قاتل اور مسلم امہ، تحریر ۔حافظ محمد عمر الغزالی ایوان خلافت میں خلیفۃ المسلمین کو زہر دے دیا گیا ۔زہریلے مواد نے جسم کو اندرونی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے ۔جگت خون آلود ہو چکا ہے ۔اعضاء اندر سے کٹ رہے ہیں اور گل سڑ رہے ہیں ۔فاطمہ خاتون انکی تیمارداری اور خاطر داری میں مصروف ہیں ۔دس دینار دیکر کر اہنی قبر کی جگہ خریدتے ہیں اس دوران قریبی عزیز دریافت کرتا ہے کہ اہنے اہل و عیال کے لئیے کیا چھوڑا ہے تو بتاتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ دوسری طرف فجر کی نماز میں خنجر کے ذریعے ایک اور خلیفۃ المسلمین کو خنجت کے ذریعے زہر دیا جا چکا تھا یہ حادثہ مدینہ الرسول میں منبر رسول پر ہوا تھا ۔وہ اپنی ڈاڑھی زمین پر رگڑ رہے تھے اور سسکیوں سے بھرپور آہ وزاری کر رہے تھے کہ اے خدا ان کے گناہ معاف فرما دینا ۔قبر کے عذاب سے بچا لینا ۔ایک خلیفۃ المسلمین کو انکے گھر کے اندر ہی شہر رسول مدینہ الرسول میں چالیس دن قید رکھ کر پیاسا اور بھوکہ رکھ کر قرآن کے اوپر شہید کر دیا جاتا ہے ۔پھر عراق کے شہر کوفہ کی مسجد میں دروان نماز ایک اور خلیفۃ المسلمین کو تلاور کے وار کے ذریعے زہر دیا جاتا ہے اور کہرام مچ جاتا ہے ۔پھر انہی کے صاحبزادے کو عوام الناس زہر کی وجہ سے گکیوں کے اندر تڑپتا دیکھ رہے ہیں بلکتا دیکھ رہے ہیں۔۔یہ صرف واقعات نہ ہیں بلکہ یہ ان لوگوں کا ماجرہ یے جن سے دنیائے کفر تھر تھر کانپتا تھا ۔بنو ہاشم ۔بنو عدی اور بنو امیہ کی پہچان نہ تھی بلکہ پہچان کا پیمانہ یہ تھا کہ کسی نے کفر کو عدل سے ہراساں کر رکھا تھا۔کسی نے کفر کو جہاد اور سخاوت سے پریشان کر رکھا تھا ۔کسی نے باطل کو ذوالفقار سے اضطراب میں مبتلا کر رکھا تھا ۔کسی نے عالم کفر کو انکی تمام تر سرمایہ کاری کو تباہ کرتے ہوئے اپنی زبردست مفاہمتی پالیسی کے ذریعے ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا تو کسی نے اپنے تقوی ۔مستقل مزاحی اور حقداروں کو انکا حق دیکر ۔امن سلامتی لٹا کر ۔کفر کے دلوں پر لرزہ طاری کر دیا تھا ۔پھر انہی کا قاتل دوبارہ حرکت میں آتا ہے اور صاحب ذوالفقار کے فرزند ارجمند کو پورے خاندان سمیت کرب و بلا کے میدان میں خون آلود کر دیتا ہے ان سب کا قاتل الگ الگ نہ تھا ۔بلکہ بنو ہاشم کا شہزداہ سیدنا علی ہوں یا انکے صاحبزادگان حسن وحسین ہو ۔بنو عدی کے عمر بن خطاب ہوں یا بنو امیہ کے سیدنا عثمان اور عمر بن عبدالعزیز ہوں ان سب کے قاتل شروع دن سے ایک ہی تھا جو باطل نظام کے پیروکاروں کا آلہ کار تھا ۔جو ظاہر سے تو مسلمان تھا مگر اندر سے انکے ہاتھوں بکا ہوا زلیل جانور ۔ مگر اس مکروہ فعل کے ذریعے یہود و نصاری اور انکے حواری مسلمانوں کی فتوحات کو روکنے کے لئیے اپنی گردن سے مسلم تلوار ہٹانے کے لئیے ان کو دست و گریبان آپ میں کر دیا تھا جن سے وہ فارس اور روم میں بری طرح وہ ذلیل و رسوا ہو چکے تھے ۔اور عصر حاضر تک ہم آپس میں دست وگریبان ہیں اور تقسیم کا شکار ہیں۔ حال ہی میں اسی کام کو طول دینے کے لئے عمر بن عبدالعزیز کی قبر مبارک کا تقدس پامال کیا گیا پھر خالد بن ولید کی قبر مبارک کا تقدس پامال ہوا پچھلے سال انکا جسد مبارک بھی غائب کر دیاگیا ۔جنت البقیع کو بلڈوزرز کے ذریعے منہدم کر دیا گیا ۔ ہماری تارہخ کا یہ عالم ہے کہ فرسودہ روایات سے بھری یوئی یے ۔اس پر شروع دن سے کام نہیں ہوا ہے نہ کسی بادشاہ نے اسکو مرتب کرنے کے لئیے کوئی ادارہ قائم کیا بلکہ انہی قاتلین اور ایجنٹوں کی کارستانیاں اور روایات زبان زد عام ہیں ۔پہلے عملی طور پر قاتل بنے پھر انہی مردہ ضمیروں نے کہانیاں سنا سنا کر قصے عام کئیے ۔اور دنیائے مسلم میں تفرقہ اور تقسیم پیدا کرنے کے لئیے من گھڑت روایتوں کا سیلاب آیا جن کو ایمان تو دور کی بات عقل بھی ماننے سے عاری ہے ان روایات کی تحقیق کی جائے تو نہ سر ملتا ہے نہ پیر ملتا ہے مگر ان روایات سے متاثر مسلمان نہ صرف آپس میں دست و گریباں ہیں بلکہ اپنی مقدس ہستیوں سے اختلاف میں اس قدر گرے کہ گالی گلوچ پر اتر آئے ہیں۔ جبکہ ہمارے مذہب میں گالی کو سخت برا سمجھا جاتا ہے ۔جناب رسول اللہ نے فرمایا کہ گالی دینے والا فاسق ہے ۔لیکن ہم اس قدر گر چکے ہیں کہ تاریخی روایات کی بنیاد پر گالی دینے کو ہم نے مذہب بنا لیا ہے ۔اور ہم بطور مسلمان اپنے نبی کے حکم کی نہ صرف دھجیاں اڑا رہے بلکہ فخر سے اسکو اہنے مذہب اسلام کا اہم فرض قرار دیکر حرام فعل کا شکار ہو رہے ہیں ۔لیکن شرب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگا دیا جائے تو وہ آب زم زم نہیں ہو گا اسی طرح گالی دینے والا فاسق ہی ہو گا چاہے وہ اس پر مذہب کی ملمعہ کاری کیوں نہیں کر رہا ہے۔ عصر حاضر میں مسلم تاریخ پر سب سے زیادہ تحقیق سلطنت عثمانیہ کے بانی پر کی گئی ہے ۔اور ڈرامہ بھی منظر عام پر آیا ہے جس کو اللہ نے مقبولیت اور قبولیت عامہ تامہ عطاء کی ہے اس سے کافی نوجوانان مسلم جو بھٹک چکے تھے راست پر آگئے ہیں ۔اس ڈرامے کے رائٹر کا کہنا ہے کہ مجھے جناب ارطغرل غازی ہر ہر مصنف سے صرف دس کے قرءب ہی صفحات ملے جب نو سو سال قبل کا یہ حال ہے تو تیرہ سو سال قبل کا کیا حال ہو گا ۔جبکہ کفر کی تاریخ حرف بہ حرف محفوظ ہے۔ میرا مقصد کسی مسلم بادشاہ کے حرام فعل کو حلال قرار دینا بھی نہ ہے بلکہ تاریخ کی بنیاد پر مذہب کی ننیاد استوار کرنے سے روکنا ہے ۔ہمارا مذہب قرآن ۔حدیث ۔فقہ اور اجماع امت ہے ۔ اللہ ہمیں حق سچ کے راستے ہر چلنے کی توفیق دے اور اغیار کا آلہ کار بننے سے بچائے اور اسکے اثرات سے بھی محفوظ رکھے آمین








