خلافت فاروقی کے کارنامے
(قسط نمبر21)
فوجی تنخواہوں کا نظام تحریر و پیشکش محمد نوید
=================

حسب ذیل تنخواہیں مقرر ہوئیں۔ (تنخواہوں کی تفصیل میں مختلف روایتیں ہیں۔ میں نے کتاب الخراج صفحہ 24 و مقریزی جلد اول صفحہ 92 و بلاذری صفحہ 248 و یعقوبی صفحہ 1175 و طبری صفحہ 2411 کے بیانات کو حتی الامکان مطابق کر کے لکھا ہے )۔

۱: جو لوگ جنگ بدر میں شریک تھے۔ 5 ہزار درہم ۔
۲: مہاجرین حبش اور شرکائے جنگ احد۔ 4 ہزار درہم ۔
۳: فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے ہجرت کی۔ ۳ ہزار درہم ۔
۴: جو لوگ فتح مکہ میں ایمان لائے۔ 2 ہزار درہم ۔
۵: جو لوگ جنگ قادسیہ اور یرموک میں شریک تھے۔ 2 ہزار درہم ۔
۶: اہل یمن 4 سو درہم ۔
۷: قادسیہ اور یرموک کے بعد کے مجاہدین 3 سو درہم ۔
۸: بلا امتیاز مراتب 2 سو درہم ۔

جن لوگوں کے نام درج دفتر ہوئے ان کی بیوی اور بچوں کی تنخواہیں مقرر ہوئیں۔ چنانچہ مہاجرین اور انصار کی بیویوں کی تنخواہ 200 سے 400 درہم تک اور اہل بدر کی اولاد ذکور کی دو ہزار درہم مقرر ہوئی۔ اس موقع پر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جن لوگوں کی جو تنخواہ مقرر ہوئی ان کے غلاموں کی بھی وہی تنخواہ مقرر ہوئی۔ اور اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اسلام کے نزدیک غلاموں کا کیا درجہ تھا۔

جس قدر آدمی درج رجسٹر ہوئے (اس موقع پر ایک امر نہایت توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے ظاہر بینوں کا خیال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام عرب کی جو تنخواہیں مقرر کیں اس کو فوجی صیغے سے چنداں تعلق نہیں بلکہ یہ رفاہ عام کی غرض سے تھا لیکن یہ نہایت غلط خیال ہے۔ اولاً جہاں مؤرخوں نے اس واقعہ کا شان نزول بیان کیا ہے لکھا ہے کہ ولید بن ہشام نے حضرت عمر سے کہا کہ ” قد ذھبت الشام فرائیت ملوکھا تدو نوادیواناً و جندوا جنداً فدون دیوانا و جند جندا فاخذ بقولہ۔” یعنی میں نے شام کے بادشاہوں کو دیکھا کہ وہ دفتر اور فوج رکھتے ہیں آپ بھی دفتر بنائے اور فوج مرتب کیجئے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ولید کے قول پر عمل کیا۔

دوسرے یہ کہ جن لوگوں سے جنگی خدمت نہیں لی جاتی تھی اور قدیم جنگی خدمتوں کا استحقاق بھی نہیں رکھتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی تنخواہ نہیں مقرر کرتے تھے اسی بناء پر مکہ کے لوگوں کو تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ فتوح البلدان میں ہے” ان عمر کان لایعطی اھل مکۃ عطاء ولا یضرب علیھم بعث فتوح صفحہ 458۔ ” یہی وجہ تھی کہ جب صحرا نشین بدوؤں نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تنخواہ کی تقرری کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک آبادی میں رہنے والوں کی تنخواہیں مقرر نہ ہو جائیں۔ صحرا نشینوں کا روزینہ نہیں مقرر ہو سکتا۔

البتہ اس میں شک نہیں کہ اول اول فوج کے رجسٹر میں اور بھی بہت سی قسم کے لوگ شامل تھے مثلاً جو لوگ قرآن مجید حفظ کر لیتے تھے یا کسی فن میں صاحبِ کمال تھے۔ لیکن استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ یہ غلط مبحث جو بضرورت اختیار کیا گیا تھا مٹتا گیا چنانچہ اس مضمون میں آگے اس کی بحث آتی ہے۔ ) اگرچہ سب درحقیقت فوج کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن ان کی دو قسمیں قرار دی گئیں۔

