جھنگ کی نسبت ٹوبہ ٹیک سنگھ کیوں ترقی کی دوڑ میں آگے نکل کیا
{ بے باک }کالم نگار علی امجد چوہدری
جھنگ کے سابق ضلع ناظم صاحبزادہ سلطان حمید پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور ضلعی نظامت کے دوران جھنگ کے کوئی لگ بھگ تیس کروڑ کے فنڈز ٹوبہ ٹیک سنگھ کو مبینہ طور پر گفٹ کر دیئے تھے اس الزام کے حوالے سے اگرچہ ابھی تک کوئی ٹھوس خواہد سامنے نہیں آئے تاہم صاحبزادہ گروپ کے مخالفین یہ الزام کھلم کھلا دہراتے رہے ہیں جھنگ کی نسبت ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ترقی کا راز کیا مبینہ طور پر فراہم کی گئی اسی گرانٹ میں پوشیدہ تھا یہی سوال جب ہم نے پنجاب کے ایک سابق ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کے سامنے رکھا تو ان کا جواب یکسر مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور سمت کی عکاسی کر رہا تھا پنجاب کے اس سابق ایڈیشنل ہوم سیکرٹری سے ناچیز کی ملاقات نائب صدر تحصیل پریس کلب حجاز علی بٹ معروف تجزیہ نگار امجد خان ڈھول اور سیف اللہ صدیقی کے ہمراہ ان کے فارم ہاؤس جہانیاں میں ہوئی تھی یہ سابق بیوروکریٹ جو اب ریٹائرڈ زندگی بسر کر رہے ہیں سماجیات کے ساتھ سیاست میں بھی خاصی دلچسپی رکھتے ہیں یہ صوبہ جنوبی پنجاب کے پرجوش حامیوں میں شمار ہوتے ہیں مگر یہ لسانیات کی بنیاد کی بجائے انتظامی بنیادوں پر صوبہ جنوبی پنجاب کے حامی ہیں ان سے ہماری ملاقات جہانیاں سے تعلق رکھنے والے ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر چوہدری خرم سہیل کی وساطت سے ہوئی تھی یہ چوہدری صاحب کے قریبی عزیز تھے دوران ملاقات ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کے موازنہ کے دوران مبینہ طور پر تیس کروڑ کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو دیئے گئے تحفہ کو ٹوبہ کی ترقی کی وجہ گردانے پر یہ بیورو کریٹ پہلے تو قہقہ لگا کر خوب مسکرائے مگر ایک دم سے سنجیدہ ہو کر بولے جس تیس کروڑ کا آپ زکر کر رہے ہیں یہ شاید 2005 سے 2012 کے درمیاں دی گئی ہو (حالانکہ اس کے ٹھوس شواہد ابھی تک سامنے نہیں آ سکے )اس کو حقیقت بھی فرض کر لیں تو اس وقت اس زیادہ سے زیادہ ستر کلو میٹر سڑک بنائی جا سکتی تھی یا پھر زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس دیہات کو بجلی فراہم کی جاسکتی تھی اس میں اس تیس کروڑ کا کوئی کردار نہیں جھنگ کی نسبت ٹوبہ کی ترقی میں اگر کردار ہے تو وہ صرف سوچ کا جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوامی نمائندوں کی سوچ ایک دوسرے کے عین برعکس ہے آپ سابق ضلع ناظم ٹوبہ ٹیک سنگھ چوہدری عبدالستار کی ہی مثال لے لیں یہ دو بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے یہ ضلع ناظم بھی منتخب ہوئے ان تیسری نسل سے جاوید انوار چوہدری بھی کامیابی کی ہیٹرک مکمل کر چکے ہیں بحثیت ممبر قومی اسمبلی یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بڑی شہری جائداد کے مالک تھے یہ وہاں زاتی کاروبار کر سکتے تھے یا پھر اس کی فروخت سے لاہور فیصل آباد یا پھر کراچی میں بڑا بزنس کر سکتے تھے یہ کراچی میں اتنا وسیع کاروبار کر سکتے تھے کہ صبح کی فلائٹ سے کراچی جاتے اور معمول کے مطابق شام کی فلائٹ سے لاہور واپس آکر ڈیفنس میں شاہانہ زندگی بسر کر سکتے تھے مگر انہوں نے انقلابی قوم کے انقلابی افراد والا فیصلہ کیا انہوں نے برطانیہ کی ریل بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کے مالک والا فیصلہ کیا جب اس کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا تھا یہ اپنے بیٹے کے نام پر Oxford university Londonمیں بلاک بنانا چاہتے تھے انہیں بڑی مشکل سے آکسفورڈ کے وائس چانسلر سے ملاقات کے تین منٹ ملے مگر یہ تین منٹ میں اپنا مدعا بیان نہ کر سکے اور ان کا وقت ختم ہو گیا مگر آکسفورڈ یونیورسٹی کی سیڑھیاں اترتے اس جوڑے نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ریل بنانے والی کمپنی فروخت کر کے یونیورسٹی بنائیں گے اور انہوں نے اپنے عہد کو عملی جامہ پہنایا چوہدری عبدالستار کی ذہنیت بھی انقلابی تھی انہوں نے بھی سلطان فاؤنڈیشن کالج کی بنیاد رکھ دی یہ کالج یونیورسٹی کے برابر سہولیات کا حامل ہے یہاں تقریباً بارہ سے پندرہ مضامین میں ایم ایس سی