اسلام آباد وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کورونا سے زیادہ خطرہ نہیں۔امریکہ اور یورپی ممالک میں کورونا کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے معاشی حالت ایسے نہیں کہ وہ کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کو برداشت کرسکیں۔
جی 20 اجلاس میں یہ تجاویز آئیں ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری شیڈول کیا جائے۔ان تجاویز پر اقوام متحدہ نے اتفاق کیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھا رہا ہے،انسانی جانوں کو بچانے کے لیے لاک ڈاؤن بے حد ضروری ہے۔ہر ملک کے اپنے حالات ہیں جن کے مطابق حکمت عملی مرتب کرنی ہے۔
بھارت میں سوچے سمجھے بغیر 21دن کا لاک ڈاؤن کیا گیا جس کی وجہ سے اب بھارتی حکومت لوگوں سے معافی مانگ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت میں نقل مکانی کی سنگین صورتحال پیدا ہوئی اور سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلہ ضروری ہے، اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔صورتحال کا جائزہ لے کر حکمت عملی بنانی ہوگی۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے دوران آگاہی پھیلنے میں میڈیا کا کردار اہم رہا ہے۔
قرنطینہ مرکز کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 12 سو ارب روپے کا پیکج دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے بوجھ نہیں اٹھاسکتی، تاہم اس دوران عوام نے بھی تعاون کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران 25 لاکھ گھرانوں کو راشن پہنچانے کے طریقہ کار دیکھ رہے ہیں، راشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کورونا کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو ہدایات حکومت دے رہی ہیں اٴْن پر عوام عمل کرے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری مشکل وقت میں مدد کی، اور وہ ہماری ترجیحی بنیادوں پر مدد کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ چین کے پانچ جہاز پاکستان پہنچ چکے، مزید بھی آ رہے ہیں، اپنی ٹیم بھی چین روانہ کر دی ہے۔












