خلافت فاروقی کے کارنامے
قسط نمبر 22
تحریر و پیشکش محمد نوید
فوج میں عجمی رومی اور ہندوستانی فوجی
===============================
یزدگرد شہنشاہ فارس نے ویلم کی قوم سے ایک منتخب دستہ تیار کیا تھا جس کی تعداد چار ہزار تھی اور جند شاہنشاہ یعنی فوج خاصہ کہلاتا تھا۔ یہ فوج قادسیہ میں کئی معرکوں کے بعد ایرانیوں سے علیحدہ ہو کر اسلام کے حلقے میں آ گئی۔ سعد ابن ابی وقاص گورنر کوفہ نے ان کو فوج میں داخل کر لیا اور کوجہ میں آباد کر کے ان کی تنخواہیں مقرر کر دیں (فتوح البلدان صفحہ 280)۔ چنانچہ اسلامی فتوحات میں ان کا نام بھی جا بجا تاریخوں میں آتا ہے۔ یزدگرد کی فوج ہراول کا سردار ایک بڑا نامی افسر تھا جو سیاہ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
17 ہجری میں یزدگرد اصفہان کو روانہ ہوا تو سیاہ کو تین سو سواروں کے ساتھ جن میں ستر بڑے نامی پہلوان تھے ، اصطخر کی طرف بھیجا کہ ہر شہر سے چند بہادر منتخب کر کے ایک دستہ تیار کرے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب 20 ہجری میں سوس کا محاصرہ کیا تو یزدگرد نے سیاہ کو حکم دیا کہ اس چیدہ رسالے کے ساتھ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے کو جائے۔ سوس کی فتح کے بعد سیاہ نے مع تمام سرداروں کے ابو موسیٰ سے چند شرائط کے ساتھ امن کی درخواست کی۔ ابو موسیٰ گو ان شرائط پر راضی نہ تھے لیکن کیفیت واقعہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا کہ تمام شرائط منظور کر لئے جائیں۔ چنانچہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب کے سب بصرہ میں آباد کئے گئے اور فوجی دفتر میں نام لکھا کر ان کی تنخواہیں مقرر ہو گئیں۔ ان میں سے چھ افسروں کے جن کے نام یہ تھے ، سیاہ، خسرو، شہریار، شیرویہ، افرودین کی ڈھائی ڈھائی ہزار اور سو بہادروں کی دو ہزار تنخواہ مقرر ہوئی۔ تستر کے معرکے میں سیاہ ہی کی تدبیر سے فتح حاصل ہوئی۔ (طبری واقعات 17 ہجری ذکر فتح سوس و فتوح البلدان از صفحہ 272 تا 275)۔
باذان، نوشیروان کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ اس کی رکاب میں جو ایرانی فوج تھی، ان میں سے اکثر مسلمان ہو گئے۔ ان کا نام بھی دفتر میں لکھا گیا۔ تعجب یہ ہے کہ فاروقی لشکر ہندوستان کے بہادروں سے بھی خالی نہ تھا۔ سندھ کے جاٹ جن کو اہل عرب زط کہتے تھے ، یزدگرد کے لشکر میں شامل تھے۔ سوس کے معرکے کے بعد وہ اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے اور فوج میں بھرتی ہو کر بصرہ میں آباد کئے گئے (فتوح البلدان صفحہ 275)۔
یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانچ سو آدمی شریک جنگ تھے اور جب عمرو بن العاص نے فسطاط آباد کیا تو یہ جداگانہ محلے میں آباد کئے گئے۔ یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ خالی نہ تھا، چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے (مقریزی صفحہ 298 میں ان سب کے حالات کسی قدر تفصیل سے لکھے ہیں)۔
