امریکی قوم کے ردعمل میں چھپی عبرت و نصیحت
(نقطہ نظر)
کالم نگار مجیب الرحمان
خوابوں اور مواقع کی سرزمین قرار دیا جانے والا امریکہ آج افراتفری، اضطراب اور انتشار کا شکار ہےامریکی ریاست منیسوٹا میں جارج فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں احتجاج کی شدید ترین لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے سیاہ فاموں کے ساتھ زیادتیوں سے امریکی تاریخ بھری پڑی ہے موجودہ واقعے نے پرانے زخم بھی ہرے کردئیے ہیں عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور سڑکیں شہریوں سے بھر گئی ہیں مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کرگئے ہیں، گزشتہ روز چار پولیس اہلکاروں کو گولی ماردی گئی جس سے وہ زخمی ہوگئے مختلف شہروں میں دکانیں لوٹ لی گئیں یا نذر آتش کردی گئیں، جس کے بعد ملک کے بڑے 40 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے حتی کہ آخری اطلاعات تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوی بلانے کی دھمکی دیدی ہے جسے دوسری سیاسی جماعتوں نے فوج اور عوام کو آمنے سامنے لانے کے مترادف قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔
دوسری طرف احتجاج کی یہ لہر امریکہ سے نکل کر برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، نیدر لینڈ تک پھیل گئی ہے ، عالمی راہنماؤں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے رجب طیب اردگان نے اسے فاشسٹ اور نسل پرستانہ اقدام قرار دیا ہے، مئیر لندن صادق خان نے کہا ہے کہ جارج فلائیڈ کے قتل پر پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، گزشتہ روز سابق امریکی صدر باراک اوباما اپنی قوم سے امن کی بحالی کرتے ہوئے روپڑے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں یہ صورتحال ایک سیاہ فام شخص کے قتل کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے اور پوری قوم ایک آدمی کو انصاف دلانے کے لئے باہر نکل آئی ہے ، مظاہرین میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ “ہم کرونا کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکتے تھے لیکن موجودہ صورتحال میں ہم گھرنہیں بیٹھ سکے”
ظلم کسی بھی معاشرے کو برباد کردیتا ہے اور عدل و انصاف کی فراہمی اورقوم کا اس مقصد کے لئے متحد ہونا معاشروں کی زندگی کا ثبوت ہوتا ہے، اسلام بھی اسی جذبے کا درس دیتا ہے اور ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینے کی تلقین کرتا ہے چاہے وہ مظلوم مختلف رنگ ونسل اور علاقہ و مذہب سے تعلق رکھتاہو، حتی کہ اگروہ ظالم اپنے والدین ، قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت میں بھی مظلوم کا ساتھ دینے کے لئے ایک معاہدے میں حصہ لیا تھا اور نبوت کے بعد فرمایا تھا کہ اگر آج مجھے دوبارہ اسی قسم کے معاہدے میں شرکت کی دعوت دی جائے تو میں بصد خوشی اس کا حصہ بنوں گا۔
اس کے برعکس امت مسلمہ کی صورتحال یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لیوا یہ امت مظلوم کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتی ، پاکستان کی صورتحال دیکھ لیجئے کہ سانحہ ساہیوال میں ایک ہنستا بستا گھر بغیر کسی جرم کے اجاڑدیا گیا ، یتیم بچے بے سہارا چھوڑ دئیے گئے ، ان کا کوئی پرسان حال نہ رہا ، میڈیا نے بھی چند دن اپنا پیٹ بھر کر اس مسئلے کو لائق اعتنا نہ سمجھا، راؤ انوار سینکڑوں آدمیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے باوجود وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں حاضری دیتا رہا لیکن قانون کا اندھا ہاتھ اسے کیفر کردار تک نہ پہنچا سکا، ایک مظلوم بیٹی اپنا کیس لے کر تھانے جاتی ہے اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا کر واپس آتی ہے، قصور میں ایک حافظ قرآن بچہ ایک پولیس اہلکار کی ناجائز خواہش پوری نہ کرنے پر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے ، آخر یہ معاشرہ اس قدر بے حسی اور موت جیسے سناٹے کا شکار کیوں ہوگیا؟ آخر کیوں مظلوم کی حمایت میں ہماری حمیت کی رگ نہیں پھڑکتی، آخر اس مردہ اخلاقی حالت میں ہم اپنی ترقی اور عروج کے خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
قرآن کریم اس سلسلے میں واضح ہدایت دیتا ہے کہ
ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار وما لکم من دون اللہ من اولیاء ثم لاتنصرون ، سورۃ ھود، آیت نمبر 113
اور (مسلمانو!) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔
اور ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ” لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذا ب میں پکڑلے”
اہل دانش کا کہنا ہے کہ ” قوموں کی بربادی برے لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے ہوتی ہے”
لہذا اٹھئے اور متحد ہو کر ظالم کا ہاتھ مروڑ دیجئے اور زندگی کا ثبوت دیجئے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے ظالم کا انجام آپ کے ہاتھوں لکھ دیا ہو!
والسلام دعاوں کا طلبگار مجیب الرحمان