اور بی ایس پروگرام کروائے جا رہے ہیں یہاں کی مکمل آمدنی سلطان فاؤنڈیشن کو جاتی ہے جس کے زیر انتظام فری ڈسپنسری وظائف راشن کی تقسیم جیسے رفاعی کام کیئے جاتے ہیں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہی تحریک انصاف کے راہنما سابق رکن قومی اسمبلی و ضلع ناظم چوہدری اشفاق کو ہی دیکھ لیں یہ کسی بھی بڑے شہر میں بزنس کر سکتے تھے مگر انہوں نے چناب انڈسٹریز کے لیئے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ہی انتخاب کیا یہاں انہوں نے ہزاروں مقامی افراد کے لیئے روزگار کے زرائع پیدا کیئے یہ ایک سوچ اور visionتھا کہ یہی vision آپ کی ترقی اور تنزلی کی سمت طے کرتا ہے دوسری طرف جھنگ کو نوے کی دہائی میں ہی دیکھ لیں اس وقت جھنگ قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں پر مشتمل تھا یہاں کے طاقتور سیاستدان سیدہ عابدہ حسین اور مخدوم فیصل صالح حیات باری باری ہر حکومت کی کابینہ کا حصہ بنتے رہے صاحبزدگان بھی ہر حکومت کا حصہ رہے یہ بھی وفاقی وزیر جیسے پروقار عہدے پر فائز رہے جھنگ کے شیخ وقاص اکرم بھی وفاقی وزیر رہے مگر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سیاستدانوں کے برعکس ان کی سوچ بھی برعکس ہی رہی یہ زاتی وسائل پر سلطان فاؤنڈیشن کی تعمیر تو کجا حکومتی بنیاد پر یونیورسٹی کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ رہے ٹوبہ ٹیک کے سیاستدانوں نے ریلوے لائین کو وسعت دینے کے لیئے اسمبلی اور دیگر فورمز پر اپنی آوازیں بلند کیں مگر جھنگ کے ایک سابق وفاقی وزیر نے جھنگ میں چلنے والی ریل گاڑی کو بند کراکے ہی دم لیا یہاں سے موٹروے گزر سکتی تھی مگر یہاں بھی ایک وفاقی وزیر آڑے گئے یہ موٹروے کو اپنے کاروبار کے لیئے شدید خطرہ سمجھتے تھے یہ سابق وفاقی وزیر فرقہ واریت سے مقابلہ کرنے کی جزباتی فضا پیدا کرکے دراصل خود فرقہ واریت کو ہوا دیتے رہے یہ صاحب مکے لہرا کے جھنگ کے لیڈر ہونے کے دعوے تو کرتے رہے مگر زاتی یونیورسٹی مبینہ طور پر اسلام آباد میں قائم کر ڈالی دوسری طرف شاہ جیونہ کے مخدوم بھی عالمی لیڈر ہونے کے زعم میں مبتلا رہے اور رعونت سے سابق اراکین اسمبلی تک کو ملاقات کے لیئے مبینہ طور پر چھ چھ گھنٹے انتظار کرواتے رہے شاہ جیونہ سمیت پورا علاقہ آج بھی ان بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا جھنگ کا ووٹ ان کے لیئے اچھا مگر جھنگ کی ترقی ان کے لیئے بھی گناہ کبیرہ جھنگ شہر کی سڑکیں جھیل بنیں اور شاہ جیونہ کے در و دیوار بھی کچھ مختلف مناظر نہیں رکھتے مگر دونوں صاحباں آج بھی ٹی وی ٹاک شو ملک کے مسائل کے سب سے بڑے تجزیہ کار دکھائی دیتے ہیں مگر گھر کی بربادی پر آنکھیں چرا لیتے ہیں جھنگ کے ایک اور سابق وفاقی وزیر بھی کوئی کم نہیں ہیں سوچ میں یہ بھی 1970 سے سیاست میں متعدد دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں مگر ایک بھی میگا پراجیکٹس تحصیل شورکوٹ اور احمد پور سیال نہ لا سکے یہ وسطی پنجاب کی اہم ترین اور مصروف ترین شاہراہ شورکوٹ ملتان روڈ کو ون وے تک نہ کر سکے ان سب صاحبان کے لیئے ضلع جھنگ کے ووٹ پاک مگر یہاں رہنا ناپاک انہیں کیا غرض کہ جھنگ میں یونیورسٹی بنے انہیں کیا غرض کہ جھنگ میں تعلیمی ادراہ بنے یا نہ بنے انہیں کیا غرض کہ خونی روڈ ون وے ہو یا نہ ہو انہیں کیا غرض کہ جھنگ ٹوبہ روڈ جھیل میں تبدیل ہویا تالاب میں انہیں کیا غرض کہ تھانہ قادر پور کے اس پاس سڑکوں پر گاڑیوں کے نچلے حصے تںاہ ہوں یا نہ ہوں کاش یہ بھی اپنی سوچ کی سطح چوہدری عبدالستار اور چوہدری اشفاق کی طرح رکھتے یہ جھنگ کو ہی اپنا حقیقی مسکن بنا لیتے تو آپ کا جھنگ کبھی بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہتا یہ بیورو کریٹ تو بس اتنا کہ کر خاموش ہوگئے مگر ہم تصورات میں اب کبھی اسلام آباد تو کبھی لاہور چلے جاتے کاش کے ان سیاستدانوں کے بچے لاہور کینٹ ڈیفنس اسلام آباد کی بجائے شورکوٹ جھنگ اور شاہ جیونہ میں رہ رہے تو تو نہ خونی روڈ اب تک خونی ہوتا نہ شاہ جیونہ ٹوٹا پھوٹا ہوتا اور نہ نہ جھنگ کی سڑکوں پر تالاب ہوتے اور یونیورسٹی کب کی جھنگ کا مقدر بن چکی ہوتی مگر صاحبان ٹھہرے جو لاہوری اور اسلام آبادی
والسلام دعاوں کا طلبگار علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ








