کرونا حال کی طرح مستقبل کا بھی چیلنج۔۔۔۔
{صدائے منہاس}
کالم نگار غلام شبیر منہاس
*کورونا حال کیطرح مستقبل کا بھی ایک چیلنج *
دنیا کو جسطرح کی گھمبیر صورتحال کا آج سامنا ھے بالکل اسی طرح کی صورتحال کا سامنا آج سے 102 سال قبل بھی اس وقت کے باسی کرچکے ہیں ۔
یہ 1918ء کا سال تھا جب اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر “کورونا” سے ایک وائرس نکلا جسکو سپینش انفلیزاء SPANISH FLU کا نام دیا گیا۔ یہ اٹلی سے نکلا اور سپین پہنچنے تک اس میں شدت آگئی۔ اس وقت سپین دنیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز ھوتا تھا یہ معاشی طور پہ بھی مضبوط تھا اور یہاں سے تجارتی سامان لے کر بحری جہاز دنیا بھر کیلئے روانہ ھوتے تھے۔ اور لوگ بھی یہاں سے انہی بحری جہازوں پہ دوسرے براعظوں تک کا سفر کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی جنگ عظیم بھی اپنے عروج پہ تھی لھذا فوجوں کی بڑی نقل و حرکت بھی اسی راستے سے ہورہی تھی۔یوں یہ وائرس یہاں سے نکلا اور دنیا بھر میں پھیل گیا۔ اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ھوگئی۔صفائی کا نظام بھی باقی سسٹم کیطرح بیٹھ گیا۔ سیوریج کا نظام بری طرح متاثر ھوا۔اور صورتحال کچھ اس طرح کی بن گئی کہ سیوریج کا پانی برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گیا۔ ھاوس آف کامرس کے اراکین اجلاس کیلئے گھر سے نکلتے تو جوتوں کے دو جوڑے لیکر نکلتے تھے۔اور بالکل آج کیطرح اس وقت بھی امریکہ اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ھوا۔وائرس امریکہ کی سبھی ریاستوں میں پوری طرح پھیل گیا۔یہ وہ وقت تھا جب امریکی ریاستوں کو ملانے کیلئے اسطرح کے ھائی ویز بھی نہیں تھے اور سول ایوی ایشن بھی ابھی تک کمرشلایئز نہیں ھوئی تھی۔ لے دے کے صرف ایک ریلوے کا نظام کام کررھا تھا مگر ٹرینوں کی رفتار محض 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔میڈیکل سائنس بھی ابھی تک ابتدائی مراحل میں تھی۔ لھذا اس SPANISH FLU موزی وائرس سے اسوقت صرف امریکہ میں 6لاکھ 75 ھزار اموات واقع ہوئی تھیں۔ شہر ویران ھوگئے۔ انڈسٹری بند ھوگئی لوگ بے روز گار ھوگئے اور امریکہ تقریبا دیوالیہ ھوگیا۔ اس وباء کا اثر 1918ء سے 1927ء تک رہا اور امریکہ اس وباء کیوجہ سے بھکاری بن گیا اور 1933ء تک شدید معاشی دباو کا شکار رھا۔
فرینکلن ڈی روزویلٹ FRANKLIN D ROOSEVELT نامی ایک امریکن نے اس وباء کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ جب دنیا اس سے نبردآزما تھی یہ شخص اس وباء کے خاتمے کے بعد کے حالات کو سٹڈی کررھا تھا۔۔اسکو یقین تھا کہ اس وباء سے تو جلد یا بدیر نجات مل ہی جائے گی مگر اس کے بعد کا امریکہ کیسا ھوگا۔۔کیا وہ اس قابل ھو گا کہ دوبارہ سے اپنے معاملات زندگی چلا سکے۔۔کیا یہ دوبارہ پاوں پہ کھڑا ھوپائے گا۔۔