یونیورسٹی آف جھنگ سیاست کی نظر
تحریر : سردار ملک عبداللہ کھوکھر
جھنگ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آج تک اس قدیم ضلع کے ساتھ اس کے اپنے ہی سیاست دانوں نے سوتیلی ماں والا سلوک کیا ہے.خاص طور پر شعبہ تعلیم پر ایسے وار کئے کہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں.دوسرے شہروں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کیلئے جانے والے طالب علموں کے دیرینہ مطالبہ کو دیکھتے ہوئے سابقہ دور حکومت کے سال 2015 میں جھنگ میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا گیالیکن فائلوں کے گورھ دھندے کی وجہ سے یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا. سال 2017-18 کے دوران جھنگ یونیورسٹی کی گوجرہ روڈ پر زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروالی گئ.وائس چانسلر کی بھرتی کیلئے اشتہارات بھی اخبار میں آگئے تھے.اس وقت بھی جھنگ کے سیاست دان اپنی اپنی دوکانداری چمکانے میں مصروف دیکھائی دئیے.اللہ اللہ کرکے غزالی کالج میں عارضی کلاسز کا آغاز ہوا اور یونیورسٹی کا پی سی ون منظور ہوکر دس کروڑ روپے کی گرانٹ جاری ہوگئ مگر بدقسمتی کہیں یا نااہلی اب وہ دس کروڑ روپے بھی واپس چلے گئے کے.یہ ظلم تو برداشت ہوجاتا لیکن اب جو ظلم اس ضلع کے سیاست دان کرنے جارہے ہیں وہ ایک الگ داستان ہے.یونیورسٹی آف جھنگ سیاست دانوں کی نا اہلی و بددیانتی اور وائس چانسلر کی اہلیان جھنگ سے زیادتی کچھ اسطرح سے ہیں.
گزشتہ کئی روز سے آپ کو یونیورسٹی آف جھنگ گوجرہ روڈسے چنیوٹ روڈ پر منتقل کرنے کے حوالے بہت سی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملی ہوں گیں۔ اس کے بعد آپ نےسینڈیکیٹ کے ممبر اور ایم پی اے کرنل ر غضنفر عباس قریشی کا ویڈیو بیان اور صاحبزادگان کی وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات اور یونیورسٹی کو گوجرہ روڈ پر ہی بنانے کا مطالبہ کرنے کا دعٰوی بھی سنا ہو گا۔چند روز قبل سیکرٹری ہائرایجوکیشن پنجاب ذوالفقار احمد گھمن تشریف لائے تاکہ یونیورسٹی کو الاٹ کیے گئے رقبے اور لاہور کالج برائے وومن یونیورسٹی جھنگ کیمپس اور اس کے سامنے والے رقبے کا وزٹ کیا جائے اور جھنگ کے تمام سیاسی نمائندوں سے اس حوالے سے مشاورت کی جائے سیکرٹری صاحب نے گوجرہ روڈ والے رقبے اور لاہور کالج برائے خواتین کے کیمپس کا وزٹ کیا اور یونیورسٹی آف جھنگ میں ہونے والے اجلاس کی صدارت کی جس میں وائس چانسلر, صاحبزادہ امیر سلطان, مولانامعاویہ اعظم, مہر سلطان سکندر بھروانہ, کرنل غضنفر عباس قریشی, رانا شہباز احمد,مہر محمد اسلم بھروانہ اور شاہد احمد جوئیہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے شرکت کی اس میٹنگ کے اختتام پر فیصلہ یہ ہوا کہ یونیورسٹی آف جھنگ کو دو ماہ میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی جھنگ کیمپس کی بلڈنگ کو ایوننگ کاسز کے لیے یونیورسٹی آف جھنگ کے حوالے کیا جاۓگا بعد ازاں یونیورسٹی اپنی سنڈیکیٹ سے جگہ کی تبدیلی کی منظوری لے گی اور نیا رقبہ جو چنیوٹ روڈ پر ہے وہ حاصل کرے گی اس طرح سے پہلے ملا ہوا گوجرہ روڈ والا رقبہ بھی جاتا رہے گا اور اس پر منظور شدہ PC-1 بھی فارغ ہو جائے گا 2015 میں منظور ہونے اور 2019 میں Establish ہونے والی یہ یونیورسٹی پھر زیرو سے کام شروع کرے گی عین ممکن ہے اس کام پر مزید تین سال لگ جائیں۔