(1) جو ہر وقت جنگی مہمات میں مصروف رہتے تھے گویا یہ فوج نظام یعنی باقاعدہ فوج تھی۔
(2) جو معمولاً اپنے گھروں میں رہتے تھے۔ لیکن ضرورت کے وقت طلب کئے جا سکتے تھے۔ ان کو عربی میں مطوعۃ کہتے ہیں اور آج کل کی اصلاح میں اس قسم کی فوج کو والنٹیر کہا جاتا ہے۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ آج کل والنٹیر تنخواہ نہیں پاتے۔

فوجی نظم و نسق کا یہ پہلا دیباچہ تھا اور اس وجہ سے اس میں بعض بے ترتیبیاں بھی تھیں۔ سب سے بڑا خلط مبحث یہ تھا کہ تنخواہوں کے ساتھ پولٹیکل تنخواہیں بھی شامل تھیں اور ان دونوں کا ایک ہی رجسٹر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یعنی 21 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صیغے کو اس قدر مرتب اور منظم کر دیا کہ غالباً اس عہد تک کہیں اور کبھی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ ہم ایک ایک جزئی انتظام کو اس موقع پر نہایت تفصیل سے لکھتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ عرب کے ابتدائے تمدن میں انتظامات فوجی کی اس قدر شاخیں قائم کرنی اور ایک ایک شاخ کا اس حد تک مرتب اور باقاعدہ کرنا اسی شخص کا کام تھا جو فاروق اعظم کا لقب رکھتا تھا۔

اس صیغے میں سب سے مقدم اور اصولی انتظام، ملک کا جنگی حیثیت سے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ 20 ہجری میں ملکی حیثیت سے ملک کی دو تقسیمیں کیں۔ ملکی اور فوجی، ملکی کا حال دیوانی انتظامات کے ذکر میں گزر چکا ہے۔

*فوجی مراکز:*
==========

فوجی حیثیت سے چند بڑے بڑے فوجی مراکز قرار دیئے جن کا نام جند رکھا (جند کی تحقیقات کے لئے دیکھو فتوح البلدان صفحہ 32۔) مؤرخ یعقوبی نے واقعات 20ھ میں لکھا ہے کہ اس سال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوجی صدر مقامات قائم کئے۔ لیکن مؤرخ مذکور نے صرف فلسطین، جزیرہ، موصل اور قنسرین کا نام لکھا ہے۔ یہ صریح غلطی ہے )۔ اور یہی اصطلاح آج تک قائم ہے۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔ کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، مصر، دمشق، حمص، اردن، فلسطین۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں فتوحات کی حد اگرچہ بلوچستان کے ڈانڈے سے مل گئی تھی۔ لیکن جو ممالک آئینی ممالک کہے جا سکتے تھے۔ وہ صرف عراق، مصر، جزیرہ اور شام تھے۔ چنانچہ اسی اصول پر فوجی صدر مقامات بھی انہی ممالک میں قائم کئے گئے۔ موصل جزیرہ کا صدر مقام تھا۔ شام کی وسعت کے لحاظ سے وہاں متعدد صدر مقام قائم کرنے ضروری تھے اس لئے دمشق، فلسطین، حمص، اردن چار صدر مقام قرار دیئے۔ فسطاط کی وجہ سے جو اب قاہرہ سے بدل گیا ہے۔ تمام مصر پر اثر پڑتا تھا۔ بصرہ، کوفہ، یہ دو شہر فارس اور خوزستان اور تمام مشرق کی فتوحات کے دروازے تھے۔ ان صدر مقامات میں جو انتظامات فوج کے لئے تھے وہ حسب ذیل تھے۔

*فوجی بارکیں:*

فوجوں کے رہنے کے لیے بارکیں تھیں۔ کوفہ، بصرہ، فسطاط، یہ تینوں شہر تو دراصل فوج کے قیام اور بود و باش کے لئے ہی آباد کئے گئے تھے۔ موصل میں عجمیوں کے زمانے کا ایک قلعہ چند گرجے اور معمولی مکانات تھے۔ ہرثمہ بن عرفجہ ازدی (گورنر موصل) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت کے بموجب داغ بیل ڈال کر اس کو شہر کی صورت میں آباد کیا۔ اور عرب کے مختلف قبیلوں کے لیے جدا جدا محلے بسائے۔

*گھوڑوں کی پرداخت:*

ہر جگہ بڑے اصطبل خانے تھے جن میں چار چار ہزار گھوڑے ہر وقت ساز و سامان کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ صرف اس غرض سے مہیا رکھے جاتے تھے کہ دفعتہً ضرورت پیش آ جائے تو 32 ہزار سواروں کا رسالہ تیار ہو جائے۔

(تاریخ طبری صفحہ 2504 میں ہے کان لعمر اربعۃ الاف فرس عدۃ لکون ان کان یشتیھا فی قبلۃ قصر الکوفتہ و بالبصرہ نحو منھا قیم علیھا جزین معاویہ و فی کل مصر من الامصار الثمانیۃ علی قدر ھافان نابتھم فائبۃ رکب قوم و تقدموا الی ان یستعد الناس)۔

17 ہجری میں جزیرہ والوں نے دفعتاً بغاوت کر دی تو یہی تدبیر کلید ظفر ٹھہری۔ ان گھوڑوں کی پرداخت اور ترتیب میں نہایت اہتمام کیا جاتا تھا۔ مدینہ منورہ کا انتظام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنے اہتمام میں رکھا تھا۔ شہر سے چار منزل پر ایک چراگاہیں تیار کرائی تھی (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھوڑوں اور اونٹوں کی پرورش اور پرداخت کے لئے عرب میں متعدد چراگاہیں تیار کرائیں تھیں۔ سب سے بڑی چراگاہ ربذہ میں تھی جو مدینہ منورہ سے چار منزل کے فاصلے پر جندے کے ضلع میں واقع ہے۔ یہ چراگاہ دس میل لمبی اور اسی قدر چوڑی تھی اور دوسری مقام ضریہ میں تھی جو مکہ معظمہ سے سات منزل پر ہے۔ اس کی وسعت ہر طرف سے چھ چھ میل تھی۔ اس میں تقریباً چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے۔ ان چراگاہوں کی پوری تفصیل خلاصۃ الوفا باخبار دارالمصطفیٰ مطبوعہ مصر صفحہ 255 تا 256 میں ہے۔ ) اور خود اپنے غلام کو جس کا نام ہنی تھا اس کی حفاظت اور نگرانی کے لئے مقرر کیا تھا۔ ان گھوڑوں کی رانوں پر داغ کے ذریعے سے یہ الفاظ لکھتے جاتے تھے۔ جیش فی سبیل اللہ (کنز العمال جلد 2 صفحہ 326)۔

کوفہ میں اس کا اہتمام سلمان بن ربیعہ الباہلی سے متعلق تھا جو گھوڑوں کی شناخت اور پرداخت میں کمال رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے نام میں یہ خصوصیت داخل ہو گئی تھی اور سلمان الخیل نام سے پکارے جاتے تھے۔ جاڑوں میں یہ گھوڑے اصطبل خانے میں رکھے جاتے تھے۔ چنانچہ چوتھی صدی تک یہ جگہ آری کے نام سے مشہور تھی جس کے معنی اصطبل خانے کے ہیں اور اسی لحاظ سے عجمی اس کو آخور شاہ کہتے تھے۔ بہار میں یہ گھوڑے ساحل فرات پر علاقوں کے قریب شاداب چراگاہوں میں چرائے جاتے۔ سلمان ہمیشہ گھوڑوں کی ترتیب میں نہایت کوشش کرتے تھے اور ہمیشہ سال میں ایک دفعہ گھوڑ دوڑ بھی کراتے تھے۔

خاص کر عمدہ عمدہ نسل کے گھوڑوں کو انہوں نے نہایت ترقی دی۔ اس سے پہلے اہل عرب، نسل میں ماں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ سب سے پہلے سلمان نے یہ امتیاز قائم کیا۔ چنانچہ جس گھوڑے کی ماں عربی نہیں ہوتی تھی دوغلا قرار دے کر تقسیم غنیمت میں سوار کو حصہ سے محروم کر دیتے تھے (کتب رجال میں سلمان بن ربیعہ کا تذکرہ دیکھو)۔
بصرہ کا اہتمام جزر بن معاویہ سے متعلق تھا جو صوبہ اہواز کے گورنر رہ چکے تھے۔

*فوج کا دفتر:*

فوج کے متعلق ہر قسم کے کاغذات اور دفتر انہی مقامات میں رہتا تھا۔

*رسد کا غلہ:*

رسد کے لئے جو غلہ اور اجناس مہیا کی جاتی تھیں وہ انہی مقامات میں رکھی جاتی تھیں۔ اور یہیں سے اور مقامات کو بھیجی جاتی تھیں۔

*فوجی دفاتر اور چھاؤنیاں:*
==================

ان صدر مقامات کے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے بڑے شہروں اور مناسب مقامات میں نہایت کثرت سے فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور عرب کو تمام ممالک مفتوحہ میں پھیلا دیا۔ اگرچہ یہ ان کا عام اصول تھا کہ جو شہر فتح ہوتا تھا اسی وقت ایک مناسب تعداد کی فوج وہاں متعین کر دی جاتی تھی جو وہاں سے ٹلتی نہ تھی۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شام فتح کیا تو ہر ہر ضلع میں ایک عامل مقرر کیا جس کے ساتھ ایک معتدبہ فوج رہتی تھی لیکن امن و امان قائم ہونے پر بھی کوئی بڑا ضلع یا شہر ایسا نہ تھا جہاں فوجی سلسلہ قائم نہیں کیا گیا۔

17 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شام کا سفر کیا تو ان مقامات میں جہاں ملک کی سرحد دشمن ملک سے ملتی تھی، یعنی دلوک فج، رعیان، قورس، تیزین، انطاکیہ وغیرہ (عربی میں ان کو فروج یا ثغور کہتے ہیں) ایک ایک شہر کا دورہ کیا اور ہر قسم کا فوجی نظم و نسق اور مناسب انتظامات کئے جو مقامات دریا کے کنارے پر واقع تھے وہ بلاد ساحلیہ کہلاتے تھے۔ یعنی عسقلان، یا قاقیساریہ، ارسوف عکا، صور، بیروت، طرطوس، صعیدا، ایاس لاذقیہ، چونکہ رومیوں کی بحری طاقت کی زد پر تھے اس لئے ان کا مستقل جداگانہ انتظام کیا اور اس کا افسر کل عبد اللہ بن قیس کو مقرر کیا۔ بالس چونکہ غربی فرات کے ساحل پر تھا اور عراق سے ہمسر حد تھا، وہاں فوجی انتظام کے ساتھ اس قدر اضافہ کیا کہ شامی عرب جو اسلام قبول کر چکے تھے آباد کئے۔

(فتوح البلدان صفحہ 150 میں ہے ورتب ابو عبیدہ ببالس جماعۃ من المقاتلۃ و اسکنھا قوما من العرب الذین کانوا بالشام فاسلموا بعد قدوم المسلمین الشام)۔

19 ہجری میں جب یزید بن ابی سفیان کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی معاویہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی کہ سواحل شام پر زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت حکم بھیجا کہ تمام قلعوں کی نئے سرے سے مرمت کرائی جائے اور ان میں فوجیں مرتب کی جائیں۔ اس کے ساتھ تمام دریائی منظر گاہوں پر پہرہ والے تعینات کئے جائیں اور آگ روشن رہنے کا انتظام کیا جائے۔

(فتوح البلدان صفحہ 128 میں ہے۔ ان معاویۃ کتب الی عمر بن الخطاب بعد موت اخیہ یزید الحلل السواحل فکتب الیہ فی مرمۃ حصونھا اور ترتیب المقاتلۃ فیھا و اقامۃ الحوس علی مناظرھا و اتخاذ المواقید لھا)۔

اسکندریہ میں یہ انتظام تھا کہ حضرت عمرو بن العاص کی افسری میں جس قدر فوجیں تھیں اس کی ایک چوتھائی اسکندریہ کے لئے مخصوص تھی۔ ایک چوتھائی ساحل کے مقامات میں رہتی تھی۔ باقی آدھی فوج خود عمرو بن العاص کے ساتھ فسطاط میں اقامت رکھتی تھی۔ یہ فوجیں بڑے بڑے وسیع ایوانوں میں رہتی تھیں اور ہر ایوان میں ان کے ساتھ ایک عریف رہتا تھا جو ان کے قبیلہ کا سردار ہوتا تھا اور جس کی معرفت ان کو تنخواہیں تقسیم ہوتی تھیں۔ ایوانوں کے آگے صحن کے طور پر وسیع افتادہ زمین ہوتی تھی۔

(مقریزی جلد اول صفحہ 167 میں ہے و کان لکل عریف قصر ینزل بمن معہ من اصحابہ اتخذوافیہ اخایذ)۔

16 ہجری میں جب ہرقل نے دریا کی راہ سے مصر پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام سواحل پر فوجی چھاؤنیاں قائم کر دیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمرو بن العاص کی ماتحتی میں جس قدر فوج تھی اس کی ایک چوتھائی انہی مقامات کے لیے مخصوص کر دی۔

(تاریخ طبری صفحہ 2523۔ اصل عبارت یہ ہے۔ قسم عمر الا رزاق و سمی الشواتی والصنوالف و سدفروج الشام و سالحھا و اخذو ربھا و سمی ذلک فی کل کورۃ و استعمل عبد اللہ بن قیس علی السواحل من کل کورۃ۔ )

عراق میں بصرہ وکوفہ اگرچہ محفوظ مقامات تھے چنانچہ خاص کوفہ میں چالیس ہزار سپاہی ہمیشہ رہتے تھے اور انتظام یہ تھا کہ ان میں سے 10 ہزار بیرونی مہمات میں مصروف رکھے جائیں۔

(تاریخ طبری صفحہ 2805 میں ہے و کان بالکوفۃ اذ ذاک اربعون الف مقاتل و کان یغز و ھذین الثفرین (ای الری واذر بیجان) ھم عشرۃ الاف فی کل سنہ فکان الرجل یصیبہ فی کل الربع سنین غزوۃ)۔

تاہم ان اضلاع میں عجمیوں کی جو فوجی چھاؤنیاں پہلے سے موجود تھیں، از سر نو تعمیر کر کے فوجی قوت سے مضبوط کر دی گئیں۔ خربیہ اور زابوقہ میں سات چھوٹی چھوٹی چھاؤنیاں تھیں وہ سب نئے سرے سے تعمیر کر دی گئیں۔ (فتوح البلدان صفحہ 350)۔ صوبہ خوزستان میں نہایت کثرت سے فوجی چھاؤنیاں قائم کی گئیں۔ چنانچہ نہر تیری، مناذر، سوق الاہواز، سرق، ہرمزان، سوس، بنیان، جندی، سابور، مہر، جانقدق یہ تمام فوجوں سے معمور ہو گئے (طبری صفحہ 2650)۔ رے اور آذر بائیجان کی چھاؤنیوں میں ہمیشہ 10 ہزار فوجیں موجود رہتی تھیں۔

اسی طرح اور سینکڑوں چھاؤنیاں جا بجا قائم کی گئیں جن کی تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں۔ البتہ اس موقع پر یہ بات لحاظ کے قابل ہے کہ اس سلسلے کو اس قدر وسعت کیوں دی گئی تھی۔ اور فوجی مقامات کے انتخاب میں کیا اصول ملحوظ تھے ؟ اصل یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی فوجی قوت نے اگرچہ بہت زور اور وسعت حاصل کر لی تھی لیکن بحری طاقت کا کچھ سامان نہ تھا، ادھر یونانی مدت سے اس فن میں مشاق ہوتے آتے تھے۔ اس وجہ سے شام، مصر میں اگرچہ کسی اندرونی بغاوت کا کچھ اندیشہ نہ تھا۔ کیونکہ اہل ملک باوجود اختلاف مذہب کے مسلمانوں کو عیسائیوں سے زیادہ پسند کرتے تھے۔ لیکن رومیوں کے بحری حملوں کا ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا تھا۔ اس کے ساتھ ایشیائے کوچک ابھی تک رومیوں کے قبضے میں تھا اور وہاں ان کی قوت کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا تھا۔ ان وجوہ سے ضروری تھا کہ سرحدی مقامات اور بندرگاہوں کو نہایت مستحکم رکھا جائے۔

*فوجی چھاؤنیاں کس اصول پر قائم تھیں؟*

یہی وجہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس قدر فوجی چھاؤنیاں قائم کیں انہیں مقامات میں کیں جو ساحل پر واقع تھے یا ایشیائے کوچک کے ناکے پر تھے۔ عراق کی حالت اس سے مختلف تھی کیونکہ وہاں سلطنت کے سوا ملک کے بڑے بڑے رئیس جو مرزبان کہلاتے تھے اپنی بقائے ریاست کے لئے لڑتے رہتے تھے اور دب کر مطیع بھی ہو جاتے تھے لیکن ان کی اطاعت پر اطمینان نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے ان ممالک میں ہر جگہ فوجی سلسلہ کا قائم رکھنا ضروری تھا کہ مدعیان ریاست بغاوت کا خواب نہ دیکھنے پائیں۔

*فوجی دفتر کی وسعت:*

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سلسلے کے ساتھ انتظامات کے اور صیغوں پر بھی توجہ کی اور ایک ایک صیغے کو اس قدر منظم کر دیا کہ اس وقت کے تمدن کے لحاظ سے ایک معجزہ سا معلوم ہوتا ہے۔ فوجوں کی بھرتی کا دفتر جس کی ابتداء مہاجرین اور انصار سے ہوئی تھی وسیع ہوتے ہوتے قریباً تمام عرب کو محیط ہو گیا۔ مدینہ سے عسفان تک جو مکہ معظمہ سے دو منزل ادھر ہے ، جس قدر قبائل آباد تھے ایک ایک کی مردم شماری ہو کر رجسٹر بنے۔ بحرین جو عرب کا انتہائی صوبہ ہے بلکہ عرب کے جغرافیہ نویس اس کو عراق کے اضلاع میں شمار کرتے ہیں، وہاں کے تمام قبائل کا دفتر تیار کیا گیا۔ کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، جیزہ وغیرہ میں جس قدر عرب آباد ہو گئے تھے سب کے رجسٹر مرتب ہوئے۔ اس بے شمار گروہ کی اعلیٰ قدر مراتب تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ اور اگرچہ ان سب کا مجموعی شمار تاریخوں سے معلوم نہیں ہوتا، تاہم قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم آٹھ دس لاکھ ہتھیار بند آدمی تھے۔

*ہر سال 30 ہزار نئی فوج تیار ہوتی تھی:*

ابن سعد کی روایت ہے کہ ہر سال 30 ہزار نئی فوج فتوحات پر بھیجی جاتی تھی۔ کوفہ کی نسبت علامہ طبری نے تصریح کی ہے کہ وہاں ایک لاکھ آدمی لڑنے کے قابل بسائے گئے جن میں سے 40 ہزار باقاعدہ فوجی تھے یعنی ان کو باری باری سے ہمیشہ رے اور آذر بائیجان کی مہمات میں حاضر رہنا ضروری تھا۔

یہی نظام تھا جس کی بدولت ایک مدت تک تمام دنیا پر عرب کا رعب و داب قائم رہا۔ اور فتوحات کا سیلاب برابر بڑھتا گیا۔ جس قدر اس نظام میں کمی ہوتی گئی عرب کی طاقت میں ضعف آتا گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوجی دفتر کو یہاں تک وسعت دی کہ اہل عجم بھی اس میں داخل کئے گئے۔

==================> جاری ہے ۔۔۔