کرونا کے بعد سیلابی ریلے نے گڑھ مہاراجہ کے کسان کی کمرتوڑدی۔۔مقتدر طبقہ آنکھیں کھولے۔۔۔۔شاہد نذیر کی خوبصورت تحریر۔۔۔سٹارنیوزپر
معزز قارئينِ اکرام؛؛اسلام علیکم
شاخیں رہی تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یہ دن اگر بُرے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
میرا شہر گڑھ مہاراجہ جو پاکستان بننے سے پہلے راجوں مہاراجوں کا شہر تھا اور پاکستان بننے کے بعد یہ نوابوں کا شہر بن گیا میرے شہر کے لوگ زیادہ تر زراعت کے پیشے سے منسلک ھیں جتنی ترقی ستر سال میں گڑھ مہاراجہ نے کرنی تھی وہ نہ کر سکا کیونکہ تاریخی شہر کو یہاں کے جاگیرداروں نے تاریخ ہی بنا کر رکھ دیا ہر دور میں میرا شہر لوٹتا رھا میرے شہر کو کبھی سیاسیوں نے لوٹا کبھی مذہبیوں نے لوٹا پیروں نے لوٹا کبھی مریدوں نے لوٹا رہ زنوں نے لوٹا تو کبھی رھبروں نے لوٹا چناب نے لوٹا کبھی جہلم نے لوٹا میرے شہر کو سیلابوں نے لوٹا کبھی نوابوں نے لوٹا پٹواریوں نے لوٹا کبھی جواریوں نے لوٹا ھاۓ میرے شہر کو بلوائیوں( فیصل) نے لوٹا میرا شہر گڑھ مہاراجہ ھمیشہ جھنگ کی سیاست کا مرکز رھا ھے میرے ضلع کے لوگ باشعور اور باوفا ھیں جس کی مثال ایوب خان کے دور کے الیکشن ھیں میرے جھنگ اور گڑھ مہاراجہ نے محترمہ فاطمہ جناح سے وفا کی مثال قائم کی محترمہ کو کراچی میں سب سے زیادہ ووٹ ملے اور کراچی کے بعد پورے پاکستان میں دوسرے نمبر پر جس جھنگ کا نام آتا ھے جس نے محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیئے جھنگ ایوب خان کے حصے میں عبرتناک شکست آئی گڑھ مہاراجہ سے ایوب خان صفر رھا؛ گڑھ مہاراجہ کے نواب ایم پی اے رھے ایم ایل اے رھے پارلیمانی سیکرٹری رھے مشیر رھے لیکن گڑھ کو گڑھ ہی رھنے دیا ترقی کی طرف کوئی توجہ نہ دی گڑھ مہاراجہ سے وفا نہ کی بس اپنی ذات تک کے مفاد کی سیاست کرتے رھے میرے شہر کے زیادہ تر طبقے کا انحصار کھیتی باڑی سے ھے نوے فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت ہی ھے لیکن میرے شہر کا کسان ھمیشہ بے حال ھی رھا غریب ھی رھا کبھی 1976 کے سیلاب نے لوٹا تو کبھی 1992 کے سیلاب نے رگڑا لگایا کبھی 1994 میں تباہی مچائی تو کبھی2011 میں کسان کو برباد کیا کبھی 2014 میں شہر سے سیلاب کے ریلے گزرے تو کبھی 30 مارچ 2020 کی صبح دریا نے تباہی مچا دی میرے شہر کے کسان کی پکی گندم برباد ھو گئی میرے دیہات کے کسان کے جانوروں کا چارہ زیرآب آ گیا میرے شہر کے کسان کی امیدوں پر پانی پھِر گیا میرے شہر کے کسان کی سال بھر کی روزی برباد ھو گئی افسوس میرے شہر کا وارث آج تک کوئی نہ بنا میرے شہر سے لوگ الیکٹ ھو کر اقتدار کے ایوانوں میں جاتے رھے مشیر بنتے رھے وزیر بنتے رھے لیکن میرے شہر کے مزدور اور کسان کے بارے کبھی کچھ اچھا نہ سوچ سکے میرے علاقے کے کسان کو کبھی ریليف نہ دلوا سکے میرے غریب کسان کے زخموں کا مرھم نہ لا سکے کروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈون ھے میرے شہر کا تاجر دوکاندار پہلے سے ہی بے حال ھے اوپر سے دریا کی طغیانی نے ادھم مچا دیا معاشی طور پر تاجر اور کسان کو برباد کر کے رکھ دیا ھے میں ایم پی اے رانا شہباز احمد خاں سے اور صاحبزادہ محمد محبوب سلطان سے مطالبہ کرتا ھوں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایوان میں کسان کی آواز بنیں جسطرح گذشتہ سال زالہ باری کی وجہ سے کسان کو ریليف دلوایا اسطرح جن کسانوں کی گندم کی فصل سیلاب کی وجہ سے ڈوبی ھے ان کو حکومت کی طرف سے ریليف پیکج لے کر دیا جاۓ تاکہ گڑھ مہاراجہ خود کو اب لاوارث نہ سمجھے بلکہ آپ عوامی نمائندے گڑھ مہاراجہ کے وارث بنیں غریب کسان کا سہارہ بنیں؛
والسلام دعاوں کا طلبگار
رانا محمدشاھدنذیر سینئرممبریوتھ کمیٹی گڑھ مہاراجہ؛
ھمیں چھاؤں میں رکھا خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا اِک فرشتہ کسان کے روپ میں












