رپورٹ۔ احسان احمد۔
جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر نعیم شاہ نے موجودہ حالات کے تناظر میں اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں جاری لاک ڈآؤن اور کرفیو جیسے حالات نے عوام کے معاشی سسٹم کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ کرونا وائرس اس وقت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا ان مسائل کا شکار ہے ۔ مگر وہاں اس وائرس سے بھرپور انداز میں نبٹا جارہا ہے ۔ وہاں عوام بھوک افلاس کا شکار نہیں اور نہ وہاں عوام راشن کے لیۓ پولیس کے ڈنڈے کھارہی ہے بلکہ ترقی یافتہ ان ملکوں میں ساری توجہ روزانہ کی بنیاد پر کرونا وائرس کے شکار افراد کا ٹیسٹ اور ان کو ریلیف دینا ہے ۔ یہ وطن عزیز کا المیہ ہے کہ یہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلی تک صرف اور صرف لفاظی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرپارہے ۔ پورے ملک کی انڈسٹری کو بند کرکے عوام کو طاقت کے بل بوتے پر گھروں پر محصور کرکے پاکستان کی کیا خدمت ہورہی ہے سمجھ سے بالا تر ہے ۔ صرف کراچی جیسے شہر میں چالیس لاکھ سے زیادہ مزدور افراد روزانہ اجرت کی بنیاد پر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں مگر آج ان کے گھر فاقہ کشی کا شکار ہیں ان کا کوئ پرسان حال نہیں ۔ باوجود اس کے شرمندگی کا اظہار کیا جاۓ بلنگ بانگ دعوے کرکے دودھ کی نہریں بہانے کی لن ترانیاں جاری ہیں ۔
ایک طرف پھر اربوں روپے ٹھکانے لگاکر ٹائیگر فورس کے زریعہ پارٹی کو منظم کرکے نوازنے کی پوری تیاری جاری ہے ۔ کاش ان اربوں روپوں کو ان غریب خاندانوں تک پہنچادیا جاتا تو عوام کو کچھ ریلیف ضرور مل پاتا ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم سے لیکر وزیراعلی اور ان کی کچن کیبنٹ ابھی تک غریب گھروں کا تعین ہی نہیں کرپاۓ ہیں ۔ کہ کس خاندان کی مدد کی جاۓ ۔ کیونکہ تمام وزراہ و مشیران کی فوج الیکشن کے بعد اپنے بنگلوں سے نکل کر کبھی ان کچی بستیوں میں جانا اپنی توہین سمجھتے رہے۔ آیا کس طرح یہ معاملات حل ہوں گیں ۔ سفید پوش گھروں میں افراد خودکشی کررہے ہیں بھکاری اپنے ساتھیوں کے ساتھ روڈوں پر چھینا جھپٹی میں مشغول ہیں اور ریاست مدینہ کے دعوے دار ابھی تک سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ میں ان تمام فلاحی اداروں کا شکر گزار ہیں جو آج بھی دن رات گھر گھر راشن بانٹنے میں مصروف ہیں جو ریاست کی زمہ داری ہے یہ فلاحی ادارے انجام دے رہے ہیں ۔ مگر مشیران کا جم غفیر صرف ٹی وی ٹاک شاک تک محدود ہے ۔ آج بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صورت میں پورے پاکستان میں ایک منظم ٹیم موجود ہے جن کے پاس گھر گھر کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے ۔جس کے زریعہ وفاقی اور صوبائ حکومتیں پورے پاکستان بلخصوس سندھ کے کراچی جیسے شہر میں راشن اور امداد پولیس رینجرز یا فوج کی نگرانی میں بخیروخوبی پہنچاسکتی ہے ۔مگر یہاں کا سسٹم ہی نرالا ہے ۔
دوسری طرف تاجر اتحاد کراچی نے بھی 15 اپریل سے کاورباری ادارے چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تمام کاروباری معاملات کو بند کیا گیا تھا مگر آج تاجر بھی حکومت کے اقدامات کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔
ابھی عوام بھوک افلاس روزگار اور کرونا وائرس سے پریشان تھی کہ پیرامیڈیکل اسٹاف اور ینگ ڈاکٹرز بھی حکومت کے رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر روڈوں پر آنے کی نوید سنا رہے ہیں ۔
ایکبار پھر اللہ پاک کے آگے سربسجود ہو کر گڑگڑانا پڑے گا تاکہ اللہ ہمیں ان عزابوں سے نجات دے . آمین۔