غرض حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صیغۂ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لئے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی۔ یہاں تک کہ مذہب و ملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔ والنٹیر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔ فوجی نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے۔ چنانچہ اس کی تفصیل غیر قوموں کے حقوق کے ذکر میں آئے گی۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صیغۂ جنگ کی یہ وسعت جس میں تمام قوموں کو داخل کیا گیا تھا، صرف اسلام کی ایک فیاضی تھی۔ ورنہ فتوحات ملکی کے لئے عرب کو اپنی تلوار کے سوا اور کسی کا کبھی ممنون ہونا نہیں پڑا۔ البتہ اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ جن قوموں سے مقابہ تھا انہی کے ہم قوموں کو ان سے لڑانا فن جنگ کا بڑا اصول تھا۔
کہ خرگوش ہر مز زرا بے شگفت
سگ آں ولایت تواند گرفت
جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ ابتدائے انتظام میں فوجی صیغہ صاف صاف جداگانہ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ یعنی جو لوگ اور حیثیت سے تنخواہیں پاتے تھے ، ان کے نام بھی فوجی رجسٹر میں درج تھے اور اس وقت یہی مصلحت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اب یہ پردہ بھی اٹھا دینا چاہا۔ شروع شروع میں تنخواہ کی کمی بیشی میں قرآن خوانی کے وصف کا بھی لحاظ ہوتا تھا لیکن چونکہ اس کو فوجی امور سے کچھ تعلق نہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو صیغۂ تعلیم کر کے اس دفتر سے الگ کر دیا۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاص کو یہ الفاظ لکھ بھیجے ” لا لفظ علی القراں احداً۔
اس کے بعد تنخواہوں کی ترقی کی طرف توجہ کی۔ چونکہ وہ فوج کو زراعت، تجارت اور اس قسم کے تمام اشغال سے بزور باز رکھتے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ ان کی تمام ضروریات کی کفالت کی جائے۔ اس لحاظ سے تنخواہوں میں کافی اضافہ کیا۔ ادنیٰ سے ادنیٰ شرح جو 200 سالانہ تھی 300 کر دی۔ افسروں کی تنخواہ سات ہزار سے لے کر دس ہزار تک بڑھا دی۔ بچوں کی تنخواہ دودھ چھوڑنے کے بعد سے مقرر ہوتی تھی۔ اب حکم دے دیا کہ پیدا ہونے کے دن سے مقرر کر دی جائے۔
تنخواہ وغیرہ کی تقسیم کے اوقات مختلف تھے۔ شروع محرم میں تنخواہ، فصل بہار میں بھتہ اور فصل کے کٹنے کے وقت خاص خاص جاگیروں کی آمدنی تقسیم ہوتی تھی۔
(طبری صفحہ 6486۔ اصل عبارت یہ ہے وامر لھم بمعادلھم فی الربیع من کل سنۃ و باعطیاتھم فی المحرم من کل سنۃ و بفتیھم عند طلوع الشعری فی کل سنۃ و ذلک عند ادراک الفلات)۔
تنخواہ کی تقسیم کا یہ طریقہ تھا کہ ہر قبیلے کے ساتھ ایک عریف یعنی مقدم یا رئیس ہوتا تھا۔ فوجی افسر جو کم سے کم 10 – 10 سپاہیوں پر افسر ہوتے تھے اور جو امراء الاعشار کہلاتے تھے ، تنخواہ دی جاتی تھی۔ وہ عریف کے حوالے کرتے تھے اور عریف اپنے قبیلہ کے سپاہیوں کے حوالے کرتے تھے۔ ایک ایک عریف سے متعلق ایک ایک لاکھ درہم کی تقسیم تھی۔ چنانچہ کوفہ، بصرہ میں سو عریف تھے۔ جن کے ذریعے سے ایک کروڑ کی رقم تقسیم ہوتی تھی۔ اس انتظام میں نہایت احتیاط اور خبر گیری سے کام لیا جاتا تھا۔ عراق میں امراء اعشار نے تنخواہوں کی تقسیم میں بے اعتدالی کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرب کے بڑے بڑے نساب اور اہل الرائے مثلاً سعید بن عمران، مشعلہ بن نعیم وغیرہ کو بلا کر اس کی جانچ پر مقرر کیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے دوبارہ نہایت تحقیق اور صحت کے ساتھ لوگوں کے عہدے اور روزینے مقرر کئے اور دس دس کے بجائے سات سات سپاہی پر ایک ایک افسر مقرر کیا۔ (یہ واقعات نہایت تفصیل کے ساتھ طبری صفحہ 2495 تا 2496 و مقریزی صفحہ 93 میں ہیں)۔ عریف کا تقرر بھی فاروقی ایجادات سے تھا جس کی تقلید مدتوں تک کی گئی۔ کنز العمال باب الجہاد میں علامہ بیہقی کی روایت ہے۔
