اسلام آباد وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پاکستانی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اس فنڈ کو غریب عوام پر خرچ کیا جائے گا‘سٹیٹ بنک آف پاکستان جو ادارے اپنے ورکروں کو بیروزگار نہیں کریں گے انہیں کم شرح سود پر آسان قرضے دیئے جائیں گے وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین سب سے کامیاب رہا کورونا کے خلاف جنگ میں انہوں نے ووہان میں لاک ڈاﺅن کرکے صورتحال پر قابو پالیا ہے اگر ہمارے معاشی حالات چین جیسے ہوتے تو ہم پورے پاکستان کو بند کردیتے.قو م سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں 25فیصد لوگ غربت کی لیکر کے نیچے ہیں جبکہ20فیصد غربت کی لیکر کے آس پاس ہیں .
انہوں نے کہا کہ اگر ہم مکمل لاک ڈاﺅن کردیں تو کیا ہم لوگوں کو گھروں تک راشن پہنچا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پا س وسائل نہیں ہیں ہم نے محدود وسائل میں رہ کر کام کرنا ہے انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں میں دس دس لوگ ایک ایک کمرے میں رہتے ہیں اگر غریب علاقوں میں لوگوں نے لاک ڈاﺅن کو قبول نہ کیا تو یہ نہ سمجھیں کہ امیروں کے علاقے بچے رہیں گے امیر ترین ملک وسائل سے یہ جنگ نہیں جیت سکے.انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انہیں عبرتناک سزائیں دیں گے‘پاکستانیوں کو انصار مدینہ جیسے ایثار دیکھانا ہونگے.
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس بوڑھوں اور بیمار لوگوں کو متاثرکرتا ہے لہذا ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے یکجا ہوکر اس مشکل کا سامنا کرنا ہے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے بلا سوچے سمجھے پورا ہندوستان لاک ڈاﺅن کردیا ہے اب ان کے وزیراعظم کو معافی مانگنا پڑی ہے ان کے لیے مسلہ پیدا ہوگیا ہے کہ اب اگر لاک ڈاﺅن ہٹاتے ہیں تو وبا بڑھتی ہے اور اگر لاک ڈاﺅن جاری رکھتے ہیں تو لوگ بھوکے مرنا شروع ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ چند دنوں میں ہی بھوک کے مارے لوگ سڑکوں پر آنے کو تیار بیٹھے ہیں اور بھارت میں افراتفری پھیلنے کے خدشات جنم لے رہے ہیں .
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکمت سے جنگ لڑنی ہے کیا لاک ڈاﺅن میں لوگوں کو کھانا نہیں پہنچا سکیں گے تو لاک ڈاﺅن نہیں رکھ سکتے ‘بڑی مشکل سے ہم نے 8ارب ڈالر کے قریب کا ریلیف پیکیج دیا ہے امریکا نے دو ہزار ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے .قوم سے اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس فورس کے ساتھ مل کر وہ کمی پوری کریں گے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے پورا نہیں کرسکتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ صرف وسائل سے یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی ہے، قوم لڑسکتی ہے‘انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور اپنے ملک کے حالات کو دیکھ کر چلنا ہے‘ہمارے پاس نوجوانوں کی طاقت اور پاکستان کے پاس کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے دو طاقتیں ہیں.وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کے لیے ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کررہا ہوں جو اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاوس میں نگرانی کی جارہی ہے اور ایک ہفتے میں ہم بتائیں گے کہ یہ کہاں جارہی ہے‘ٹآئیگر فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ فورس وائرس کے حوالے سے کیا کرنا ہے وہ بتائے گی.وزیراعظم نے کہا کہ آج میں ریلیف فنڈ قائم کررہا ہوں اور نیشنل بینک میں اکاﺅنٹ کھولا جائے گا جس میں بیرون ملک موجود لوگ بھی عطیات جمع کراسکتے ہیں‘انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ ملازمین کو بے روزگار نہیں کرے گا جس کے لیے اسٹیٹ بینک آسان شرائط پر قرضے دے گا.وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے پاکستان بھر میں کوئی خیرات کرنا چاہتا ان کو رجسٹر کرکے انہیں بتائیں گے کہ کہاں خرچ کرنا ہے تاکہ کسی ایک جگہ خرچ نہیں ہو تاکہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ریلیف کی کوششیں رابطے سے چل سکیں.
انہوں نے کہا کہ ‘ذخیرہ اندوزوں کی وجہ افراتفری پھیلتی ہے اور اشیا کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں جس سے غریبوں کو نقصان ہوتا ہے اس لیے ان لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ان سے ریاست سخت کارروائی کرے گی.وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور جہاں ملیں وہاں دوسروں سے فاصلہ رکھیں جس کو سماجی فاصلہ کہتے ہیں اور صرف احتیاط نہ کرنے سے اپنی اور دوسری کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیں گے.انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم جنگ جیتنی ہے تو جو لوگ نادار ہیں ان کی مدد کرنی ہے جس طرح انصار نے مہاجرین کی مدد کی تھی آج اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہمیں وہی جذبہ پیدا کرنا ہے جس کے باعث یہ قوم کورونا وائرس سے جنگ جیتے گی.وزیراعظم نے بتایا کہ ٹائیگر فورس کے رضا کار سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچائیں گے اور گھروں پر لوگوں کو کورونا سے متعلق آگاہی دیں گے‘وزیراعظم عمران خان نے پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا ہی کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہے.وزیراعظم نے کہا کہ متوسط علاقوں میں ایک ہی گھر میں پانچ سے چھ افراد ایک کمرے میں رہتے ہیں، تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ غریب علاقوں سے نکل کر یہ وائرس امیر علاقوں میں نہیں پہنچ سکتا۔
‘ کورونا وائرس کے شکار برطانیہ کے وزیراعظم بھی ہوچکے ہیں، تاہم اس وائرس سے لڑنے کے لیے سب کو مل کر لڑنا ہوگا.انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے‘وزیراعظم نے کہا کہ کوروناریلیف فنڈ میں پیسہ پہنچانے والوں سے اس سے متعلق کچھ نہیں پوچھا جائے گا جبکہ اس پیسے کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا.
اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کیا کہ آپ کی وجہ سے ملک لوگ مریں گے‘ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاءخورونوش کی کمی ہوجاتی ہے اور طلب میں اضافے کے وجہ سے ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں. انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قوم بھوکی مری تو ذخیرہ اندوز اس کے ذمہ دار ہوں گے، اور انہیں عبرت ناک سزا دلوائی جائے گی وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہم یہ جنگ حکمت سے ہی جیت سکتے ہیں.وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں لوگ مدینہ کی ریاست کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہجرت کے وقت جو لوگ مکہ سے مدینہ کی جانب آئے اور انصار نے مہاجرین کا خیال رکھا تھا آج ہمیں اسی حوصلے کی ضرورت ہے‘ ہم انصار مدینہ والا حوصلہ دکھائیں گے تو کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیں گے.واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا ملک میں پھیلنے کے بعد یہ وزیراعظم عمران خان کا قوم سے تیسرا خطاب ہے.