اب ذرا غور فرمائیں میں چند انتہائی اہم باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
نہ جانے کیوں جھنگ کے سارے بر سر اقتدار سیاست دانوں کی عقل پر پردہ پڑچکا ہے اور وہ بار بار کہہ رہے ہیں کے ہمیں یونیورسٹی آف جھنگ کی تعمیرکے لیے ابھی 10کروڑ ملے تھےجو کہ HED نے کسی دوسری سکیم کو ٹرانسفر کر دیئے ہیں جب کہ اس کے بدلے میں ہمیں 80/85 کروڑ کی لاہور کالج برائے وومن یونیورسٹی جھنگ کیمپس کی بنی بنائی بلڈنگ مل رہی ہے میں پوچھتا ہوں کہ کیا LCWU کا وہ کیمپس Alreadyجھنگ میں نہیں ہے؟ کیا اس میں Alreadyجھنگ کی طالبات تعلیم حاصل نہیں کررہی ہیں؟ کیا وہاں ملازمین کی اکثریت جھنگ سے نہیں ہے؟ اور کیوں آپ گورنمنٹ سے اپنے شہر کے لیئے کچھ نیا لانے کی بجائے پہلے سے موجود کیمپس کی بندر بانٹ میں لگ گئے ہیں۔ اور ہاں جب آپ کے شہر میں اک نئی بلڈنگ بنے گی تو کیا جھنگ کے غریب لوگوں کو مزدوری اور کئی دوسرےلوگوں کو روزگار کا موقع نہیں ملے گا ؟ کیا نئے لوگوں کو ملازمت کی صورت میں روزگار نہیں ملے گا ؟ کیا LCWU میں پڑھنے والے سٹوڈنٹس کے علاوہ مزید سٹوڈنٹس کو ایڈمیشن حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا ؟ کیا یونیورسٹی آف جھنگ کی مزید کلاسز کوشش کرکےعارضی طور پرجامع ہائی سکول میں نہیں لگ سکتی؟یونیورسٹی کی بلڈنگ کو سہولیات سے محروم علاقہ چنیوٹ روڈ پر تعمیر کرنا کسی طرح سے مناسب نہ ہے.آپ لوگ یہی چاہتے ہیں کہ گوجرہ روڈ پر پہلے سے حاصل کردہ سرکاری رقبہ قبضہ مافیا کو دے دیا جائے اور چنیوٹ روڈ پر قبضہ لیا جائے,آپ کو اندازہ ہے کہ گوجرہ روڈ کے منظور پی سی ون کو کینسل کرواکر چنیوٹ روڈ کا پی سی ون منظور ہونے میں تقریبا سال ہاسال لگ جائیں گے.مطلب آئندہ پانچ سال تک تو یہ بلڈنگ معرض وجود میں نہیں آنے والی.اگر گوجرہ روڈ پر تعمیر شروع کی جائے اور ہمارے سیاست دان پنجاب حکومت سے فنڈز منظور کرواسکیں تو تین سال میں بلڈنگ زیر استعمال ہوسکتی ہے. اس کے علاوہ چنیوٹ روڈ پر تعمیر سے جھنگ کے طلباء کو چھ سات کلومیٹر کی بجائےچودہ پندرہ کلومیٹر سفر کرناپڑے گا.گوجرہ روڈ پر تو رات گئے تک کنوینس مل جاتی ہے چنیوٹ روڈ پر تو جانے آنے میں خاصی دشواری کا سامنارہےگا.یا تو چناب کالج کی طرح بسوں کا نظام بنایا جائے جو کہ خرچہ والا کام ہے.اس ساری صورتحال کے بعد میں آج بھی پرامید ہوں کہ شاید صاحبزادہ گروپ اپنے کئے ہوئے دعوی پر عمل کرتے ہوئے یونیورسٹی کی بلڈنگ گوجرہ روڈ پر ہی تعمیر کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے.دوسری جانب طالب علموں سے میری اس موضوع پر بات ہوئی تو انکے جذبات کچھ یوں تھے اور مطالبہ کررہے تھےکہ جھنگ کے سیاست دانوں سے گزارش ہے کہ خدارا اپنی 70 سالہ پرانی سیاسی روش کو بدلیں اورترقیاتی منصوبوں پر اپنی سیاست اور ذاتی مفادات پرستی چھوڑیں یونیورسٹی آف جھنگ کو اپنی جگہ گوجرہ روڈ پر بننے مدیں اور ہاں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھیں تاریخ کبھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی. آپ نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور اب جھنگ 60/70سال والا پرانا جھنگ نہیں رہا,یہاں کے نوجوان پڑھے لکھے اور با شعور ہیں وہ اپنا حق مانگنا, لینا اور نہ ملنے پر چھیننا بھی جانتے ہیں اب وہ سڑکوں پر آئیں گے انہیں جس فورم تک جانا پڑا وہ جاہیں گے اور یونیورسٹی کو اس کی اصلی جگہ گوجرہ روڈ پر ہی تعمیر کروا کر دم لیں گے۔
اس ساری تحریر میں یونیورسٹی آف جھنگ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کی کارکردگی ذکر نہیں آیاتھاآپ کو بتاتا چلوں بلا شبہ سب سے پہلے یہ انکا ذاتی فیصلہ تھا کہ یونیورسٹی کو گوجرہ روڈ کی بجائے چنیوٹ روڈ پر بننا چاہیے بعد میں جب انہوں نے مولانامعاویہ اعظم اور منسٹرفار ہائر ایجوکیشن کو چنیوٹ روڈ پر رقبہ وزٹ کروایا تو سیاستدان موقع ملتے ہی ڈٹ گئے اور جان بوجھ کر اسے تنازع بنا دیا جہاں تک میں جانتا ہوں اور مجھے یونیورسٹی آف جھنگ کے ملازمین سے پتہ چلا ہے کہ وی سی انتہائی نیک نیت اور شریفٌ نفس انسان ہیں لہذا خدارا جھنگ کے سیاستدانوں بلخصوص معاویہ اعظم اور بھروانہ گروپ کی سیاست کا حصہ نہ بنیں اور اگر آپ کو LCWU کی خالی کردہ جامع ماڈل سکول والی بلڈنگ نہیں مل رہی تو جلد سے جلد اپنی سینڈیکیٹ سے رینٹ کی بلڈنگ کی منظوری لے کر گوجرہ روڈ پر ہی سٹیلائیٹ ٹاون میں سے کوئی بڑی سی بلڈنگ رینٹ پر لے کر اپنا کام شروع کر دیں اور اگر جھنگ کے سیاست دان اور سینڈیکیٹ کے ممبران آپ کے کسی کام آتے ہیں تو انہیں یہ کہیں کے وہ وزیر اعلی پنجاب سے مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں یونیورسٹی آف جھنگ کی تعمیر کے لیے فنڈز رکھوائیں تاکہ اس مالی سال میں کنسٹرکشن کا کام شروع ہو سکے۔جھنگ کے ایم پی اے معاویہ اعظم سےکہوں گا کہ جناب جھنگ کی عوام کو آپ سے یہ امید نہیں تھی جو یونیورسٹی کے حوالے سے آپ کر رہے ہیں۔جھنگ کی سدا بہار غائب ایم این اے غلام بی بی بھروانہ اس صورتحال میں کسی طور میں سکرین پر نظر نہیں آرہی شاید وہ خاموشی سے پیچھے بیٹھ کر اس سازش کو کامیاب کرنے میں مصروف ہوں.چونکہ انکے ایک مخصوص بھائی چنیوٹ روڈ پر دھڑا دھڑ رقبہ خرید کرکے کالونیاں بنانے میں مصروف ہیں.یہ ایک الگ تفصیل ہے جو آئندہ تحریر میں تفصیلی بتادوں گا کہ چنیوٹ روڈ پر یونیورسٹی کے بینیفشری کون کون تھے.آخر میں تمام تر صورتحال کے بعد جس نتیجہ پر میں پہنچا ہوں کہ صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سے لیکر جھنگ کے مفاد پرست سیاستدان اور وی سی نہیں چاہتے کہ یونیورسٹی گوجرہ روڈ پر تعمیر ہو.جھنگ کے شہریوں کی وزیر اعظم عمران خان صاحب سے اپیل ہے کہ سیاستدانوں کے مفادات کو چھوڑیں عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس فیصلہ پر نظر ثانی کروائیں.