تنخواہوں میں قدامت اور کارکردگی کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ قادسیہ میں زہرہ، عصمتہ، جنتی وغیرہ نے بڑے بڑے مردانہ کام کئے تھے اس لئے ان کی تنخواہیں دو، دو ہزار سے ڈھائی ڈھائی ہزار ہو گئیں۔ مقررہ رقموں كے علاوہ غنیمت سے وقتاً فوقتاً جو ہاتھ آتا تھا اور اعلیٰ قدر مراتب فوج پر تقسیم ہوتا تھا۔ اس کی کچھ انتہا نہ تھی۔ چنانچہ جلولا میں نو نو ہزار، نہاوند چھ چھ ہزار درہم ایک ایک سوار کے حصے میں آئے تھے۔
*صحت اور تندرستی قائم رکھنے کے لئے قواعد:*
===============================
*اختلاف موسم کے لحاظ سے فوج کی تقسیم:*
جاڑے اور گرمی کے لحاظ سے لڑائی کی جہتیں متعین کر دی تھیں، یعنی جو سرد ملک تھے ان پر گرمیوں میں اور گرم ملکوں پر جاڑوں میں فوجیں بھیجی جاتی تھیں اس تقسیم کا نام شاتیہ اور صافیہ رکھا اور یہی اصطلاح آج تک قائم ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے مؤرخین مغربی مہمات اور فتوحات کو صرف صوائف کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ انتظام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 17 ہجری میں کیا تھا۔ علامہ طبری لکھتے ہیں۔ و سمی الشبواتی والصوائف و سمی ذلک فی کل کورۃ۔
*بہار کے زمانے میں فوجوں کا قیام:*
فصل بہار میں فوجیں ان مقامات پر بھیج دی جاتی تھیں جہاں کی آب و ہوا عمدہ اور سبزہ و مرغزار ہوتا تھا۔ یہ قاعدہ اول اول 17 ہجری میں جاری کیا گیا۔ جبکہ مدائن کی فتح کے بعد وہاں کی خراب آب و ہوا نے فوج کی تندرستی کو نقصان پہنچایا تھا۔ چنانچہ عتبہ بن غزوان کو لکھا کہ ہمیشہ جب بہار کا موسم آئے تو فوجیں شاداب اور سرسبز مقامات میں چلی جائیں۔
(تاریخ طبری صفحہ 2486 میں ہے: و کتب عمر الی سعد بن مالک و الی عتبہ بن غزوان یتربھا بالناس فی کل حین ربیع فی اطیب ارلھم)۔
حضرت عمرو بن العاص گورنر مصر، موسم بہار کے آنے کے ساتھ ہی فوج کو باہر بھیج دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ سیر و شکار میں بسر کریں اور گھوڑوں کو چرا کر فربہ بنا کر لائیں۔
*آب و ہوا کا لحاظ:*
بارکوں کی تعمیر اور چھاؤنیوں کے بنانے میں ہمیشہ عمدہ آب و ہوا کا لحاظ کیا جاتا تھا اور مکانات کے آگے کھلے ہوئے خوش فضا صحن چھوڑے جاتے تھے۔ فوجوں کے لئے جو شہر آباد کئے گئے مثلاً کوفہ، بصرہ، فسطاط وغیرہ ان میں صحت کے لحاظ سے سڑکیں اور کوچے اور گلیاں نہایت وسیع ہوتی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس میں اس قدر اہتمام تھا کہ مساحت اور وسعت کی تعیین بھی خود لکھ کر بھیجی تھی۔ چنانچہ اس کی تفصیل ان شہروں کے ذکر میں گزر چکی۔
*کوچ کی حالت میں فوج کے آرام کا دن:*
فوج جب کوچ پر ہوتی تھی تو حکم تھا کہ ہمیشہ جمعہ کے دن مقام کرے اور ایک شب و روز قیام رکھے تاکہ لوگ دم لیں اور ہتھیاروں اور کپڑوں کو درست کر لیں۔ یہ بھی تاکید تھی کہ ہر روز اسی قدر مسافت طے کرے جس سے تھکنے نہ پائیں اور پڑاؤ وہیں کیا جائے جہاں ہر قسم کی ضروریات مہیا ہوں۔ چنانچہ سعد بن وقاص کو جو فرمان فوجی ہدایتوں کے متعلق لکھا، اس میں اور اہم باتوں کے ساتھ ان تمام جزئیات کی تفصیل بھی لکھی۔ (عقد الفرید جلد اول صفحہ 49 میں یہ فرمان بعینہ منقول ہے )۔
