رحیم یار خان میں ایک افسوسناک واقع پیش آیا ہے جس میں دو بہنیں اپنی نوکرانی کو دو سالوں سے جسم فروشی پر مجبور کرتی رہیں ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر نوکرانی ان کی بات نہیں مانتی تھی تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس حوالے سےبات کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو 2 سال سے گھر میں بند کر کے رکھا گیا تھا، دونوں بہنیں مردوں کو گھر پر بلاتی تھیں جس کے بعد نوکرانی کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا تھا، انکار کرنے پر اس پر تشدد کیا جاتا تھا۔
تا ہم دونوں بہنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے بعد دونوں بہنوں سمیت 7 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کی جانب سے مزید بتائیا گیا ہے کہ دونوں بہنوں نے نوکرانی کو گھر میں قید کیا ہوا تھا، چونکہ وہ جسم فروشی سے انکار کرتی تھی، اس لئے بہنوں نے مل کر اس کے بال بھی کاٹ دیئے تھے،تازہ واقعے کے بارے میں متاثرہ لڑکی نے بتایا ہے کہ 22 مئی کو دونوں بہنوں نے 4 مردوں کو گھر پر بلایا تھا، اس کے انکار پر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تا ہم پولیس نے بتایا ہے کہ ایک دن کسی طرح رات کے وقت یہ متاثرہ لڑکی کسی طرح گھر سے بھاگ کر پولیس اسٹیشن آ گئی جس کے بعد رحیم یار خان کے عباسی ٹاؤن کے پولیس اسٹیشن میں دفعہ 347/20 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں بہنوں سمیت 7 ملزمان کا گرفتار بھی کر لیا ہے جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ واقع رحیم یار خان میں پیش آیا ہے جہاں ایک نوکرانی کو جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں لوگ اپنی زندگیاں آسان کرنے کے لئے نوکرانیاں رکھتے ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جن میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ واقع بھی کچھ اس طرح کا ہی ہے جس میں دو بہنیں اپنی نوکرانی کو دو سالوں سے جسم فروشی پر مجبور کرتی رہیں ہیں۔
رحیم یارخان، دو بہنیں اپنی نوکرانی کو دو سال سے جسم فروشی کروانے پر مجبور اور انکار پر تشدد کا نشانہ بناتی رہیں، شرمناک انکشافات سامنے آ گئے، جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں
1048












