“رسالہ سلوک” اورچندنئی کتابیں
(احوال عصر)
معروف کالم نگار عبدالستار اعوان
کتاب اور مطالعہ کی اہمیت سے انکار کامطلب علم ،حکمت اوردانش مندی سے انکاراوراپنی جہالت کا اقرار ہے۔ یہ کتاب ہی ہے جو صدیوں سے مختلف نظریات،خیالات، نقطہ ہائے نظر کی حفاظت کر کے انہیں اگلی نسل تک منتقل کرتی آئی ہے۔کتاب و جرائد کا وسیع تر مطالعہ ہی اعلیٰ ظرفی ‘برداشت ‘تحمل اور دوسروں کی رائے کو سمجھ کر ان کے احترام کاسبق دیتاہے۔ہم اپنے کالموں میں اکثروبیشتر کتابوں کاتعارف کرواتے رہتے ہیں جس کامقصدمعاشرے سے مفقود ہوتے کتاب کلچرکو پھر سے زندہ کرنے کے لیے اپنے تئیں ایک کوشش کرنا ہے۔گزشتہ دنوں چند نئی کتابیں موصول ہوئی ہیں ۔آج کاکالم انہی کتابوں کے مختصر تعارف پر مشتمل ہے۔
معروف دانش ور اور مصنف متین خالد کی کتاب ”قانون تحفظ ناموس رسالت“حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ متین خالد ایک سو کے قریب کتابوں اور رسائل کے مصنف اور مولف ہیں۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت پر تاریخ ساز کام کیا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کے تحقیقی و علمی کام کو تمام مکاتب فکر میں یکساں مقبولیت حاصل ہے ۔ ”قانون تحفظ ناموس رسالت“ان کی تازہ تحقیق ہے۔
کتا ب کا انتساب قانون تحفظ ناموس رسالت کے لیے سب سے پہلے اقتدار کے ایوانوں میں آواز بلند کرنے والی مجاہدہ آپا نثار فاطمہ کے نام کیا گیا ہے۔یہ کتاب قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالت منظور کیے جانے کی مکمل روداد پر مشتمل ہے۔کتاب میں دیگر بہت سے چشم کشا حقائق بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔ 400سے زائد صفحات اور تین ابواب پر مشتمل یہ کتاب علم و عرفان پبلشر زلاہور نے خوبصورت ٹائٹل اور عمدہ کاغذ کے ساتھ شائع کی ہے۔ عا م مسلمانوں اور بالخصوص تحفظ ختم نبوت پر تحقیقی کام کرنے والے حضرات کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔
دوسری ایمان افروز کتاب کانام ”رسالہ سلوک“ہے ۔یہ تصوف پر ایک بے مثال تصنیف ہے۔ رسالہ سلوک سندھی زبان کی کتاب”رسالوسلوک جو“کا منظور اردو ترجمہ اور تفہیم ہے ۔”رسالو سلوک جو“ برصغیر کی معروف روحانی شخصیت حافظ الملت حضرت حافظ محمد صدیق قادری رحمہ اللہ (آستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف ، سندھ)کے اشعار کا مجموعہ ہے ۔اب میر حسان حیدری سہروردی نے اس قدیم سندھی کتاب کامنظوم اردو ترجمہ کیا ہے۔میر حسان حیدر ی اردو، عربی ، فارسی اور سندھی زبانوں میں بھرپور مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف سندھی شاعری کو اردو میں نظم کیا ہے بلکہ اشعار کی تفہیم و تشریح بھی کر دی ہے ۔ہر صفحے پر ایک سندھی شعر، اس کا منظوم اردو ترجمہ اورپھر اس کی تشریح کی گئی ہے۔
حافظ محمد صدیق رحمہ اللہ کے ان صوفیانہ اشعار میں ایک جہانِ معنی پنہاں ہے۔”رسالہ سلوک “میں 265سندھی اشعار ہیں۔ یہ کتاب معرفت ، حکمت اور روحانیت کے اسباق سے مزین ہے۔ کتاب کو تصوف پر موجود کتابوں اور رسائل میں ایک انتہائی اہم اورمفید اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ 330صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب حافظ الملت اکیڈمی ،خانقا ہ بھرچونڈی شریف( سندھ) نے شائع کی ہے ۔ٹائٹل دیدہ زیب اور طباعت معیاری ہے۔قیمت450روپے درج ہے ۔