*رخصت کے قاعدے:*
رخصت کا بھی باقاعدہ انتظام تھا۔ جو فوجیں دور دراز مقامات پر مامور تھیں ان کو سال میں ایک دفعہ ورنہ دو دفعہ رخصت ملتی۔ بلکہ ایک موقع پر جب انہوں نے ایک عورت کو اپنے شوہر کی جدائی میں دردناک اشعار پڑھتے سنا تو افسروں کو احکام بھیج دیئے کہ کوئی شخص چار مہینے سے زیادہ باہر رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
لیکن یہ تمام آسانیاں اسی حد تک تھیں جہاں تک ضرورت کا تقاضا تھا۔ ورنہ آرام طلبی، کاہلی، عیش پرستی سے بچنے کے لئے سخت بندشیں تھیں۔ نہایت تاکید تھی کہ اہل فوج رکاب کے سہارے سے سوار نہ ہوں، نرم کپڑے نہ پہنیں، دھوپ کھانا نہ چھوڑیں، حماموں میں نہ نہائیں۔
*فوج کا لباس:*
تاریخوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کے لئے کوئی خاص لباس جس کو وردی کہتے ہیں قرار دیا تھا۔ فوج کے نام اس کے جو احکام منقول ہیں ان میں صرف اس قدر ہے کہ لوگ عجمی لباس نہ پہنیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی تعمیل پر چنداں زور نہیں دیا گیا کیونکہ 21 ہجری میں جب مصر پر ذمیوں پر جزیہ مقرر ہوا، فوج کے کپڑے بھی اس میں شامل تھے۔ اور وہ یہ تھے اون کا جبہ، لمبی ٹوپی یا عمامہ، پاجامہ (فتوح البلدان صفحہ 315) موزہ، حالانکہ اول اول پاجامہ اور موزہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتصریح منع کیا تھا۔
*فوج میں خزانچی و محاسب و مترجم، ڈاکٹر:*
فوج کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور بہت سی ایجاد ہیں جن کا عرب میں کبھی وجود نہ ملا تھا۔ مثلاً ہر فوج کے ساتھ ایک افسر خزانہ، ایک محاسب، ایک قاضی اور متعدد مترجم ہوتے تھے۔ ان کے علاوہ متعدد طبیب اور جراح ہوتے تھے۔ چنانچہ جنگ قادسیہ میں عبد الرحمٰن بن ربیعہ قاضی، زیاد بن ابی سفیان محاسب، ہلال ہجری مترجم تھے۔ (طبری واقعات 14 ہجری صفحہ 226)۔ فوج میں محکمہ عدالت سررشتہ حساب و مترجمی اور ڈاکٹری کی ابتداء بھی اسی زمانے سے ہے۔
*فنون جنگ میں ترقی:*
===============
فوجی قواعد کی نسبت ہم کو صرف اس قدر معلوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوجی افسروں کو جو احکام بھیجتے تھے ان میں چار چیزوں کے سیکھنے کی تاکید ہوتی تھی، تیرنا، گھوڑے دوڑانا، تیر لگانا، ننگے پاؤں چلنا۔ اس کے سوا ہم کو معلوم نہیں کہ فوج کو اور کسی قسم کی قواعد بھی سکھائی جاتی تھی۔ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں سابق کی نسبت فن جنگ نے بہت ترقی کی۔
عرب میں جنگ کا پہلا طریقہ یہ تھا کہ دونوں طرف کے غول بے ترتیب کھڑے ہو جاتے تھے۔ پھر دونوں طرف سے ایک ایک سپاہی نکل کر لڑتا تھا۔ اور باقی تمام فوج چپ کھڑی رہتی تھی۔ اخیر میں عام حملہ ہوتا تھا۔ اسلام کے آغاز میں صف بندی کا طریقہ جاری ہوا تھا۔ اور فوج کے مختلف حصے قرار پائے مثلاً میمنہ، میسرہ، وغیرہ لیکن ہر حصہ بطور خود لڑتا تھا۔ یعنی تمام فوج کسی ایک سپہ سالار کے نیچے رہ کر نہیں لڑتی تھی۔
سب سے پہلے 15 ہجری میں یرموک کے معرکہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت تعبیہ کی طرز پر جنگ ہوئی (علامہ ابن خلدون نے مقدمہ تاریخ میں فصل فی الحروب کے عنوان سے عرب اور فارس و روم کے طریقہ جنگ پر ایک مضمون لکھا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ تعبیہ کا طریقہ اول اول مروان بن الحکم نے قائم کیا۔ لیکن یہ غلط ہے۔ طبری اور دیگر مؤرخین نے بتصریح لکھا ہے کہ یرموک کے معرکہ میں اول اول حضرت خالد نے تعبیہ کی طرز پر صف آرائی کی تھی)۔ یعنی کل فوج جس کی تعداد چالیس ہزار کے قریب تھی، 36 صفوں میں تقسیم ہو کر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں کام کرتی تھی اور وہ تمام فوج کو تنہا لڑاتے تھے۔
