ازقلم۔محمد اخلاق قریشی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(احساس کفالت پروگرام)میں سالوں سے چلی کرپشن ۔۔۔کیا ہوپائے گا سدباب ؟؟؟

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پرانچ لیس بینکنگ اور بینظیر انکم سپورٹ دفتر کے تعاون سے مستحق خواتین میں امدادی رقوم تقسیم کی جاتی رہی ہیں۔عرصہ کئی سال سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام کے حوالہ سے مبینہ طور پرمالی بے ضابطگیوں کی لاتعداد شکایات بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران کو موصول ہوتی رہیں لیکن کبھی بھی اس حوالہ سے کی جانے والی تحقیقات اور ان کے نتائج کے بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہ آسکی جس سے یہ بات تقویت پکڑتی گئی کہ اس میں مبینہ طور پر فرنچائزز،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام،متعلقہ بینک کا عملہ ملوث ہوسکتا ہے ۔گذشتہ روز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام کی رقوم کی تقسیم کے دوران ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں آئی ڈی ایجنٹ کی جانب سے مستحق خاتون کی رقم سے نوہزار روپے کی خرد برد کی گئی جس پر خاتون نے احتجاج کیا خاتون کے احتجاج پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دو افراد میں حراست میں لے لیا گیا اور آج حلقہ پٹواری کی جانب سے پانچ افراد جن میں متعلقہ بینک انتظامیہ،ایجنٹ ،اوربینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام کے افسران کے نام شامل ہیں کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے تھانہ کوتوالی میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے ان کے مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے اور یہ عندیہ دیا ہے کہ ان کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی ڈپٹی کمشنر سے گذارش ہے گذشتہ ادوار میں اس حوالہ سے ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کے حوالہ سے اگر مستحقین کے ریکارڈ کی جانچ پڑتا ل کی جائے تو بہت بڑی تعداد میں کرپشن /مالی بے ضابطگیاں سامنے آسکتی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملہ کو یہیں چھوڑ دے گی یا اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ کیونکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام کے کچھ افسران اور اس پروگرام سے متعلقہ بنک عملہ عرصہ دراز سے اس سے جڑا ہوا ہے۔لہذا اس حوالہ سے تکنیکی تحقیقات کا ہونا بہت ضروری ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام/احساس کفالت پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر اپنے بیانات میں کئی بار اس بات کا عندیہ دے چکی ہیں کہ مستحقین کی امدادی رقوم میں خرد برد کرنے والوں کو ا ن کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ضلعی انتظامیہ کے لیے یہ کام اتنا آسان نہ ہوگا کہ وہ ماہرین کی معاونت کے بغیر ان نے ضابطگیوںکو سامنے لا سکیں