”خاکہ “میرا پسندیدہ ترین موضوع ہے ۔یہ ایک ایسی صنف ِادب ہے جس میں کسی شخصیت کی اس انداز سے منظر کشی کی جاتی ہے کہ اس کے مثبت اورمنفی پہلوﺅں کونہایت خوبصورت اور شگفتہ انداز میں بیان کر دیاجاتا ہے ۔ ” خاکہ “ایک مشکل صنف ہے جوعام لکھنے والے کے بس کا کام نہیں ۔ اردو زبان کو بہترین خاکہ نویس میسر آئے ہیں۔ میری نظر میں اب تک جن خاکہ نگاروں کی کتابیں گزری ہیں اور جو نام اس وقت میرے ذہن میں آرہے ہیں ان میں شوکت تھانوی، احمد ندیم قاسمی،رشید احمد صدیقی، شورش کاشمیری،قمریورش،مشفق خواجہ،چراغ حسن حسرت،میرزا ادیب،مظہر محمود شیرانی،شاہد احمد دہلوی ، امجد علی شاکر، یوسف عالمگیرین، نظیر زیدی،جاویداختربھٹی،صادق نسیم اور چند دیگرخاکہ نگار شامل ہیں۔
گزشتہ دنوں معروف شاعراور مزاح نگار محمد عارف کی نئی کتاب ”خواتین وحضرات“موصول ہوئی تو یہ جان کربے حد خوشی ہوئی کہ واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والا یہ خوبصورت تخلیق کار خاکہ نگار ی میں بھی مہارت رکھتا ہے ۔ محمد عارف کی بہت سی کتابیں چھپ چکی ہیں اور کئی ایک زیر طبع ہیں تاہم مجھے ان کی جن کتابوں نے متاثرکیا ہے ان میں ’مردم دیدہ‘ مزاحیہ غزل کے خدو خال ، دھوپ چھاﺅں،خلفائے راشدین،یہ زیادتی ہے (مزاحیہ شاعری)شامل ہیں۔ان کے علاوہ محمد عارف کی جو کتابیں چھپ چکی ہیں ان میں منتخب مزاحیہ کلام نذیر شیخ،پنجابی ادب :چند مضامین ،رنگ برنگی کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کی دو کتابیں ”جب ہم نے سفر کیا“اور ”اہل قلم کی شگفتہ بیانیاں“زیر طبع ہیں۔
تازہ کتاب ”خواتین وحضرات“ میں محمد عارف نے 17 شاعروں اور ادیبوں کے خاکے شامل کیے ہیں ۔ محمدعارف کے اسلوب میں طنزو مزاح اور شگفتگی نمایاں ہے اور وہ خاکہ نگاری میں پوری دسترس رکھتے ہیں۔خالد مسعود خان کے خاکے میں لکھتے ہیں:”ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں ۔ گرد،گرما،گورستان اور خالد مسعود خان۔ کیونکہ گداگر تواب ملتان کے نہیں پاکستان کے مشہور ہیں“۔ڈاکٹر شعیب خان نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے :”خاکے میں شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں کے درمیان اعتدال رکھنا بے حد ضرور ی ہے اور عارف کے ہاں اس کا سلیقہ بھی ہے اور اس کا اہتمام بھی“۔معیاری اور خوبصورت کتابیں شائع کرنے والے ادارے بک کارنرجہلم نے یہ کتاب شائع کی ہے ۔صفحات کی تعداد172اور قیمت600روپے درج ہے۔
ملک محبوب الرسول قادری معروف مذہبی سکالر ، صحافی ،قلم کار اور باذوق علمی شخصیت ہیں۔طویل عرصہ سے ایک خوبصورت سہ ماہی علمی پرچہ ”انوار رضا“ شائع کر رہے ہیں۔قادری صاحب کی اب تک متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی کتاب ”موت سے ایصال ثواب تک “اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔ یہ ایک اہم موضوع پر مستند او رلاجواب تحقیق ہے۔اس کتاب میں دنیا کی حقیقت،قبر کا موت کو یاد کرنا،اللہ والوں کی موت،نماز جنازہ کے بعد دعا ،زوال کے وقت نماز جنازہ پڑھنا،حیات اولیائے کرام،بزرگوں کے مزارات پر حاضری دینا،قبر کے سامنے نماز پڑھنا،قبر کے قریب مسجد بنانا، وفات پاجانے والوں کو ایصال ثواب کرنا،میت کا منہ دیکھنا’سمیت120سے زائد عنوانات پراہم تحقیقی شرعی مسائل شامل ہیں۔225صفحات پر مشتمل یہ کتاب انٹرنیشنل غوثیہ فورم نے شائع کی ہے۔ایسی کتاب کا مطالعہ ہر پڑھے لکھے شخص کے لیے بے حد ضروری ہے