اس نے باریک بینی سے ان سب عناصر کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ جو لوگ اس وباء کے خاتمے پہ کام کررھے ہیں انھیں کرنے دیا جائے۔اور میں دوسرے مرحلہ کیلئے تیاری کروں گا۔ بعنی میں اس وباء کے خاتمہ کے بعد امریکہ کو اس دیوالیہ پن سے نکالوں گا۔۔اس نے 1933ء میں الیکشن لڑا اور صدر منتخب ھوگیا۔ یہاں سے اس نے ٹوٹے پھوٹے امریکہ کو از سر نو تعمیر کرنا شروع کیا۔ اس نے ملک بھر میں میگا پروجیکٹس متعارف کرائے۔ تعمیرات کے شعبہ میں جدت لائی۔ بڑے بڑے ڈیم بنائے۔ ملک بھر میں ریاستوں کے درمیان 45000 کلومیٹر شاھرایئں بنایئں۔سول ایوی ایشن کو انڈسٹری کا درجہ دیا۔ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور ایکسپرٹس کو امریکہ میں مدعو اور ایڈجسٹ کیا۔ اور پھر امریکیوں نے اس واحد شخص کو چار بار بطور صدر منتخب کر کے اس کی عظمت کو تسلیم کیا۔ اس کو جدید امریکہ کا فادر آف نیشن FATHER OF NATION کہا گیا۔
ھم اور ھماری معیشت قیام پاکستان سے اب تک ہچکولوں کی زد میں ھے۔ اور حالیہ وباء کے باعث زر مبادلہ کے زخائر میں کمی ہورہی ھے۔بے روزگاری کا ایک سیلاب ھمارا منتظر ھے۔ بیرون ملک لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ وطن واپس آرھے ہیں جن کی نوکریاں ختم ھو گیں ہیں۔ شرح نمو منفی کے اشارے دے رہی ھے۔ایسے حالات میں ضروری ھے کہ اس وباء کے خاتمے کے بعد کےحالات پر بھی نظر رکھی جائے۔ اس وقت جتنا ضروری اس وباء کے خاتمے پہ کام کرنا ضروری ھے اتنا ہی ضروری اس وباء کے بعد کی صورتحال کی منصوبہ بندی ھے۔ ھمارا یہ مزاج رھا ھے کہ ھم بدقسمتی سے مستقبل کی پلاننگ کم کم ہی کرتے ہیں۔ مگر اس بار یہ اس لیئے بھی ضروری ھے کہ پوری دنیا میں اس کے اثرات ھوں گے۔۔ترقی یافتہ ملک تو کسی طرح سنبھل جایئں گے مگر ھمارے ھاں چونکہ صورتحال پہلے ہی تسلی بخش نہیں ھے۔۔ایسا نہ ہو کہ ھم اتنی دیر کر دیں اور بچھے کھچے وسائل اس بے دردی سے بغیر کسی موثر منصوبہ بندی کے اس بحران میں جھونک دیں کہ مستقبل میں ھم کوشش اور خواہش کے باوجود بھی نہ سنبھل پایئں۔
لھذا ابھی سےقابل لوگوں پہ مشتمل ایک ایسی ٹیم بنا دی جائے ھو اس موزی وباء کے بعد کی صورتحال پہ کام شروع کردے۔اور اگر ممکن ھوتو اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قابل اور اھل افراد کو شامل کیا جائے۔ کیونکہ مستقبل کے آنے والے چیلنجز سے نمٹنا کسی ایک جماعت یا صرف حکومت کے بس میں شاید نہ ھو۔ اور یہ ملک ھم سب کا ھے۔ اور ھم سب نے مل کر ہی اس کو اس کرائسیس سے نکالنا بھی ھے۔ مل جل کر کوشش کریں گے تو کسی سیاسی جماعت سے کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور نکل آئے گا جو اس ناو کو کورونا کے بعد آنے والے طوفان سے بخیروخوبی نکال لے گا اور آنے والی نسلوں کا فادر آف نیشن کہلائے گا۔
والسلام دعاوں کا طلبگار غلام شبیر منھاس








