سلسلہ تعارف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

11 رمضان المبارک یومِ وصال عظیم جلیل القدر صحابی رسول، فقیہ اُمت امام المحدثین و شیخ القراء۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

تحریر۔۔معروف کالم نگار حاجی غلام شبیر مہناس

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اسلام قبول کرنے والے اولین اصحاب رسولؐ میں سے ہیں۔ امام بغوی نے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’ میں اسلام لانے والوں میں چھٹا شخص ہوں،، آپ کے قبول اسلام کا واقعہ نہایت دلچسپ ہے۔ آپ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے کہ ادھر سے حضور اکرمؐ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ہمراہ گزرے حضورؐ نے دودھ طلب فرمایا۔ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کیا۔ مجھے امانت دار بنایا گیا ہے کہ بکریاں چرائوں اور ان کی حفاظت کروں، دودھ پلانے کا مجاز نہیں ہوں۔ حضورؐ نے بکریوں میں سے ایک ایسی بکری تلاش کی جو ابھی دودھ دینے کے قابل نہیں ہوئی تھی آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور اور اسے دوہا۔ یوں حضورؐ اور حضرت صدیق اکبرؓ نے دودھ نوش جاں فرمایا۔ یہ ماجرا دیکھ کر عبداللہ بن مسعودؓ نے حضورؐ سے عرض کی یہ دعا مجھے بھی سکھا دیں۔ آپؐ نے ابن مسعودؓ کے سرپر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: ’’تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو‘‘ (یعنی تم استاد بنو گے)
(اعلام الموقعین)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سرکار دو عالمؐ کے قریبی اور پسندیدہ ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ سفر و حضر میں حضورؐ کے ساتھ رہے۔ حضورؐ نے ان سے فرما رکھا تھا کہ ’’تمہیں میرے گھر میں حاضر ہونے کے لئے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ پردہ اٹھا کر اندر آ جایا کرو اور ہماری باتیں سنا کرو،، حضور اکرمؐ کی کچھ خاص خدمتیں ابن مسعودؓ سے متعلق تھیں۔ مثلاً جوتا مبارک اٹھانا، مسواک کو اپنے اپنے پاس رکھنا، آپؐ کے آگے چلنا، نہاتے وقت پردہ کرانا،خواب سے بیدار کرنا وغیر۔ (الاستیعاب)

ابتدائے اسلام میں جب اپنے اسلام کا اظہار نہایت مشکل تھا، آپ وہ پہلے مسلمان تھے۔ جنہوں نے بیت اللہ شریف کے پاس کھڑے ہو کر مستانہ وار سورۃ الرحمٰن کی بآواز بلند تلاوت کی اور کفار مکہ کا ظلم برداشت کیا (ابن ہشام)
حضور اکرمؐ نے فرمایا: قرآن مجید کو ان چار افراد سے حاصل کرو سب سے پہلے عبداللہ ابن مسعودؓ کا نام ذکر فرمایا: بعد ازاں ابی بن کعب، سالم مولیٰ اور معاذ بن جبل ؓ کے اسمائے گرامی لئے۔ (بخاری و مسلم )

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے عادات و اطوار میں عبداللہ بن مسعودؓ سے مشابہت رکھنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول اللہؐ کے قریبی اصحاب کی نظر میں عبداللہ بن مسعودؓ درجات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔

(بخاری بتغیر الفاظ)

الاکمال فی اسماء الرجال میں ہے، رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’میں اپنی امت کے واسطے وہ پسند کرتا ہوں جو ابن مسعودؓ اس کے واسطے پسند کریں اور امت کے واسطے اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے ابن مسعودؓ ناپسند کریں،، اس فرمان عظمت نشان کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا سب سے پہلا اجتہاد جو نظر آتا ہے وہ خلافت صدیق اکبرؓ کے بارے میں میں ہے۔ حضور اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے بارے میں ابن مسعودؓ نے ان خوبصورت الفاظ میں اجتہاد کیا کہ ’’ہم اپنے دنیاوی معاملات کے لئے اسی شخصیت کو پسند کرتے ہیں جسے رسول اللہؐ نے ہمارے دینی امور کے لئے پسند فرمایا ہے۔،، یعنی جس ہستی کو حضورؐ نے نماز کی امانت کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اسی کو ہم خلافت کے لئے پسندکرتے ہیں۔
رسول کریمؐ کے بدترین دشمن ابوجہل کی گردن کاٹنے کا شرف بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کو حاصل ہوا۔ دو ننھے بچے معاذؓ اور معوذؓ نے جب اپنی تلواروں سے ابوجہل کو گھائل کر دیا تو حضرت ابن مسعودؓ کا اس طرف سے گزر ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ کے پاس کارآمد تلوار نہ تھی۔ انہوں نے ابوجہل کی تلوار اٹھا لی۔ ابوجہل کی نظر ان پر پڑی تو وہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا۔ اس نے کہا: اے حقیر بھیڑیں چرانے والے! تو نے مشکل کام کو ہاتھ ڈالا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے اس کے ساتھ ہی اس کی گردن کاٹ دی اور اس کا سر اور تلوار دونوں کو لا کر رسول کریمؐ کے قدموں میں ڈال دیا۔ رسول اللہؐ نے وہ تلوار آپ ہی کو عنایت فرما دی۔
حضرت ابن مسعودؓ کا قد چھوٹا تھا پنڈلیاں پتلی پتلی تھیں ایک مرتبہ رسول اللہؐ نے انہیں درخت پر سے کوئی چیز اتارنے کا حکم دیا وہ درخت پر چڑھے ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر صحابہ کرام کی ہنسی چھوٹ گئی۔ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم کیا ہنستے ہو۔ عبداللہ کی ٹانگیں میزان (اللہ کے ترازو) میں اُحد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہیں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے ایک روز ابن مسعودؓ کو بیٹھا دیکھا تو فرمایا: ’’یہ علم و معرفت سے بھری چھاگل ہیں۔‘‘

حضرت عمرؓ نے 20 ھ میں حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ کو کوفہ بھیجا اور اہل کوفہ کو لکھا: میں نے عمار بن یاسر کو امیر اور عبداللہ بن مسعودؓ کو معلم بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں رسول اللہؐ کے برگزیدہ اصحاب اور اصحاب بدر میں سے ہیں۔ تم ان دونوں کی پیروی اور اطاعت کرو اور ان کے ارشادات عالیہ کو دھیان سے سنو۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کو تو میں نے اپنے نفس پر ایثار کر کے تمہارے پاس بھیجا ہے۔،،
یوں حضور اکرمؐ کی بشارت پوری ہو گئی کہ ’’تم خود علم سکھانے والے پیارے بچے ہو،، شقیق ابووائل بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہؐ کے صحابہ کرام کے حلقے میں بیٹھا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کی بات سے انکار کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا اور نہ کسی صحابی نے آپ کا رد کیا۔ یعنی آپ فقاہت کے اس مقام پر فائز تھے کہ آپ کی رائے کے سامنے کسی کو صحابی کو کبھی رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔(طبقات ابن سعد)

یہی وہ مناقب و فضائل ہیں جن کے پیش نظر امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اپنی فقہ کے سلسلے میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی پیروی کی ہے۔ آپ کے احوال مبارکہ ابن عبدالبر کی الاستیعاب، امام یافعی کی مرآۃ الجنان، ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ ابن قیم کی اعلام الموقعین، ابن حجر کی الاصابہ اور صاحب مشکوٰۃ کی الاکمال میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