*فوج کے مختلف حصے:*
۱۔ قلب: سپہ سالار اسی حصے میں رہتا تھا۔
۲۔ مقدمہ: قلب کے آگے کچھ فاصلے پر ہوتا تھا۔
۳۔ میمنہ: قلب کے دائیں ہاتھ پر رہتا تھا۔
۴۔ میسرہ: بائیں ہاتھ پر۔
۵۔ ساقہ: سب کے پیچھے۔
۶۔ طلیعہ: گشت کی فوج جو دشمن کی فوجوں کی دیکھ بھال رکھتی تھی۔
۷۔ روء: جو ساقہ کے پیچھے رہتی تھی تا کہ دشمن عقب سے حملہ نہ کر سکے۔
۸۔ رائد: جو فوج کے چارہ اور پانی تلاش کرتی تھی۔
۹۔ رکبان: شتر سوار۔
۱۰۔ فرسان: گھوڑا سوار۔
۱۱۔ راجل: پیادہ۔
۱۲۔ رماۃ: تیر انداز۔
*ہر سپاہی کو جو ضروری چیزیں ساتھ رکھنی پڑتی تھیں:*
ہر سپاہی کو جنگ کی ضرورت کی تمام چیزیں اپنے ساتھ رکھنی پڑتی تھیں۔ فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ کثیر بن شہاب (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک فوجی افسر تھے ) کی فوج کا ہر سپاہی اشیائے ذیل ضرور اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ سوئیاں، سوا، ڈورا، قینچی، سوتالی، توبڑا، چھلنی (فتوح البلدان صفحہ 18)۔
*قلعہ شکن آلات:*
قلعوں پر حملہ کرنے کے لیے منجیق کا استعمال اگرچہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں شروع ہو چکا تھا، چنانچہ سب سے پہلے 8 ہجری میں طائف کے محاصرے میں اس سے کام لیا گیا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس کو بہت ترقی ہوئی اور بڑے بڑے قلعے اس کے ذریعہ سے فتح ہوئے۔ مثلاً 16 ہجری میں بہرہ شہر کے محاصرے میں 20 منجنیقیں استعمال کی گئیں۔ محاصرے کے لئے ایک اور آلہ تھا جس کو دبابہ کہتے تھے۔ یہ ایک لکڑی کا برج ہوتا تھا جس میں اوپر تلے کئی درجے ہوتے تھے اور نیچے پہیئے لگے ہوتے تھے۔ سنگ اندازوں اور نقب زنوں اور تیر اندازوں کو اس کے اندر بٹھا دیا جاتا تھا اور اس کو ریلتے ہوئے آگے بڑھاتے چلتے تھے۔ اس طرح قلعہ کی جڑ میں پہنچ جاتے تھے اور قلعہ کی دیواروں کو آلات کے ذریعے سے توڑ دیتے تھے۔ بہرہ شہر کے محاصرہ میں یہ آلہ بھی استعمال کیا گیا تھا۔
*سفر مینا:*
راستہ صاف کرنا، سڑک بنانا، پل باندھنا، یعنی جو کام آج کل سفر مینا کی فوج سے لیا جاتا ہے اس کا انتظام بھی نہایت معقول تھا اور یہ کام خاص کر مفتوحہ قوموں سے لیا جاتا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب فسطاط فتح کیا تو مقوقس والیٔ مصر نے یہ شرط منظور کی کہ فوج اسلام جدھر کا رخ کرے گی سفر مینا کی خدمت مصری انجام دیں گے۔
( مقریزی صفحہ 163 میں ہے۔ فخرج عمر بالمسلمین و خرج معہ جماعۃ من رؤساء القبط و قد اصلحوا لھم الطریق و اقاموا الھم الجسور والا سواق)۔
چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جب رومیوں کے مقابلہ کے لئے اسکندریہ کی طرف بڑھے تو خود مصری منزل بمنزل پل باندھتے ، سڑک بناتے اور بازار لگاتے تھے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے سلوک نے تمام ملک کو گرویدہ کر لیا تھا، اس واسطے قبطی خود بڑی خوشی سے ان خدمتوں کو انجام دیتے تھے۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












