بغیر مکمل طبی سہولیات اور مطلوبہ معیار کے ایمرجنسی ایمبولینس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں مریضوں کو بروقت اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے جس سے قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور عوامی نمائندوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں چلنے والی تمام سرکاری اور نجی ایمبولینس سروسز کا جامع آڈٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کریں جو مطلوبہ طبی سہولیات اور فٹنس معیارات پر پورا نہیں اترتیں۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور صوبہ بھر میں ایمبولینس سروسز کے لیے یکساں اور سخت معیارات نافذ کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ایسی گاڑی جو ایمبولینس کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، اس کی رجسٹریشن، فٹنس، طبی آلات اور عملے کی اہلیت کو باقاعدہ چیک کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری ایمرجنسی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا غیر معیاری اور ناقص سہولیات کی حامل ایمبولینس سروسز کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور تمام ایمبولینس گاڑیوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنائیں تو مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ حکومت پنجاب اس اہم عوامی مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی تاکہ ہر مریض کو بروقت، محفوظ اور معیاری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔*













